Monday, January 18, 2016

محبت



میں جسم و جاں کے تمام رشتوں سے چاہتا ہوں
نہیں سمجھتا کہ ایسا کیوں ہے 
نہ خال و خد کا جمال اس میں، نہ زندگی کا کمال کوئی
جو کوئی اُس میں ہُنر بھی ہوگا
تو مجھ کو اس کی خبر نہیں ہے 
نہ جانے پھر کیوں! 
میں وقت کے دائروں سے باہر کسی تصوّر میں اُڑ رہا ہوں
خیال میں، خواب و خلوتِ ذات و جلوتِ بزم میں شب و روز
مرا لہو اپنی گردشوں میں اسی کی تسبیح پڑھ رہا ہے 
جو میری چاہت سے بے خبر ہے 
کبھی کبھی وہ نظر چرا کر قریب سے میرے یوں بھی گزرا
کہ جیسے وہ باخبر ہے 
میری محبتوں سے 
دل و نظر کی حکایتیں سن رکھی ہیں اس نے
مری ہی صورت 
وہ وقت کے دائروں سے باہر کسی تصوّر میں اُڑ رہا ہے
خیال میں، خواب و خلوتِ ذات و جلوت ِ بزم میں شب و روز 
وہ جسم و جاں کے تمام رشتوں سے چاہتا ہے 
مگر نہیں جانتا یہ وہ بھی
کہ ایسا کیوں ہے
میں سوچتا ہوں، وہ سوچتا ہے 
کبھی ملے ہم تو آئینوں کے تمام باطن عیاں کریں گے
حقیقتوں کا سفر کریں گے

عبیداللہ علیم


ميرے خدايا 
ميں زندگي کے عذاب لکھوں 
کہ خواب لکھوں 
يہ ميرا چہرہ، يہ ميري آنکھيں 
بُجھے ہوئے سے چراغ جيسے 
جو پھر سے جلنے کے منتظر ہوں 
وہ چاند چہرہ، ستارہ آنکھيں 
وہ مہرباں سايہ دار زلفيں 
جنہوں نے پيماں کيے تھے مجھ سے 
رفاقتوں کے، محبتوں کے 
کہا تھا مجھ سے 
کہ اے مسافر رِہ وفا کے 
جہاں بھي جائے گا 
ہم بھي آئيں گے ساتھ تيرے 
بنيں گے راتوں ميں چاندني ہم 
تو دن ميں تارے بکھير ديں گے 
وہ چاند چہرہ، ستارہ آنکھيں 
وہ مہرباں سايہ دار زلفيں 
وہ اپنے پيماں 
رفاقتوں کے، محبتوں کے 
شکست کرکے 
نہ جانے اب کس کي رہ گزر کا 
مينارہِ روشني ہوئے ہيں 
مگر مسافر کو کيا خبر ہے 
وہ چاند چہرہ تو بجھ گيا ہے 
ستارہ آنکھيں تو سو گئي ہيں 
وہ زلفيں بے سايہ ہو گئيں ہيں 
وہ روشني اور وہ سائے مري عطا تھے 
سو مري راہوں ميں آج بھي ہيں 
کہ ميں مسافر رہِ وفا کا 
وہ چاند چہرہ، ستارہ آنکھيں 
وہ مہرباں سايہ دار زلفيں 
ہزاروں چہروں، ہزاروں آنکھوں، ہزاروں زلفوں کا 
ايک سيلابِ تند لے کر 
ميرے تعاقب ميں آرہے ہيں 
ہر ايک چہرہ ہے چاند چہرہ 
ہيں ساري آنکھيں ستارہ آنکھيں 
تمام ہيں مہرباں سايہ دار زلفيں 
ميں کِس کو چاہوں، ميں کس کو چُوموں 
ميں کس کے سايہ ميں بيٹھ جاؤں 
بچوں کہ طوفاں ميں ڈوب جاؤں 
کہ ميرا چہرہ، نہ ميري آنکھيں 
ميرے خدايا ميں زندگي کے عذاب لکھوں، کہ خواب لکھو