Friday, May 23, 2014

(اقبال عظیم)

مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا سرِ بزم رات یہ کیا پوا
میری آنکھ کیسے چھلک گئی، مجھے رنج ہے یہ برا ہوا
میری زندگی کے چراغ کا یہ مزاج کوئی نیاء نہیں
ابھی روشنی ابھی تیرگی، نہ جلا ہوا نہ بجھا ہوا
مجھے جو بھی دشمنِ جاں ملا وہی ہختہ کارِ جفا ملا
نہ کسی کی ضرب غلط پڑی نہ کسی کا تیر خطا ہوا
مجھے آپ کیوں نہ سمجھ سکے کبھی اپنے دل سے بھی پوچھیۓ
میری داستانِ حیات کا تو ہر ورق ہے کھلا ہوا
جو نظر بچا کے گزر گئے میری سامنے سے ابھی ابھی
یہ میرے ہی شہرکے لوگ تھے، میری گھر سے گھر ہے ملا ہوا
ہمیں اس کا کوئی حق بھی نہیں کہ شریکِ بزمِ خلوص ہوں
نہ ہمارے پاس نقاب ہے نہ کچھ آستیں میں چھپا ہوا
میرے اک گوشہِ فکر میں میری زندگی سے عزیز تر
میرا اک ایسا بھی دوست ہے جو کبھی ملا نہ جدا ہوا
مجھے اک گلی میں پڑا ہوا کسی بدنصیب کا خط ملا
کہیں خونِ دل سے لکھا ہوا کہیں آنسوؤں سے مٹا ہوا
مجھے ہمسفر بھی ملا کوئی تو شکستہ حال میری طرح
کئی منزلوں کا تھکا ہوا، کہیں راستے میں لٹا ہوا
ہمیں اپنے گھر سے چلے ہؤے سرِ راہ عمر گزر گئی
کوئی جستجو کا صلہ ملا نہ سفر کا حق ادا ہوا

مسکرایئے


بیوی: (پیار سے) مجھے تم سے بہت پیار ہے
خاوند:(تھکا تھکا سا) مجھے بھی تم سے پیار ہے
بیوی: تم پریشان پریشان سے کیوں لگ رہے ہو؟
خاوند: کوئی خاص بات نہیں ، ویسے ہی موڈ کچھ آف ہے
بیوی: دوستوں کے ساتھ تو بہت خوش رہتے ہو، اور میرے ساتھ یہ ڈرامہ؟
خاوند: (پیار سے) ایسا کچھ نہیں ہے، میری جان۔بس کچھ طبیعت ٹھیک نہیں ہے
بیوی: ہاں ،ہاں۔اگر ابھی کسی دوست کافون آجائے تو تین منٹ میں ساری طبیعت ٹھیک ہوجائے گی 
خاوند: یہ دوست کہاں سے آگئے، بتایا تو ہے، بس موڈ کچھ خراب ہے
بیوی: مجھے دیکھ کر ہی موڈ آف ہوجاتا ہے، دوستوں کو مل کر تو بہت مزے کرتے ہو۔بڑی پوز بنا بنا کر تصویریں کھنچواتے ہو۔ پوز تو ایسے بنواتے ہو جیسے کسی لڑکی کو بھیجنی ہوں۔
خاوند: (پیار سے) بات کو کہاں سے کہاں لے جارہی ہو
بیوی: آج سب کچھ کلیئر ہوجانا چاہیئے۔
خاوند: (جھنجھلاہٹ میں) کیا کلیئر ہوجا چاہیئے ؟ 
بیوی: (کچھ کنفیوز ہوتے ہوئے) جب تم خود کلیر نہیں ہو، تو میں کیا کلیر کرواؤں؟
خاوند: (موڈ بہتر بناتے ہوئے) تمہیں آخر ہوا کیا ہے؟ آخر کس بات پر ناراض ہو؟ چلو بتاؤ نا
بیوی: تم سدھرنے والے نہیں ہو
خاوند: اچھا بتاؤ میں اپنے اندر کیا ٹھیک کروں؟
بیوی: بہت ہوگیا، اب اور نہیں۔۔۔
خاوند: ( پوری طرح کنفیوز) یہ تو بتا دو ہوا کیا ہے؟
بیوی: میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی۔
خاوند: یہ بات تمہارے ذہن میں کہاں سے آئی ؟
بیوی: میں میکے جارہی ہوں
خاوند: اچھا ٹھیک ہے
بیوی: ہاں ہاں تم یہی تو چاہتے ہو کہ میں میکے چلی جاؤں اور تم اپنی مرضی کر سکو
خاوند: ارے تم نے خود ہی تو بولا تھا، میں نےکیا غلط کہہ دیا؟
بیوی: اتنی بری لگتی ہوں تو بولا کیوں نہیں، میں خود ہی تمہاری زندگی سے چلی جاتی۔
خاوند: ( اپنے سر کے بال کھینچتے ہوے) مجھے میری غلطی تو بتا دو
بیوی: وقت آنے پر نمہیں سب کچھ یاد آجائے گا، جب میں تمہارے گھر سے چلی جاؤں گی
خاوند: اچھا تو میں انتظار کرتا ہوں ، صحیح وقت کے آنے کا۔۔
بیوی: تم کبھی تو سنجیدہ ہوجایا کرو
خاوند: اب کیا سیجیدہ ہونے کیلئے ہسپتال میں داخل ہوجاؤں
بیوی: میری طرف سے جہنم میں جاؤ۔۔۔
اٹھ کر کمرے سے نکل جاتی ہے
تین گھنٹے بعد
بیوی: تمہیں پتا ہے کہ میں تمہارے بغیر رہ نہیں سکتی ہوں۔مجھے تم سے بہت پیار ہے
خاوند: ( سب کچھ بھول کر ) مجھے بھی تم سے بہت پیار ہے
بیوی: یہ تم پریشان پریشان کیوں لگ رہے ہو؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

Thursday, May 22, 2014

تبصرہ

یہ عاجزی، تحمل، بردباری ہی تو جس نے ایسے شعور میں رہنے کا حوصلہ دے رکھا ہے جو ابھی اٹھارویں صدی میں جی رھا ہے۔ بات محض اپنے احساسات اور جذبات کو دوسروں تک پہنچانے کی نہیں ہے بلکہ ان مسائل کی نشاندگی کرنا ہے جس سے ہمارے پسیماندہ علاقوں میں خدمات سرانجام دینے والے افراد کو گزرنا پڑتا ہے۔ 
اور شائد اس گہری خلیج کی طرف بھی نشاندھی کرنا ہےجو ہماری عوام اور حکام بالا کے درمیان موجود ہے۔ جب تک ہمیں ہمارے مسائل سے اآگاہی نہیں ہوگی ۔اس شعور کو سمجھنے کی کوشش نہیں کریں گے جن کا ہمیں سامنا ہے۔ہم اپنے مسائل کو حل نہیں کر سکتے۔۔ہمارے لوگوں کی ذہن سازی آج بھی درباروں پر ہوتی ہے۔توہم پرستی ان کی گھٹی میں اتر ہوچکی ہے۔ ان کی تربیت جس تعلیم کے ذریئے ہورہی وہ اس قدر فرسودہ اورروایتی ہے کہ اس میں تبدیلی لائے بغیر کوئی بھی انقلابی قدم اٹھانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے
ہمارے دیہاتوں قصبوں اور گائوں یں رہنے والے ابھی جس شعور میں رہ رہے ہیں وہ اس قدر فرسودہ ہے کہ جس میں عزم واستقلال سے مزین معاشرہ تشکیل ہی نہیں دیا جاسکتا۔ جس میں آگہی کی گردان بے معنی ہے اور جس نے لوگوں کو اایسی بندھنوں میں جکڑ رکھا ہے جن کا تعلق نہ مذہب سے ہے نہ ثقافت سے اور نہ روایات سے ۔ بس کسی ویرانے میں اگی خرد رو جڑی بوٹیوں کی طرح معاشروں میں رچ بس گئی ہیں
یہ لوگوں کی سادگی کا مذاق نہیں ہے نہ ہی کم فہمی پر طنز ہے۔یہ تو دھرکتے دل کے ساتھ بڑے مہذبانہ، شاعرانہ اندازمیں معاشرے کے نامسائد حالات کی عکاسی ہے۔جس میں ہم لوگ جی رہے ہیں

مسکرایئے

ایگریکلچر یونیورسٹی کے پروفیسر نے جنگل میں ایک پرانے درخت کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے طلبا سے کہا۔۔۔ 
\"یہ دو سوسال پُرانا برگد کا درخت ہے، اگر اِس کی زبان ہوتی تو یہ نہ جانے کیا کہتا\"۔
ایک چرواہا جو وہیں قریب ہی موجود تھا، اُس نے کہا\" جناب یہ کہتا میں برگد نہیں پیپل کا درخت ہوں۔

Wednesday, May 21, 2014

تبصرہ


زندگی میں بھلا تسلی کیلئے محبت سے بڑی کوئی چیز ہوتی ہے؟ لگن سچی ہوتو سمندر بھی رستہ دے دیتے ہیں۔پہاڑ بھی اپنی چوٹیوں کو سرنگوں کر دیتے ہیں۔اب بھلا کوئ ذہن کی بجائے محض الفاظ کے سہارے جذبات سے کھیلنا چاہے تو پھر جو دل چاہے تصویر بنائے؟؟؟ اس فہم اور شعور کو کیا نام دوں جو چاہے تو مرد کو وحشی درندہ ثآبت کرے ۔چاہے تو کبھی آوارہ بھنورہ۔ ۔ دل کرے توکبھی دیوتا کی نظر سے دیکھے، من چاہے تو تکمیل کی جستجو میں اس کا تعاقب کرے۔۔۔۔۔۔
پانا اور کھونا محبت کی تسکین بنتے ہیں۔من کی یہ اڑان مرد بھی چاہتا ہے اور عورت بھی۔ لیکن یہ جو عورت اور مرد میں جنسی تعصب کا پہلو ہے اسے پروان مت چڑھنے دیں۔ جہاں انسان کو برابری کی بنیاد پر تقسیم کیا جارھا وہاں پر خلش، کسک جیسے الفاظ جنم نہیں لیا کرتے۔ اگر ان کو پنپنے کا موقع دیا ہی گیا ہے تو پھر مورد الزام ایک فریق کو کیوں؟ اگر مرد کے پاس خوشنما اور سحر انگیز لفظؤں کا ذخیرہ ہے تو عورت بھی دلفریب ادائوں کے فطری حسن سے مالا مال ہے۔اس کی اآواز بھی تو بہت شیریں ہے۔اس کی ہنسی میں کسی اآبشار کی دلکشی دکھائی دیتی ہے۔ اور مرد ان ادائوں کو محبت سمجھ کر بندھن کے خواب دیکھنے لگتا ہے۔ اگر محض الفاظ کے طلسم کے زیراثر عورت کوئی غلط قدم اٹھا لیتی ہے تو اس کا الزام مرد کو کیوں؟؟؟
عورت کا خمیر محبت سے اٹھایا گیا ہے۔ وہ محبت کے لئے فطری طور پر مجبور ہے۔اپنے تحفظ کیلئے۔۔۔ اپنی بقا کیلئے۔۔اس محبت کیلئے وہ مجبور بھی ہے اور خوشی کی کیفیت لئے ہوئے بھی۔۔۔لیکن محبت کی اس تلاش میں وہ فریب کھائے تو اس کا الزام مرد کو کیوں؟
مرد بھی چاہتا ہے وہ ریشمی بندھن میں بندھا رہے۔ وہ بھی ازل سے ابد تک اس بندھن کو نبھانے کیلئے تگ ودو کرتا ہے۔وہ تو اس قدر معصوم ہوتا ہے کہ عورت سے اسی وارفتگی کی ہمیشہ توقع رکھتا ہے جو اس نے پہلے دن محسوس کی تھی۔ وہ ازل ابد کے معنی اسی بندھن کے ساتھ جوڑ دیتا ہے جو اس نے پہلے دن سیکھے ہوتے ہیں ۔۔۔لیکن عورت اپنی محبت مرد سے چھین کر اسے رشتوں میں تقسیم کر دیتی ہے۔ محبت کی تلاش میں ڈگمگائے ہوئے قدموں کو مرد کے نام کر دیتی ہے۔ تو مرد کس کو الزام دے؟؟؟؟
چلو یہ مان لیا کہ مرد جو ہمیشہ تسخیر کے جذبے سے مسلح رہتا ہے اور وہ عورت کو کمزور دیکھنا چاہتا ہے لیکن اس کمزوری کا احساس ایک عورت دلائے تو الزام کس کے سر؟؟؟؟

مسکرایئے

ایک صاحب نے اپنی بیوی سے شکوہ کیا کہ تمہیں ویسی روٹیاں نہیں پکانی آتیں جیسی میری امی پکاتی تھیں۔ اس پر بیوی نے جواب دیا اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہیں ویسا اآٹا گوندھنا نہیں اآتا جیسا تمہارے ابا گوندھا کرتے تھے

Tuesday, May 20, 2014

ایک تبصرہ

یہ عاجزی، تحمل، بردباری ہی تو جس نے ایسے شعور میں رہنے کا حوصلہ دے رکھا ہے جو ابھی اٹھارویں صدی میں جی رھا ہے۔ بات محض اپنے احساسات اور جذبات کو دوسروں تک پہنچانے کی نہیں ہے بلکہ ان مسائل کی نشاندگی کرنا ہے جس سے ہمارے پسیماندہ علاقوں میں خدمات سرانجام دینے والے افراد کو گزرنا پڑتا ہے۔ 
اور شائد اس گہری خلیج کی طرف بھی نشاندھی کرنا ہےجو ہماری عوام اور حکام بالا کے درمیان موجود ہے۔ جب تک ہمیں ہمارے مسائل سے اآگاہی نہیں ہوگی ۔اس شعور کو سمجھنے کی کوشش نہیں کریں گے جن کا ہمیں سامنا ہے۔ہم اپنے مسائل کو حل نہیں کر سکتے۔۔ہمارے لوگوں کی ذہن سازی آج بھی درباروں پر ہوتی ہے۔توہم پرستی ان کی گھٹی میں اتر ہوچکی ہے۔ ان کی تربیت جس تعلیم کے ذریئے ہورہی وہ اس قدر فرسودہ اورروایتی ہے کہ اس میں تبدیلی لائے بغیر کوئی بھی انقلابی قدم اٹھانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے
ہمارے دیہاتوں قصبوں اور گائوں یں رہنے والے ابھی جس شعور میں رہ رہے ہیں وہ اس قدر فرسودہ ہے کہ جس میں عزم واستقلال سے مزین معاشرہ تشکیل ہی نہیں دیا جاسکتا۔ جس میں آگہی کی گردان بے معنی ہے اور جس نے لوگوں کو اایسی بندھنوں میں جکڑ رکھا ہے جن کا تعلق نہ مذہب سے ہے نہ ثقافت سے اور نہ روایات سے ۔ بس کسی ویرانے میں اگی خرد رو جڑی بوٹیوں کی طرح معاشروں میں رچ بس گئی ہیں
یہ لوگوں کی سادگی کا مذاق نہیں ہے نہ ہی کم فہمی پر طنز ہے۔یہ تو دھرکتے دل کے ساتھ بڑے مہذبانہ، شاعرانہ اندازمیں معاشرے کے نامسائد حالات کی عکاسی ہے۔جس میں ہم لوگ جی رہے ہیں :)