Sunday, August 17, 2014

انشأ اللہ خان انشا

کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے، باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
نہ چھیڑ اے نکہتِ بادِ بہاری راہ لگ اپنی
تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں، ہم بیزار بیٹھے ہیں
خیال ان کا پرے ہے عرشِ اعظم سے کہیں ساقی
غرض کچھ اور دُھن میں اس گھڑی میخوار بیٹھے ہیں
بسانِ نقش پائے رہرواں کوئے تمنّا میں
نہیں اٹھنے کی طاقت، کیا کریں، لا چار بیٹھے ہیں
یہ اپنی چال ہے افتادگی سے ان دنوں پہروں
نظر آیا جہاں پر سایۂ دیوار بیٹھے ہیں
کہیں ہیں صبر کس کو، آہ ننگ و نام کیا شے ہے
غرض رو پیٹ کر ان سب کو ہم یکبار بیٹھے ہیں
کہیں بوسہ کی مت جرأت دلا کر بیٹھیو ان سے
ابھی اس حد کو وہ کیفی نہیں، ہُشیار بیٹھے ہیں
نجیبوں کا عجب کچھ حال ہے اس دور میں یارو
جسے پوچھو یہی کہتے ہیں ہم بیکار بیٹھے ہیں
نئی یہ وضع شرمانے کی سیکھی آج ہے تم نے
ہمارے پاس صاحب ورنہ یوں سو بار بیٹھے ہیں
کہاں گردش فلک کی چین دیتی ہے سنا انشا
غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں
انشأ اللہ خان انشا

ساحر لدھیانوی

میرے خوابوں کے جھروکوں کو سجانے والی
تیرے خوابوں میں کہیں میرا گزر ھے کہ نہیں ؟؟
پوچھ کر اپنی نگاہوں سے بتا دے مجھ کو
میری راتوں کے مقدر میں سحر ھے کہ نہیں؟؟
چار دن کی یہ رفاقت جو رفاقت بھی نہیں
عمر بھر کے لیے آزار ھوئی جاتی ھے
زندگی یوں تو ھمیشہ سے پریشاں سی تھی
اب تو ھر سانس گراں بار ھوئی جاتی ھے
میری اُجڑی ھوئی نیندوں کے شبستانوں میں
تو کسی خواب کے پیکر کی طرح آئی ھے
کبھی اپنی سی ۔۔۔۔۔۔ کبھی غیر نظر آئی ھے
کبھی اخلاص کی مورت ۔۔۔۔۔۔ کبھی ہرجائی ھے
پیار پر بس تو نہیں ھے مرا لیکن پھر بھی
تو بتا دے کہ تجھے پیار کروں یا نہ کروں
تو نے خود اپنے تبسم سے جگایا ھے جنہیں
اُن تمناوں کا اظہار کروں یا نہ کروں
تو کسی اور کے دامن کی کلی ہے لیکن
میری راتیں تری خوشبو سے بسی رھتی ھیں
تو کہیں بھی ھو ترے پھول سے عارض کی قسم
تیری پلکیں مری آنکھوں پہ جھکی رھتی ھیں
تیرے ہاتھوں کی حرارت ترے سانسوں کی مہک
تیرتی رھتی ھے احساس کی پہنائی میں
ڈھونڈھتی رھتی ھیں تخیل کی بانہیں تجھ کو
سرد راتوں کی سُلگتی ھوئی تنہائی میں
تیرا اندازِ کرم ایک حقیقت ھے مگر
یہ حقیقت بھی حقیقت میں فسانہ ھی نہ ھو
تیری مانوس نگاھوں کا یہ محتاط پیام
دل کے خوں کرنے کا ایک اور بہانہ ھی نہ ھو
کون جانے میرے امروز کا فردا کیا ھے ؟؟
قربتیں بڑھ کے پشیمان بھی ھو جاتی ھیں
دل کے دامن سے لپٹتی ھوئی رنگیں نظریں
دیکھتے دیکھتے انجان بھی ھو جاتی ھیں
میری درماندہ جوانی کی تمناوں کے
مضمحل خواب کی تعبیر بتا دے مجھ کو
تیرے دامن میں گلستاں بھی ھیں ویرانے بھی
میرا حاصل مری تقدیر بتا دے مجھ کو
\"ساحر لدھیانوی\"

Monday, August 11, 2014

تبصرہ

بہت خوبصورت۔۔ جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ کہیں بھی کوئی لچک یا کمزوری نہیں دکھائی دے رہی۔ ایک مکمل افسانہ۔ منظرنگاری اور اسلوب کیلئے بھرپور داد ۔بہت ہی سادہ انداز میں کہانی کا آغاز کرنے کے بعد دھیرے دھیرے جس طرح کیفیات اور احساسات کو اور ماحول کے اتار چڑھائو کو لفظوں میں ڈھالا ہے وہ لاشعوری طور پر قاری کو متاثر کرتی ہوئی اس کے ذہن میں اترتی چلی جاتی ہے۔محبت کرنا اپنی جگہ ایک تسکین لئے ہوتی ہے لیکن محبت کو کھونا بھی اسے سدا بہار بنا دیتی ہے۔انسان اپنی خواہشات تو چھوڑ سکتا ہے لیکن اپنی محبت سے دستبرادی کیلئے وہ کبھی تیار نہیں ہوتا۔وصل کے لفظ میں ہمیشہ ایک امید ہوتی ہے، ایک تسکین ہوتی ہے لیکن ہجر ہمیشہ اذیت کا نام ہوتا ہے۔ جس کے ساتھ مایوسی اور تکلیف جڑی ہوتی ہے۔لیکن محبت کے جس موڑ پر یہ کہانی لکھی گئی ہے اس نے محبت کو بھی ایک سدا کی سہاگن بنا دیا ہے۔محبت بہت مضبوط چیز ہوتی ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا نہ سماج نہ روایات۔ نہ خاندان نہ معاشرہ۔ محبت مضبوط بناتی ہے طاقتور بناتی ہے۔نڈر اور دلیر بناتی ہے۔محبت کو دور تو کر سکتے ہو، قید بھی لیکن محبت سے دستبرادری پر مجبور نہیں۔فرقت کے صدمے ہوں یا پھر لذت الم۔ حقارت کے سبکی ہو یا پھر نظر اندازی کا غم لیکن جونہی محبت کو نمی میسر آتی ہے وہ پھر سے پنپنا شروع کردیتی ہے۔ایک نیا تعلق، ایک نیا بندھن، محبت کا نیا جنم ، محبت کا عمل تجدید۔۔۔ جس نفاست سے اختتام کیا ہے اس کے بعد اس کو ایک مکمل افسانہ قرار دیا جاسکتا ہے