Monday, April 28, 2014

ایک شعر

جو آنا چاہو ہزار رستے، نہ آنا چاہو تو عُذر لاکھوں
مزاج برہم، طویل رستہ، برستی بارش، خراب موسم

Wednesday, April 16, 2014

محسن نقوی

وہ اجنبی ا اجنبی سے چہرے وہ خواب خیمے رواں دواں سے
بسے ھوئے ھیں ابھی نظر میں سبھی مناظر دھواں دھواں سے
یہ سنگ ریزے عداوتوں کے وہ آبگینےسخاوتوں کے
دل ِ مسافر قبول کر لے ملا ھے جو کچھ جہاں جہاں سے
مری محبت کے واہموں سے پرے تھا تیرا وجود ورنہ
جہاں جہاں تیرا عکس ٹھہرا میں ھو کے آیا وہاں وہاں سے
تو ھم نفس ھے نہ ہمسفر ھے کسے خبر ھے کہ تو کدھر ھے
میں دستکیں دے کے پوچھ بیٹھا مکین مکیں سے مکاں مکاں سے
ابھی محبت کا اسم اعظم لبوں پہ رہنے دے جان محسن
ابھی ھے چاہت نئی نئی سی ابھی ھیں جذبے جواں جواں سے

ایک نظم

کبھی یاد آئو تو اس طرح
کہ لہو کی ساری تمازتیں
تمہیں دھوپ دھوپ سمیٹ لیں
تمہیں رنگ رنگ نکھار دیں
تمہیں حرف حرف میں سوچ لیں
تمہیں دیکھنے کا جو شوق ہو
تو دیار ہجر کی تیرگی
کو مِہ کی نوک سے نوچ لیں
کبھی یاد آئو تو اس طرح
کہ دل منظر میں اتر سکو
کبھی کھل سکو شب وصل میں
کبھی خون دل میں سنور سکو
سر رہگذر جو ملو کبھی
نہ ٹھہر سکو‘ نہ گر سکو
میرا درد پھر سے غزل بنے
کبھی گنگنائو تو اس طرح
میرے زخم پھر سے گلاب ہوں
کبھی مسکرائو تو اس طرح
میری دھڑکنیں بھی لرز اٹھیں
کبھی چوٹ کھائو تو اس طرح
کبھی یاد آئو تو اس طرح
کبھی یاد آئو تو اس طرح…!

Tuesday, April 15, 2014

کمنٹ

یہ واقعہ ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کے نمائندے نے سنایا تھا کہ بھکر کے علاقے میں ایک کوئیک کے ہاں ایبٹ کمپنی کی ایک گولی ایریبرون بہت لکھی جارہی تھی ۔ایریبرون کے بارے میں بتاتا چلوں ایک انٹی بائیاٹک ہے اور عام طور پر گلے کی خرابی کھانسی وغیرہ میں استعمال کی جاتی ہے۔۔۔ کمپنی کی نئی انتظامیہ تعینات ہوئی تو انہیں تجسس ہوا کہ ایک بار اس پریکٹشنر سے ملیں تو سہی جو پورے علاقے میں سب سے زیادہ سیل دے رھا ہے۔۔ دور دراز کے ایک گائوں میں جب اسے ملنے پہنچے تو وہاں مریضوں کا ایک جم غفیر تھا۔ جب اسے بتایا گیا کہ دوائیوں کی کمپنی سے آئے ہیں تو اس نے بھرپور استقبال کیا۔ کمپنی کے سینئر نے اپنے روایئتی انداز میں اپنی سیل مزید بڑھانے کیلئے بتایا کہ اس گولی کا استعمال کان کی انفیکشن اور جلد پر پھوڑوں اور پیشاب کی نالی میں انفیکشن کیلئے بھی کیا جاسکتاہے۔۔۔ یہ سن کر کوئیک نے بڑی حیرت سے پوچھا تو کیا یہ طاقت کی گولی نہیں ہے ؟؟؟؟؟؟ْْ

کمنٹس


کمنٹس کرنے والے تمام احباب اپنی ازدواجی حیثیت سے ضرور آگاہ کریں تاکہ کمنٹس کے وزن کا اندازہ ہوسکے۔ چونکہ رضوان بھائی کی طرف سے پیش کی گئی حدیث سے اختلاف کرنا ممکن نہیں اس لئے اپنی ذاتی رائے پیش کرنا شائد ممکن نہیں رھا۔۔
ویسے پوسٹ بالا کنوارگان کیلئے بہت سنجیدگی کی حامل ہے لیکن شدگان کیلئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا کہتے ہیں اپنے نسیم بھائی؟؟
زندگی مختصر نہ سہی لیکن اتنی طویل بھی نہیں کہ ہمسفر کیلئے صرف شریک حیات پر ہی انحصار کیا جائے۔سفر کی کلفتوں کے احساس کو رد کرنے کیلئے کیا ہاتھ تھامنا ضروری ہے؟ کیا احساس محبت کافی نہیں ؟ کیا صرف شریک حیات کے انتخاب کی لاٹری پر ساری زندگی کا انحصار ایک درست فیصلہ ہوگا۔؟ بات شعور کی ہے۔ انتخاب کی ہے۔ پسند نا پسند کی نہیں قسمت کے فیصلوں کی ہے۔
حسیب بھائی کی باتیں محظ لفظوں کی موسیقی ہے۔ جو شائد کسی کی فریاد بن کر نکلے تو کسی کی آہ کی بنیاد بنیں۔ ہم اپنی کیفیات اور احساسات کو دھیرے دھیرے لاشعوری طور پر اپنے ذہن میں ڈال دیتے ہیں۔۔ اور پھر ان احساسات کو لفظوں میں پرو کر ان کو ضروریات کا نام دے دیتے ہیں۔ یہ ضرورتیں مصنوعی نہیں ہیں ، جبلی ہیں لیکن ان کے استدال نرالے ہیں، انوکھے ہیں 
یہ سب فرسودہ بندشیں ہیں۔ بہت معذرت کے ساتھ لیکن زندگی گزارنے کیلئے ہمسفر کی ضرورت کا یہ فلسفہ محدودیت کا احساس پیدا کرتا ہے۔ زندگی مختصر سہی لیکن بہت وسیع ہے۔ وہ بے کنارہ آسمانوں کے نیچے تاحد نظع پھیلی ہوئی ہے۔ اسے محض ایک شریک حیات کے ساتھ نتھی کر دینا کہاں کا انصاف ہے۔ ؟؟؟
ہم ایک مصنوعی معاشرے میں جی رہے ہیں۔ جہاں کی اقدار بھی مصنوعی ، معاشرت بھی۔۔۔۔ کسی کے دلی احساسات کی جھلک کو پہچاننا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ہر ذہن کا شعور وہ نہیں ہوتا جو آپ کا اپنا ہو۔ ترجیحات وہ نہیں ہوتیں ہیں جو آپ کی اپنی ہوں۔سب مشاہدے اور مطالعے کے بھی قائل نہیں ہوتے۔ سب زندگی کے تجربوں سے مسلح بھی نہیں ہوتے۔کہیں سسکتے ارمان ہوتے ہیں تو کہیں عزتوں کے نگہان درکار ہوتے ہیں۔کہیں مرعوبیت درکار ہوتی ہے تو کہیں عظمت کا سکہ بٹھانے کا داعی۔۔کہیں انوکھے جذبے تو کہیں الگ طرح کے احساسات۔ کہیں کوئی فرشتہ بننے کی کوشش میں نظر آئے گا تو کہیں کوئی گریز لہجوں میں پیش ہوگا۔ یہ سب فطری تقاضے ہیں۔ محض جواز ۔۔۔محض جواز۔۔۔ 
ایک جوا ہے لگ گیا تو کسی کو یاد بھی نہیں ہوگا دھوکہ کہاں سے شروع ہوتا ہے۔ اعلی و ارفع جذبے یاد رہیں گے۔ اور جو ہار گئے تو کہاں کی تمازت کہاں کا انتخاب۔۔۔۔ بس پھر فیس بک کو ٹشو پیپر کے طور پر استعمال کیا جائے گا 
یہ سب نصیب کی باتیں ہیں۔ اور ہماری کوششیں اٹکل پچو۔
جب تمنائیں جوان ہوتی ہیں تو وہ خوہشوں کو اکساتی ہیں۔ انقلاب کا رستہ دکھاتی ہیں لیکن جب وقت کی گرمی کچھ اثر دکھاتی ہے تو یہ خواہشیں اوجھل ہوجاتی ہیں ۔انقلاب اپنا رنگ بدل لیتا ہے۔ جو اجکل کی ضرورتیں دکھائی دیتی ہیں کل وہ محض دل کو بہلانے کے کھلونے قرار پائیں گے۔ میری باتوں سے اختلاف ہوگا۔ بہت سے ان کو بے پر کی چھوڑی ہوئی باتیں قرار دیں گے۔ لیکن میں فطری تقاضوں کا انکاری نہیں لیکن محدودیت کا قائل بھی نہیں ہوں۔ 
۔جہاں سب کچھ نصیب نے اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہو وہاں کے طلسم کدے کی کنجی ڈھونڈنے کی جستجوکیسی؟

مسکرایئے

میاں بیوی کے جھگڑے۔۔۔۔ شادی کے مسائل۔۔۔۔ دوسری شادی ۔۔۔ بس کچھ ہٹ کر بھی بات کی جائے ۔ چلیں.. ذہن کو ریلیکس کریں اور کچھ بچپن کی یادیں تازہ کریں اور کٹھے میٹھے لطیفے سنیں۔ کھلکھلایئے۔۔ مسکرائیے۔۔، ہنسنا منع ہے۔۔۔، لطائف۔۔، ہا ہا ہی ہی ہو ہو۔۔۔
ایک بچے نے پیپر پر سو سو کر دیا،مس نے پوچھا یہ کیا کر دیا؟؟؟ بچے نے جواب دیا مما نے کہا تھا جو پہلے آتا ہو وہی کروں۔۔۔۔

ایک بچے نے ایک آدمی سے وقت پوچھا ، تو اس نے بتایا کہ سوا تین بجے ہیں ۔ بچے کچھ کنفیوز ہوکر بولا کہ صبح سے جس سے بھی وقت پوچھتا ہوں مختلف ہی بتا تا ہے۔۔۔۔
ایک بچہ اپنے باپ سے کہنے لگا میں دادی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ باپ حیران ہوکر بولا لیکن یہ کیسے ممکن ہے وہ تو میری امی ہے۔۔بچہ کہنے لگااس میں کیا پریشانی والی بات کیاہے ؟آپ نے بھی تو میری امی سے شادی کی ہوئی ہے۔
ایک بچہ اور بچی سکول میں بریک کے دوران اکٹھے بیٹھے تھے۔ بچی کہنے لگی کیا  ہماری شادی ہوسکتی ہے؟ بچے نے بڑی معصومیت سے جواب دیا۔مجھے مشکل نظر آتا ہے۔ ہمارے خاندان میں صرف رشتہ داروں سے شادی ہوسکتی ہے جیسے امی کی ابو سے، بھائی کی بھابھی سے، چچا کی چچی سے، تایا کی تائی سے۔۔۔
ایک لڑکا اور لڑکی کافی عرصے سے چھپ چھپ کر مل رہے تھے۔ ایک دن لڑکی کہنے لگی میں تنگ آگئی ہوں کیوں نہ ہم شادی کر لیں۔ لڑکے نے خوش ہوکر کہا۔ میرا بھی یہی خیال ہے لیکن ہم سے شادی کرے گا کون؟
ایک دن بیوی نے نے شوہر سے پوچھا کہ کیا آپ مجھ سے پیار نہیں کرتے؟ شوہر نے جواب دیا کیوں نہیں جان۔ بیوی کہنے لگی لیکن آپ کو میری ذرا پرواہ نہیں ہے؟ شوہر نے جواب دیا کیا تم نے کہاوت سنی نہیں ہے کہ پیار کرنے والے کسی کی پروا نہیں کرتے۔
ایک آدمی کو کو دل کا دورہ پڑا ۔ ہسپتال میں ایک دوست تیمارداری کرنے آیا تو کہنے لگا تم تو ہٹے کٹے تھے یہ دل کا مرض کیسے لگ گیا ۔ وہ آدمی کہنے لگا میں اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا ہوں۔ پہلے اس کا نام بادلوں پر لکھا تو ہوا ان کو لے اڑی پھر میں نے اس کا نام درختوں کے پتوں پر لکھا لیکن وہ پتے بھی خشک ہوگئے ۔ پھر میں نے اس کا نام پانی پر لکھا موجیںا سے پہا لے گئیں۔ میں نے اس کانام اپنے دل پر لکھ لیا بس پھر کیا تھا کہ دل کا دورہ پر گیا۔۔۔۔۔
ایک قیدی جیل سے فرار ہوگیا ۔لیکن دوسرے دن ہی واپس جیل میں آگیا۔ جیلر نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا۔ کل جب میں جیل سے فرار ہوا تو سارا دن خود کو چھپاتا رھا۔ رات کو جب مجھے یقین ہوگیا کہ میری تلاش رک گئی ہے تو میں اپنے گھر پہنچا تو میری بیوی کہنے لگی کہ خبروں میں تو آیا تھا تم آج صبح سے فرار ہو یہ  سارا  دن کس کے پاس
گزار کر آئے ہو۔ بس میں نے سوچا گھر سے جیل ہی بہتر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک صاحب نے شادی کی پچاسویں سالگرہ منائی تو ایک آدمی نے کامیاب ازدواجی زندگی کا راز ہوچھا تو کہنے لگے بس شادی والے دن ایک بزرگ کی بات پلے باندھ لی تھی، اس لئے۔۔۔ آدمی نے حیرت پوچھا بزرگ نے کیا نصیحت کی تھی ،ان صاحب نے جواب دیا بزرگ نے فرمایا تھا جب بھی بیوی کی کسی بات پر غصہ آئے تو گھر سے باہر نکل جانا۔۔اس آدمی نے کہا تو پھر؟ وہ صاحب بولے بس پھر کیا،  پچاس سال سڑکوں پر ہی گزر گئے ہیں

 بس بس کیا کروں قلم بہکنے لگا ہے ۔بس۔۔ بہت مسکرا لیا ۔۔۔کہیں مسکراہٹیں  سنجیدگی میں نہ بدل جائیں ۔۔ اور  پھر اعتراض اٹھنے لگیں گے
میم سین

Friday, April 11, 2014

کمنٹس




  • مرد کی طبیعت میں احساس کمتری ہوتا ہے اور وہ اسی کمی کو بیویوں پر تنقید اور طنز کے ساتھ پورا کرتے ہیں۔ مرد ناشکرا ہوتا ہے اور جلد باز بھی ۔ بیوی کے کھانے میں ایک بار نمک تیز ہوجائے تو مرد اس بات کو ایک ماہ تک نہیں بھولتا لیکن اگر مرد سے کپڑے دھوتے ہوئی کوئی کپڑا خراب ہوجائے تو بیویاں اگلے دن ہی اس سانحے کو بازار جا کر بھلا دیتی ہیں۔ مارک ٹوین سے جب کسی نے پوچھا کہ لگتا ہے کہ آپ کی شادی ہوگئی ہے تو تو مارک نے حیرت سے پوچھا کیسے جانا ؟؟؟؟ آپ کے رفو شدہ جرابوں سے ۔۔۔ مارک نے ہنس کر کہا کہ ہاں میری بیوی نے مجھے سب سے پہلے موزے رفو کرنا ہی سکھائے تھے۔۔۔۔کچھ ایسا ہی واقعہ ریڈیو پاکستان کے ایک سینئر پرڈیوسر کا ہے۔جن کے دوستوں نے جب ان کی بیوی کی تعریف ی کہ چلو شادی کا ایک فائدہ ہوا کہ اب آپ وقت پر دفتر آجاتے ہیں تو پرڈیوسر نے جواب دیا ہاں پہلے ہوٹل پر رش کی وجہ لیٹ ہوجاتا تھا لیکن اب میری بیوی نے مجھے ناشتہ بنانا جو سکھا دیا ہے۔۔۔۔ ۔ابھی کل کی بات ہے ستیانہ روڈ پر ایک خاتون گاڑی کو بیک گیئر میں پھنسا کر اپنے بیچھے ساری ٹریفک کوبند کر رکھا تھا۔ وہ تو اللہ بھلا کرے ٹریفک وارڈن کا جس نے خاتون کو پہلے گیئر کا بتا کر گاڑی کو نکالا ورنہ رات سڑک پر گزر جانا تھی۔ میں نے جی بھر کر اس خاتون کو کوسا کیونکہ وہ میری بیوی نہیں تھی ۔ کیونکہ میں نے آئندہ سے بیویوں پر تنقید کرنا چھوڑ دی ہے