کبھی یاد آئو تو اس طرح
کہ لہو کی ساری تمازتیں
تمہیں دھوپ دھوپ سمیٹ لیں
تمہیں رنگ رنگ نکھار دیں
تمہیں حرف حرف میں سوچ لیں
تمہیں دیکھنے کا جو شوق ہو
تو دیار ہجر کی تیرگی
کو مِہ کی نوک سے نوچ لیں
کبھی یاد آئو تو اس طرح
کہ دل منظر میں اتر سکو
کبھی کھل سکو شب وصل میں
کبھی خون دل میں سنور سکو
سر رہگذر جو ملو کبھی
نہ ٹھہر سکو‘ نہ گر سکو
میرا درد پھر سے غزل بنے
کبھی گنگنائو تو اس طرح
میرے زخم پھر سے گلاب ہوں
کبھی مسکرائو تو اس طرح
میری دھڑکنیں بھی لرز اٹھیں
کبھی چوٹ کھائو تو اس طرح
کبھی یاد آئو تو اس طرح
کبھی یاد آئو تو اس طرح…!