Tuesday, December 29, 2015

ایک کمنٹ

اچھا ہوا یہاں بھی نظر دوڑا لی۔ورنہ نظر ثانی کے بعد اس تحریر کی دلکشی میں جو اضافہ ہوا ہے اسے پڑھنے سے محروم رہ جاتا۔
سچ کہوں تو اس کو پڑھنے کے بعد ایک نئی سحرش سے تعارف ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔ایک نئے جذبے سے ملاقات ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک لاابالی، لاپروہ، بے تعلق سی لڑکی سے ناز ک سی، حساس لڑکی میں تبدیلی۔۔۔ ۔۔۔جو تصورات کے شیش محل کے زندگی کے ٹھوس حقائق سے ٹکڑا کر بکھڑنے سے ڈر رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو اپنے سپنوں کے موتی محل کے چور چور ہونے سے ڈر رہی ہو۔جو اس ڈر سے سہمی ہو کہیں اس کے حسیں سپنوں کا سحر ٹوٹ نہ جائے۔۔۔۔ کہیں اس کی بسائی جنت تحلیل نہ ہوجائے
بہت ہی سادہ سے جملوں کے سہارے اپنے اضطراب اور وارفتگی کو جس انداز سے کاغذ پر سمویا ہے اس کی دلفریب مہک قاری کو دیر تک اپنے حصار میں رکھتی ہے۔اپنے تخیل کی کھڑکی سے جس منظرسے متعارف کروایا ہے وہ قابل تعریف ہی نہیں قابل ستائش بھی ہے۔ایک تخیل پرست لڑکی جو اپنے تصورات سے محبت کرتی ہے۔جو اپنے کردار کے تعاقب میں پاتال سے موتی چن کے لانے کیلئے بھی تیار ہے۔
کوئی مانے یا نہ مانے ناسٹیلجیا انسانی احساسات اور جذبات کا ایک لطیف پہلو ہے۔جن تعلقات مین قلبی لگاؤ ہو ان کی یادوں کا ذہنوں پر جنبش دینا کوئی غیر فطری امر نہیں ہوتا۔کچھ لوگوں کے نزدیک ناسٹیلجیا خود اذیتی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں یہ غیر ارادی تسکین کے جذبے کا نام ہے۔انسان جب تنہا ہوتا ہے تو بے شک دلیر بھی ہو اور مستقل مزاج بھی۔۔۔۔ لیکن کسی کے ساتھ کا احساس آپ کو خود اعتمادی دیتا ہے۔۔۔۔بیتابانہ، پرجوش سیمابی خواہشوں کو جنم دیتا ہے۔۔۔۔عظم اور استقلال کے بلند مینار کھڑ ا کرتا ہے۔۔۔۔یہ غیر فطری ہر گز نہیں ہے۔۔۔یہ تو سچی لگن کا پھل ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔کل کی جھجک،حالات کی مجبوریاں، اخلاقی تقاضے اپنی جگہ لیکن آج ان کا ساتھ امتیاز بن جاتا ہے ۔۔۔فخر کا احساس ہوتا ہے۔۔۔ناسٹیلجیا تب جنم لیتا ہے جب انسان کو اپنے فریب کے حلقوں اور یقین کے طلسم کے ٹوٹنے کے خدشات باقی نہیں رہتے۔۔۔۔جب ذہن انسانی خدوخال سے متاثر نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔جب چہرے کی شگفتگی اور پژمردگی کا اندازہ آنکھوں کے بدلتے زاویوں سے نہیں ہوتا۔۔۔ جب آنکھ روح میں جھانکنا سیکھ لیتی ہے۔۔۔تب محبت کی صدائے بازگشت یقیناً سنائی دیتی ہے
انسان جب کبھی تنہائیوں کا شکار ہوجاتا ہے تو دنیا پھیکی اور بے رنگ ہوجاتی ہے۔پھولوں سے مہک اڑ جاتی ہے، بلبل گیت کی بجائے نوحے گانا شروع ہوجاتے ہیں۔۔۔۔ لیکن جب حیات کی نبض رکنا شروع جاتی ہے تو پھر وہ تعلق ، وہ سہارے، وہ محبتیں ، وہ قرب سارے، جو کہیں لاشعور کی جھلکیاں ہوتے ہیں، خیالوں کا حصہ ہوتے ہیں وہ آکر زندگی میں ایک ہلچل مچاتے ہیں ۔ایک تڑپ ایک مسرت لاتے ہیں۔جن کے خیال سے ہی روح میں ایک گدگدی کا احساس ہوتا ہے لبوں پر فردوسی مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ ہو سکتا ہے کسی کے نزدیک یہ مجروح صداقت کی مسکراہٹ ہوتی ہے۔ لیکن یہ مسکراہٹ الہامی ہوتی ہے۔جو جینے کے تقاضے مہیاکرتا ہے۔۔۔
لکھتی رہیں۔۔قلم رواں ہے۔۔ اب موضوعات کا چنائو شروع کریں

Tuesday, October 20, 2015

انشا جی



شام سمے ایک اُونچی سیڑھوں والے گھر کے آنگن میں
چاند کو اُترے دیکھا ہم نے، چاند بھی کیسا؟ پورا چاند

انشاء جی ان چاہنے والی، دیکھنے والی آنکھوں نے
ملکوں ملکوں، شہروں شہروں، کیسا کیسا دیکھا چاند

ہر اک چاند کی اپنی دھج تھی، ہر اک چاند کا اپنا روپ
لیکن ایسا روشن روشن، ہنستا باتیں کرتا چاند ؟

درد کی ٹھیس بھی اٹھتی تھی، پر اتنی بھی، بھرپور کبھی؟
آج سے پہلے کب اترا تھا دل میں میرے گہرا چاند !

ہم نے تو قسمت کے در سے جب پائے، اندھیرے پائے
یہ بھی چاند کا سپنہ ہوگا، کیسا چاند کہاں کا چاند ؟

انشاء جی دنیا والوں میں بےساتھی بے دوست رہے
جیسے تاروں کے جھرمٹ میں تنہا چاند، اکیلا چاند

ان کا دامن اس دولت سے خالی کا خالی ہی رہا
ورنہ تھے دنیا میں کتنے چاندی چاند اور سونا چاند

جگ کے چاروں کوٹ میں گھوما، سیلانی حیران ہوا
اس بستی کے اس کوچے کے اس آنگن میں ایسا چاند ؟

آنکھوں میں بھی، چتون میں بھی، چاندہی چاند جھلکتے ہیں
چاند ہی ٹیکا، چاند ہی جھومر، چہرہ چاند اور ماتھا چاند

ایک یہ چاندنگر کا باسی، جس سے دور رہا سنجوگ
ورنہ اس دنیا میں سب نے چاہا چاند اور پایا چاند

امبر نے دھرتی پر پھینکی نور کی چھینٹ اداس اداس
آج کی شب تو آندھی شب تھی، آج کدھر سے نکلا چاند

انشاء جی یہ اور نگر ہے، اس بستی کی رِیت یہی ہے
سب کی اپنی اپنی آنکھیں، سب کا اپنا اپنا چاند

اپنا سینے کے مطلع پر جو بھی چمکا وہ چاند ہوا
جس نے مَن کے اندھیارے میں آن کیا اُجیارا چاند

چنچل مسکاتی مسکاتی گوری کا مُکھڑا مہتاب
پت جھڑ کے پیڑوں میں اٹکا، پیلا سا اِک پتہ چاند

دکھ کا دریا، سُکھ کا ساگر، اس کے دم سے دیکھ لئے
ہم کو اپنے ساتھ ہی لے کر ڈوبا اور اُبھرا چاند

روشنیوں کی پیلی کرنیں، پورب پچھم پھیل گئیں
تو نے کس شے کےدھوکے میں پتھر پہ دے ٹپکا چاند

ہم نے تو دونوں کو دیکھا، دونوں ہی بےدرد کٹھور
دھرتی والا، امبر والا، پہلا چاند اور دوجا چاند

چاند کسی کا ہو نہیں سکتا، چاند کسی کا ہوتا ہے ؟
چاند کی خاطر زِد نہیں کرتے، اے میرے اچھے انشاء چاند​
 

Monday, June 22, 2015

شاعری


سُنو لوگو!!!!! 

میری آنکھیں خریدو گے؟
بہت مجبور حالات میں مجھے نیلام کرنی ہیں،
کوئی مجھ سے نقد لے لو،
میں تھوڑے دام لے لوں گا،
جو دے گا پہلی بولی ، بس اُسی کے نام کر دوں گا،
مجھے بازار والے کہتے ہیں او کم عقل تاجر،

ارے سُنو لوگو!!!!!
میں نہیں ہوں حرص کا خواہاں،
نفع نقصان کی شطرنج نہیں میں کھیلنے آیا،
کوئی مجھے کہے نہ منچلہ سا بے ہُنر تاجر،
بتا پاؤں تمہیں کہ کس تشویش میں ہوں میں

!!!!سُنو لوگو!!!
بڑی محبوب ہیں مجھ کو یہ میری نیم تر آنکیھیں،
مگر اب بیچتاہوں کہ ،،،
مجھے اک خواب کا تاوان بھرنا ہے،

موسم گل کی یہ بیتاب ہوا


جن دنوں اپنی ملاقات نہ تھی
جن دنوں شمس و قمر پاؤں کی زنجیر نہ تھے
حرکت و خواب تھے ہم، نقشہ و تصویر نہ تھے
وصل کے شہر کی محفوظ فصیلوں سے پرے
خوابِ شیریں سے جُدا
اپنی وحشت میں فنا
ہم نہ تھے دشتِ تغیر میں سلگتے ہوئے لمحے تھے کوئی
چشم ِ یزداں میں لرزتے ہوئے سائے تھے کوئی
ابر تصویر چُراتا تھا میری
پھول آواز اُڑاتا تھا تیری
جس گھڑی اپنی ملاقات ھوئی
وصل کے شہر فصیلاں میں ہمیں رات ھوئی

موسم گُل کی یہ بے تاب ھوا
دُور کھلتے ھوئے غنچوں کی صدا
ٹوٹتے ابر میں وصل اور جدائی کے نقوش
ساتھ مرنے کی سزا ہجر میں جینے کا عذاب
اندھے سینے کا خلا
تیرے سینے میں سرابوں کا خدا
یہ میرا دل، یہ تیرا دستِ تہی
کتنے برسوں سے تیری قید میں ھیں
کتنے برسوں سے میری قید میں ھیں
کتنے برسوں سے سوالی ہیں سبھی
چند لمحوں کے لئے آج کی شام
مجھ کو اپنے سے جُدا ھونے دے
آنکھ سے اشک رھا ہونے دے
ایسا ممکن ھو تو چُپ رہنے دے

نامعلوم


اب کیا لکھیں ہم کاغذ پر، اب لکھنے کو کیا باقی ھے
اک دل تھا سو وہ ٹوٹ گیا، اب لٹنے کو کیا باقی ہے
ریت کے ذروں پر ہم نے اک نقش بنایا تھا
پھر ان ریت کے ذروں‌کو ہم نے دل میں‌سجایا تھا
وہ ریت تو کب کی بکھر گئی وہ نقش کہاں اب باقی ہے
اب کیا لکھیں ہم کاغذ پر، اب لکھنے کو کیا باقی ہے

نامعلوم


جب غم مری دھڑکن مری باتوں سے عیاں تھا ، تو کہاں تھا
جب چاروں طرف درد کے دریا کا سماں تھا، تو کہاں تھا
اب آیا ہے جب ڈھل گئے ہیں سبھی موسم، مرے ہمدم
جب تیرے لئے مرا ہر احساس جواں تھا ، تو کہاں تھا
اب صرف خموشی ہے مقدر کا ستارہ ، مرے یارا
جب لب پہ فقط تیرا فقط تیرا بیاں تھا، تو کہاں تھا
اب آیا ہے جب کام دکھا بھی گیا ساون، مرے ساجن
جب چار سو میرے لئے خوشیوں کا سماں تھا، تو کہاں تھا

مسکرائیے


جنگل میں ایک چیتا چرس پینے کی تیاری کررہا تھا کہ اچانک قریب سے چوہا گذرا اور بولا ۔ اوئے چیتے ! زندگی بہت خوبصورت ہے زندگی سے پیار کرو۔ نشہ کرکے کیوں اپنی زندگی تباہ کر رہے ہو اتنا خوبصورت جنگل ہے چلو گھومتے پھرتے ہیں۔ انجوائے کرتے ہیں" ۔ چیتے کو چوہے کی بات اچھی لگی ۔ ساتھ ہولیا۔ 
تھوڑی آگے جا کر ایک ہاتھی شراب کی بوتل کھولنے کی کوشش کررہا تھا ۔ چوہا پھر بولا " اوئے انکل ہاتھی ! زندگی بہت خوبصورت ہے۔ زندگی سے پیار کرو۔ چھوڑ نشہ ، خوبصورت جنگل ہے چلو گھومتے پھرتے ہیں سیر کرتے ہیں "۔ ہاتھی کو چوہے کی بات بھا گئی اور وہ بھی ساتھ چل پڑا ۔ 
آگے جاکر دیکھا کہ شیر ہیروئن کی پڑی ہاتھ میں اٹھائے نشہ کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ چوہا اسکے پاس بھی گیا اور بولا ۔" اوئے جنگل کے بادشاہ۔ زندگی بہت خوبصورت ہے۔ یوں برباد مت کرو۔ زندگی سے پیار کرو ۔ چلو جنگل کی سیر کرتے ہیں۔ "
شیر نے چوہے کو غصے سے دیکھا اور زور سے ایک تھپڑ رسید کیا۔ ہاتھی اور چیتا حیران ہوئے اور پوچھا ۔" شیر صاحب۔ چوہے نے تو اچھی بات کی ہے۔ تھپڑ کیوں‌مارا اسے؟"
شیر بولا " یہ خبیث کل بھی بھنگ کا نشہ کرکے آیا اور یہی بات کرکے مجھے 5 گھنٹے فضول گھماتا رہا"

نامعلوم


میں تو خدا کے ساتھ ہوں، تم کس کے ساتھ ہو
ہر لمحہ لا کے ساتھ ہوں تم کس کے ساتھ ہو

مجھ کو بقائے عیش ِ توہم نہیں قبول
میں تو فنا کے ساتھ ہو تم کس کے ساتھ ہو

میں ہوں بھی یا نہیں ہوں، عجب ہے مرا عذاب
ہر لمحہ یا کے ساتھ ہوں، تم کس کے ساتھ ہو

میں ہوں غبار جادہ بود و نبود کا
یعنی ہوا کے ساتھ ہوں، تم کس کے ساتھ ہو

تم بھی تو آج مجھ سے کرو کچھ سخن کہ میں
نفی ِ انا کے ساتھ ہوں، تم کس کے ساتھ ہو

موسم مرا کوئی بھی نہیں اس زمین میں
آب و ہوا کے ساتھ ہوں، تم کس کے ساتھ ہو

ہاہا


کیا کسی نے ایسا پر امید انسان بھی دیکھا ہے۔ کیا optimistic اپروچ ہے

کسی کی بیٹی ڈرائییوار کے ساتھ بھا گ گئ۔ لوگوں نے اس سے پوچھا اب کیا کرو گے۔ اس نے جوابا کہا کرنا کیا ہے جب تک نیا ڈراءیور نہیں ملتا خود ہی کار چلاؤں گا۔

کھلکھلائے


چوہدری ایک سرکاری دفتر میں کلرک تھا۔ ایک دن اس کا باس اس کے پاس آیا اور کہنے لگا۔ 
"چوہدری، تیرے پاس سو روپے کا کھلا ہے؟ " 
چوہدری خوش مزاجی سے بولا۔ 
" کیوں نہیں، موتیاں والیو۔۔۔ ۔۔ ہنے ہی دینا واں " 
افسر اس انداز تخاطب سے گرمی کھا گیا، کہنے لگا۔ 
" چوہدری۔۔۔ یہ ایک دفتر ہے کسی دکان کا تھڑا نہیں جو اس طرح سے اپنے افسر کو مخاطب کررہے ہو۔ تم مجھے سر جی کہہ کر بلایا کرو۔ میں دوبارہ سو روپے کا بھان مانگتا ہوں اور تم سر جی کہہ کر بات کرنا۔۔۔ سمجھے!!" 
چوہدری ڈانٹ کھا کر سہم گیا، کہنے لگا۔ 
" ٹھیک ہے سر جی۔۔۔ منگو!!" 
افسر نے چوہدری سے بھان مانگا۔ چوہدری نے ایک لمحے کو سوچا اور بولا۔ 
" سر جی ! اہیہ سرکاری دفتر ہے گا۔۔۔ کوئی کریانے دی دکان نہی جے تسی بھان منگن آ گئے او۔"

ہنسئے


ایک شہری بابو اپنی چم چم کرتی کار اور چھم چھم کرتی بیگم کے ساتھ ایک دیہاتی سڑک پر خراماں خراماں اور آس پاس کے نظاروں سے لطف اندوز ہوتا جارہا تھاکہ اچانک پکی سڑک ختم ہوگئ اور کچی سڑک کا ایک ٹوٹا آگیا، اس کچی سڑک پر بے پناہ کیچڑ تھا، اور کار کیچڑ میں پھنس، شہری بابو نے بہت زور لگایا لیکن کار اندر دھنستی چلی گئ۔۔ اتنے میں ایک دیہاتی کسان اپنے ایک گدھے کے ساتھ ادھر سے گذرا، شہری بابو نے اس سے مدد مانگی۔ کسان نے کہا کہ وہ مدد تو کر دے گا، لیکن اس کیلیئے وہ پانچ سو روپے لے گا۔ بابو نے کہا کہ ٹھیک ہے، یہ لو پیسہ۔ 
کسان نے رسہ ڈال کے گدھے کو جوتا، خود بھی زور لگایا اور پل میں کار کو کیچڑ سے نکال دیا۔ کسان نے کہا کہ آج یہ دسویں کار ہے جس کو ہم نے دھکا لگایا ہے۔ بابو بولا کہ سارا دن تو تم نے دھکا لگانے میں گذار دیا، کھیتی باڑی کب کرتے ہو؟ رات کو ہل چلاتے ہوگے؟ 
کسان بولا کہ نہیں جناب، رات کو میں ہل نہیں چلاتا، رات کو تو میں سڑک کے اس کچے ٹکڑے کو پانی لگاتا ہوں

ھا ھا

پنڈ کے ایک زمیندار نے اپنا بیٹا تعلیم کیلیئے شہر بھیج دیا۔بیٹا جی کے دل میں جانے کیا سمائی کہ اس نے یونیورسٹی جاکے فلسفہ اور منطق جیسی چیزوں میں ڈگری لی۔ گاؤں واپس آیا تو ایک دن ناشتے کے وقت زمیندار نے بیٹے سے پوچھا کہ اس نے کیا سیکھا ہے؟
بیٹے نے کہا ابا جی ، آپ نہیں سمجھو گے، لیکن میں کوشش کرتا ہوں کہ ایک کو کوئی مثال دیکے سمجھاؤں۔ پھر اس نے ایک ابلا ہوا انڈا اٹھایا اور کہا، دیکھیے یہ ایک انڈا ہے، جو آپ کو نظر آرہا ہے یہ انڈے کی حقیقت ہے، اس کو آپ ابال سکتے ہیں، فرائی کرلیں یا جو کچھ بھی کرلیں۔ لیکن ایک دوسری چیز اس کی ماہیئت ہے، اس کو جاننے کیلیئے آپ کو تعلیم اور بہت سی سوچ و بچار کی ضرورت ہے۔ اس سوچ و بچار والی تعلیم کی ڈگری میں نے کی ہے، اب سمجھے نا!
زمیندار نے کچھ سوچا اور انڈا اٹھا کر منہ ڈال کر غڑپ سے کھالیا اور کہا کہ بیٹا، انڈا تو میں نے کھالیا ہے، اس کی ماہیئت تم کھالینا

ہا ہا

میاں بیوی ہر سال عوامی میلے میں جایا کرتے تھے اور جب بھی بیوی ہیلی کاپٹر میں بیٹھنے کی خواہش ظاہر کرتی۔ میاں فورا کہتا : "بیگم پانچ ہزار روپے لگیں گے اور تمہیں پتہ ہے پانچ ہزار روپے بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔"

ایک دفعہ میلے میں گئے تو بیگم بولی "میاں جی ۔ اب میں ستر سال کی ہوگئی ہوں۔ اگر اس دفعہ ہیلی کاپٹر کی سیر نہ کی تو شاید میری یہ خواہش کبھی پوری نہ ہو سکے"
میاں پھر بولا " بیگم تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ پانچ ہزار روپے بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔"
ہیلی کاپٹر کا کپتان ان کی باتیں سن رہا تھا۔ اسے خاتون پر ترس آیا اور ان سے بولا میں ایک شرط پر آپ کو ہیلی کاپٹر کی سیر کرا سکتا ہوں کہ آپ تمام راستے میں خاموش رہیں گے اور اگر کسی نے بھی منہ کھولا تو پانچ ہزار روپے دینے پڑیں گے۔"

کپتان نے بوڑھے میاں بیوی کو ہیلی کاپٹر میں بٹھاتے ہی خوب کرتب کئے۔ ہیلی کاپٹر کو دائیں بائیں موڑا۔ جھٹکے دیے۔ الٹ پھیریاں لگوائیں۔ مگر وہ میاں بیوی کے منہ سے ایک بھی لفظ نہ نکلوا سکا۔ بالآخر جب کپتان زمین پر اترا تو اس نے بوڑھے سے کہا کہ آج تک میری ایسی چالوں کے نتیجے میں مسافر کچھ نہ کچھ ضرور بول کر شرط ہار جاتے ہیں اور پانچ ہزار روپے مجھے مل جاتے ہیں۔ لیکن میری ہزار کوشش کے باوجود آپ خاموش رہے، کیوں؟

بوڑھا بولا، " کیپٹن ۔ جب تم نے ہمیں بٹھا کر پہلا کرتب دکھایا تو میری بیوی باہر گر گئی مگر ميں خاموش رہا کیوں کہ تمہیں معلوم ہے پانچ ہزار روپے بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔

چائے



بڑا عرصہ ہوا اِک دن 
بتایا تھا مجھے اُس نے 
بنانا کچھ نہیں آتا 
اگر مَیں کچھ بناتی ہوں 
تو بس چائے بناتی ہوں 
مَیں چائے کی دیوانی ہوں
بہت اچھی بناتی ہوں 
پیو گے ناں؟ 
تو مَیں اس بات پر یوں مُسکراتا ہی رہا تھا کہ
مجھے چائے سے اُلجھن ہے 
نہیں پیتا، نہیں پیتا 
مگر اِس بات کو بیتے زمانہ ہو گیا لوگو
نہیں معلوم مجھ کو کہ 
وہ کیسی ہے؟ 
کہاں پر ہے؟ 
پر اب مَیں چائے پیتا ہوں 
بڑی کثرت سے پیتا ہوں

جون ایلیا


ہم بصد ناز دل و جاں‌ میں بسائے بھی گئے
پھر گنوائے بھی گئے اور بھلائے بھی گئے

ہم ترا ناز تھے ، پھر تیری خوشی کی خاطر
کر کے بے چارہ ترے سامنے لائے بھی گئے

کج ادائی سے سزا کج کُلہی کی پائی
میرِ محفل تھے سو محفل سے اٹھائے بھی گئے

کیا گلہ خون جو اب تھوک رہے ہیں‌ جاناں
ہم ترے رنگ کے پرتَو سے سجائے بھی گئے

ہم سے روٹھا بھی گیا یم کو منایا بھی گیا
پھر سبھی نقش تعلق کے مٹائے بھی گئے

جمع و تفریق تھے ہم مکتبِ جسم و جاں‌ کی
کہ بڑھائے بھی گئے اور گھٹائے بھی گئے

جون! دل َ شہرِ حقیقت کو اجاڑا بھی گیا
اور پھر شہر توّہم کے بسائے بھی گئے

شاعری


اس وقت تو لگتا ہے کہیں کچھ بھی نہیں ہے
مہتاب نہ سورج نہ اندھیرا نہ سویرا

آنکھوں کے دریچوں میں کسی حسن کی چلمن
اور دل کی پناہوں میں کسی در کا ڈیرا

شاخوں میں خیالوں کے گھنے پیڑ کی شاید
اب آ کے کرے گا نہ کوئی خواب بسیرا

شاید وہ کوئی وہم تھا ممکن ہے سنا ہو
گلیوں میں کسی چاپ کا اک آخری پھیرا

اب بیر نہ الفت نہ کوئی ربط نہ رشتہ
اپنا کوئی تیرا نہ پرایا کوئی میرا

مانا کہ سنسان گھڑی سخت کڑی ہے
لیکن میرے دل یہ تو فقط اک ہی گھڑی ہے
ہمت کرو جینے کو تو اک عمر پڑی ہے

Wednesday, June 17, 2015

شاعر


سسکیاں سی اٹھتی ہیں
خوف کا ماتم ہے
موت بھی رقصاں ہے
ہر شخص خون میں نہایا ہے
نہ کوئی آس نہ کنارہ ہے
پھولوں نے بھی شعلے اگلے ہیں
پتے ہیں نہ کلیاں نہ کوئی ستارہ ہے
اک بے روح سمندر ہے
اور خوف کا سہارا ہے

فیض


جن دنوں اپنی ملاقات نہ تھی
جن دنوں شمس و قمر پاؤں کی زنجیر نہ تھے
حرکت و خواب تھے ہم، نقشہ و تصویر نہ تھے
وصل کے شہر کی محفوظ فصیلوں سے پرے
خوابِ شیریں سے جُدا
اپنی وحشت میں فنا
ہم نہ تھے دشتِ تغیر میں سلگتے ہوئے لمحے تھے کوئی
چشم ِ یزداں میں لرزتے ہوئے سائے تھے کوئی
ابر تصویر چُراتا تھا میری
پھول آواز اُڑاتا تھا تیری
جس گھڑی اپنی ملاقات ھوئی
وصل کے شہر فصیلاں میں ہمیں رات ھوئی

موسم گُل کی یہ بے تاب ھوا
دُور کھلتے ھوئے غنچوں کی صدا
ٹوٹتے ابر میں وصل اور جدائی کے نقوش
ساتھ مرنے کی سزا ہجر میں جینے کا عذاب
اندھے سینے کا خلا
تیرے سینے میں سرابوں کا خدا
یہ میرا دل، یہ تیرا دستِ تہی
کتنے برسوں سے تیری قید میں ھیں
کتنے برسوں سے میری قید میں ھیں
کتنے برسوں سے سوالی ہیں سبھی
چند لمحوں کے لئے آج کی شام
مجھ کو اپنے سے جُدا ھونے دے
آنکھ سے اشک رھا ہونے دے
ایسا ممکن ھو تو چُپ رہنے دے

قطعہ


چپ ہو جا اے میرے بچوں کی ماں
صرف چند لمحوں کیلئے آج کی شام
کتنے برسوں سے تیری قیدمیں ہوں
کتنے سالوں سے زباں کو تیری سنبھالا ہے میں نے
نقش باقی ہیں ابھی تک کمر پر میرے
کتنے جوتوں کی سزا کو سہارا ہے میں نے

نامعلوم شاعر

اب کیا لکھیں ہم کاغذ پر، اب لکھنے کو کیا باقی ھے
اک دل تھا سو وہ ٹوٹ گیا، اب لٹنے کو کیا باقی ہے
ریت کے ذروں پر ہم نے اک نقش بنایا تھا
پھر ان ریت کے ذروں‌کو ہم نے دل میں‌سجایا تھا
وہ ریت تو کب کی بکھر گئی وہ نقش کہاں اب باقی ہے
اب کیا لکھیں ہم کاغذ پر، اب لکھنے کو کیا باقی ہے

نامعلوم

لہو کے قطرے لہو کے قطرے
پیام طوفاں لہو کے قطے 
فروغ ایماں لہو کے قطرے
چراغ عرفاں لہو کے قطرے
لہو کے قطرے لہو کے قطرے

نوید برلب سحر بسیماں چمن بداماں لہو کے قطرے
حیات تازہ کا لے کے آئے پیام یزداں لہو کے قطرے
لہو کے قطرے لہو کے قطرے

چمکتے ہیں نقش راہ بن کر سربیاباں لہو کے قطرے
قرار پائے نشان منزل بکوئے جاناں لہو کے قطرے
لہو کے قطرے لہو کے قطرے
لہو کے قطرے جو بولتے ہیں جو غازیوں کو بلا ہے ہیں
لہو کے قطرے اذان دے کر زمانے بھر کو جگا ہے ہیں
لہو کے قطرے لہو کے قطرے
خدا کی میزان میں گراں ہیں زمیں پہ ارزاں لہو کے قطرے
فرشتے پلکوں سے چوم رہے ہیں بخاک غلطاں لہو کے قطرے

لہو کے قطرے لہو کے قطرے
لہو کے قطرے جو چرخ ہستی میں تارے بن کر چمک رہے ہیں
لہو کے قطرے جو بزم دل میں خیال بن کر جھلک رہے ہیں
لہو کے قطرے لہو کے قطرے
پیام طوفاں لہو کے قطرے 
فروغ ایماں لہو کے قطرے
چراغ عرفاں لہو کے قطرے

قطعہ


وقت کی آنچ پر پتھر بھی پگھل جاتے ہیں
قہقہے ٹوٹ کر اشکوں میں بکھر جاتے ہیں
کون نبھاتا ہے کسی کا ساتھ عمر بھر
وقت کے ساتھ خیالات بھی بدل جاتے ہیں

نامعلوم


تمہارے اور میرے درمیاں اک بات ہونا تھی
بِلا کا دن نکلنا تھا بَلا کی رات ہونا تھی
بلا کا دن بھی نکلا اور بَلا کی رات بھی گزری
عذابِ ذات بھی گزرا فنائے ذات بھی گزری
اور وہ بات ایک ہی تھی

مگر معلوم نامعلوم میں جانے نہ جانے کیوں
تمہارے اور میرے درمیاں وہ بات جانم جاں
کسی صورت نہ ہو پائی کسی صورت نہ ہو پائی
میرے دل اور میری جان کے گزرے زمانے کیوں
تمہارے اور میرے درمیاں اک بات ہونا تھی
اور وہ بات ایک ہی تھی

نامعلوم


جانے کب سے
مجھے یاد بھی تو نہیں جانے کب سے
ہم اک ساتھ گھر سے نکلتے ہیں
اور شام کو
ایک ہی ساتھ گھر لوٹتے ہیں
مگر ہم نے اک دوسرے سے
کبھی حال پرسی نہیں کی
نہ اک دوسرے کو
کبھی نام لے کر مخاطب کیا
جانے ہم کون ہیں؟
لیکن پھر بھی
نام پوچھیں یا نا پوچھیں
بات تو ایک ہی ہے

شہزاد

رَدیف ، قافیہ ، بندِش ، خیال ، لفظ گری
وُہ حُور ، زینہ اُترتے ہُوئے سکھانے لگی

کتاب ، باب ، غزل ، شعر ، بیت ، لفظ ، حُروف
خفیف رَقص سے دِل پر اُبھارے مست پری

کلام ، عَرُوض ، تغزل ، خیال ، ذوق ، جمال
بدن کے جام نے اَلفاظ کی صراحی بھری

سلیس ، شستہ ، مُرصع ، نفیس ، نرم ، رَواں
دَبا کے دانتوں میں آنچل ، غزل اُٹھائی گئی

قصیدہ ، شعر ، مسدس ، رُباعی ، نظم ، غزل
مہکتے ہونٹوں کی تفسیر ہے بھلی سے بھلی

مجاز ، قید ، معمہ ، شبیہ ، اِستقبال
کسی سے آنکھ ملانے میں اَدبیات پڑھی

قرینہ ، سَرقہ ، اِشارہ ، کِنایہ ، رَمز ، سوال
حیا سے جھکتی نگاہوں میں جھانکتے تھے سبھی

بیان ، علمِ معانی ، فصاحت ، علمِ بلاغ
بیان کر نہیں سکتے کسی کی ایک ہنسی

قیاس ، قید ، تناسب ، شبیہ ، سَجع ، نظیر
کلی کو چوما تو جیسے کلی ، کلی سے ملی

ترنم ، عرض ، مکرر ، سنائیے ، اِرشاد
کسی نے سنیےکہا ، بزم جھوم جھوم گئی

حُضُور ، قبلہ ، جناب ، آپ ، دیکھیے ، صاحب
کسی کی شان میں گویا لغت بنائی گئی

حریر ، اَطلس و کمخواب ، پنکھڑی ، ریشم
کسی کے پھول سے تلووں سے شاہ مات سبھی

گلاب ، عنبر و ریحان ، موتیا ، لوبان
کسی کی زُلفِ معطر میں سب کی خوشبو ملی
٭٭٭
کسی کے مرمریں آئینے میں نمایاں ہیں
گھٹا ، بہار ، دَھنک ، چاند ، پھول ، دیپ ، کلی

کسی کا غمزہ شرابوں سے چُور قوسِ قُزح
اَدا ، غُرُور ، جوانی ، سُرُور ، عِشوَہ گری

کسی کے شیریں لبوں سے اُدھار لیتے ہیں
مٹھاس ، شَہد ، رُطَب ، چینی ، قند ، مصری ڈَلی

کسی کے نور کو چندھیا کے دیکھیں حیرت سے
چراغ ، جگنو ، شرر ، آفتاب ، پھول جھڑی14

کسی کو چلتا ہُوا دیکھ لیں تو چلتے بنیں
غزال ، مورنی ، موجیں ، نُجُوم ، اَبر ، گھڑی

کسی کی مدھ بھری آنکھوں کے آگے کچھ بھی نہیں
تھکن ، شراب ، دَوا ، غم ، خُمارِ نیم شبی

کسی کے ساتھ نہاتے ہیں تیز بارِش میں
لباس ، گجرے ، اُفق ، آنکھ ، زُلف ، ہونٹ ، ہنسی

نامعلوم


کسی کا بھیگا بدن ، گُل کھلاتا ہے اَکثر
گلاب ، رانی ، کنول ، یاسمین ، چمپا کلی

بشرطِ فال کسی خال پر میں واروں گا
چمن ، پہاڑ ، دَمن ، دَشت ، جھیل ، خشکی ، تری

یہ جام چھلکا کہ آنچل بہار کا ڈَھلکا
شریر ، شوشہ ، شرارہ ، شباب ، شر ، شوخی

کسی کی تُرش رُوئی کا سبب یہی تو نہیں؟
اَچار ، لیموں ، اَنار ، آم ، ٹاٹری ، اِملی

کسی کے حُسن کو بن مانگے باج دیتے ہیں
وَزیر ، میر ، سپاہی ، فقیہہ ، ذوقِ شہی

نگاہیں چار ہُوئیں ، وَقت ہوش کھو بیٹھا
صدی ، دَہائی ، برس ، ماہ ، روز ، آج ، اَبھی

وُہ غنچہ یکجا ہے چونکہ وَرائے فکر و خیال!
پلک نہ جھپکیں تو دِکھلاؤں پتّی پتّی اَبھی؟
٭٭٭
سیاہ زُلف: گھٹا ، جال ، جادُو ، جنگ ، جلال
فُسُوں ، شباب ، شکارَن ، شراب ، رات گھنی

جبیں: چراغ ، مقدر ، کشادہ ، دُھوپ ، سَحَر
غُرُور ، قہر ، تعجب ، کمال ، نُور بھری

ظریف اَبرُو: غضب ، غمزہ ، غصہ ، غور ، غزل
گھمنڈ ، قوس ، قضا ، عشق ، طنز ، نیم سخی

پَلک: فسانہ ، شرارت ، حجاب ، تیر ، دُعا
تمنا ، نیند ، اِشارہ ، خمار ، سخت تھکی

نظر: غزال ، محبت ، نقاب ، جھیل ، اَجل
سُرُور ، عشق ، تقدس ، فریبِ اَمر و نہی

نفیس ناک: نزاکت ، صراط ، عدل ، بہار
جمیل ، سُتواں ، معطر ، لطیف ، خوشبو رَچی

گلابی گال: شَفَق ، سیب ، سرخی ، غازہ ، کنول
طلسم ، چاہ ، بھنور ، ناز ، شرم ، نرم گِری

دو لب: عقیق ، گُہر ، پنکھڑی ، شرابِ کُہن
لذیذ ، نرم ، ملائم ، شریر ، بھیگی کلی

نشیلی ٹھوڑی: تبسم ، ترازُو ، چاہِ ذَقن
خمیدہ ، خنداں ، خجستہ ، خمار ، پتلی گلی

گلا: صراحی ، نوا ، گیت ، سوز ، آہ ، اَثر
ترنگ ، چیخ ، ترنم ، ترانہ ، سُر کی لڑی

ہتھیلی: ریشمی ، نازُک ، مَلائی ، نرم ، لطیف
حسین ، مرمریں ، صندل ، سفید ، دُودھ دُھلی

کمر: خیال ، مٹکتی کلی ، لچکتا شباب
کمان ، ٹوٹتی اَنگڑائی ، حشر ، جان کنی

پری کے پاؤں: گلابی ، گداز ، رَقص پرست
تڑپتی مچھلیاں ، محرابِ لب ، تھرکتی کلی

تبصرہ

معلوم تھا چورنگی کی چھلنی میں سے گزرتے گزرتے اس شعر نے کہیں نہ کہیں پھنس جانا ہے۔ اس لئے شاعر کا موقف اس شعر کے بارے میں جاننے کیلئے عمل کرکے عدم کو حاضر کیا گیا لیکن عمل میں کوئی غلطی رہ جانے کی وجہ سے دو روحیں حاضر ہو گئیں۔ اس زمانے میں شناختی کارڈ کا ابھی اجرا نہیں ہوا تھا ۔ اصل یا نقل کا تعین کرنا مشکل تھا اس لئے دونوں کو اصل سمجھتے ہوئے اس شعر کا پس منظر جاننے کی کوشش کی۔۔۔۔ پہلی روح کا موئوقف تھا کہ ساری عمر رب کی ذات سے بے گانہ رہے ۔ جب اس ذات کی محبت کا جذبہ دل میں بیدار ہوا تو محبت کے اظہار کیلئے کوئی رستہ معلوم نہیں تھا ۔بھارتی فلمیں اور سٹار پلس کے ڈرامے دیکھ دیکھ کر ذہن میں خدا کی عبادت کا طریقہ یہی سمجھ میں آیا کہ ایک بت اپنے لئے بنوا لوں اور اس کی عبادت شروع کر دوں۔۔ دوسری روح کو حاضر ہونے کا کہا تو اور اس سے پس منظر جاننے کی کوشش کی تو اس نے بتایا ۔ بھئی بات سادہ سی ہے ہمیں خدا سے محبت کا دعوی تو ہے لیکن مسجد کا مطابہ کیا تھا کہ مسجد میں بیٹھ کر رب سے ہمکلام ہوسکوں گا لیکن شعر میں لفظ مسجد شعر کا وزن خراب کر رہا تھا۔ لفظ بت بھی عبادت کے معنوں میں آتا ہے اور چونکہ صوفیا کرام کے نزدیک ایسی ترکیب کا استعمال غیر مقبول نہیں ہے۔ اس لئے میں نے بلا ججھک استعمال کر ڈالا

ایک سوچ


یہاں سے پہلا المیہ شروع ہوتا ہے۔ ہم تعلیم کا نام تو لینے ہیں اور اس کی افادیت اور اہمیت سے بھی آگاہ ہوجاتے ہیں اور اس کے فروغ کیلئے راضی بھی ہو جاتے ہیں اور دوسروں کو کر بھی لیتے ہیں ۔ لیکن کیا ہمارا نظام تعلیم، تعلیم کے ساتھ تربیت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس نے پمارے نظام تعلیم پر ہمیشہ بیسیوں انگلیاں کھڑی کر رکھی ہیں ۔۔ ہمارے تعلیمی ادارے تو اس شعور کو بھی چھین رہے ہیں جو وہ گھر سے لیکر آتے ہیں

ڈاکٹر محسن کی رائے کو آگے بڑھاتے ہوئے کہوں گا ، مسئلہ تو شروع ہی تب سے ہوتا ہے جب ہم نے عورت کو اس کے حقوق سے آگاہی دلائی۔ جب تک ہاتھ پکڑ کر جوڑے بنائے جانے کا رواج تھا تب تک تو ہمیں ڈپٹی نذیر احمد کی باتوں پر یقین کرلینے سے مسائل کا حل مل جاتا تھا۔ لیکن مسئلہ شروع ہی اکسویں صدی کے شعور سے ہوتا ہے۔ وہ شعور جو دراصل tame کئے بغیر مغرب سے لا کر ہمیں سکھا دیا گیا۔ اور ہم نے اندھی تقلید میں اس ادھورے شعور کو معاشرے پر نافذ بھی کر دیا۔ ہم بیسویں صدی کے شعور کو لیکر اکسویں صدی کی عورت کے ساتھ چل نہیں سکتے۔ لیکن اس عورت کو بھی اپنے حقوق کے ساتھ اپنے فرائض کے بارے میں سوچنا ہوگا۔۔۔۔

جہاں تک مذہب کی بات ہے تو پھر ہمیں اسے پورا موقع دینا ہوگا، محض اپنی خواہشوں کے ساتھ اس اپنی مرضی میں ڈھالنے سے مسائل الجھیں گے۔ ہاں مذہب ایک حل ہے

گیان

میں گیان ، دھیان کا بندہ تو نہیں ہوں۔لیکن میں وجدانی طور پر ڈاکٹر صاحب کے درد کو محسوس کر سکتا ہوں۔جن سینوں میں ارمان ہوں، ولولے اور تمنائیں ہوں وہ رسمی اور دنیاوی بیماریوں سے دور ہوتے ہیں۔ ان کے جسم کبھی کرب کا شکار نہیں ہوتی۔ وہ ہمیشہ روح کے گھائو کا شکار ہوتے ہیں۔ شدت جذبات کے احساس سے دور رہیں گے تو ایک نئی صبح سے ہمکنار ہو جائیں گے سر درد تو کیا ان کی روح بھی توانا ہوجائے گی :) چلیں جی ڈاکٹر صاحب کسی بن میں دو دن بسرام کریں ۔۔۔۔سر درد انشاللہ فشوں۔۔۔۔ بن میں جانے کو جی نہ چاہے تو ایک آدھ دن کیلئے ہمیں رونق بخش دیں
دماغ جسم کا ایک عضو ہے۔ اسے بھی دوسرے اعضا کی طرح آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔مجھے لگتا ہے زیادہ استعمال کی وجہ سے لیکٹیک ایسڈ جمع ہوگیا ہے :) آپ کے اندر جو کشمکش ہے، جو الجھنیں ہیں ان کا ردعمل کہیں نہ کہیں تو نکلنا ہے۔ کب تک قلم آپ کے اندر طغیانیوں کے دبائو کو کم کرتا رہے گا۔جب زندگی کے بوجھ کا احساس کریں گے اوراحساس کو محسوسات میں ڈھالیں گے تو سر درد تو دور کی بات ہے ، راکھ کی طرح سلگھنا بھی شروع کرسکتے ہے۔جو شخص خود محبت کی فراوانی لئے ہوئے ہو، جو زندگی کے مفہوم کے انکشافات کا سامنا کرنے کیلئلے ہر دم تیار رہتا ہو۔ اس کیلئے سر درد کوئی معنی نہیں رکھتا۔کسی کے ہونٹوں کی مسکان دل میں گلاب کھلا دے گی،کسی کی متبسم آنکھیں سر درد ہٹا دیں گی :) میری مانیں چند دن کیلئے حد سے بڑھے احساس کو کچھ لمحوں کا سکون دے دیں۔ میری مانیں تو کچھ آرام کریں۔کچھ دیر انسان کے بنے اس سماج سے دور رہ کر دیکھیں۔

نروان



کسی بھی تحریر کی کامیابی کا انحصار اگر یہ قرار دیا جائے کہ پڑھنے کے بعد قاری اس کے حصار میں آجاتا ہے اور اگر یہ معیار درست ہے تو ایک بہترین تحریر ہے۔
میں اسے خودآگہی کا ایک اٹل قدم کہوں گا جس سے مصنف نے روشناس کروایا ہے۔ خودآگہی ایک تلخ حقیقت ہوتی ہے لیکن یہ ایک ایسی نعمت ہے جس سے بہت کم لوگ فیض یاب ہوتے ہیں۔ تحریر کی بہترین خوبی یہ ہے کہ اس میں نہ تو کوئی دوسرا آدمی نظر آتا ہے اور نہ ہی تیسرا اآدمی ۔ یہاں صرف قاری اور قاری کے احساسات کا تحریر کے ساتھ ایک رشتہ نظر آتا ہے۔
زندگی کی ایک انتہا ہوتی ہے، جس کے پیچھے سب گامزن ہوتے ہیں۔وہ تسکین کا ایک مقام ہے جسے کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ سعادتوں کا مقام ہوگا، مسرتوں کی عطا ہوگی، وہ انتہا بے حد حسین ہوگی۔ لیکن حقیقت کچھ اور اور ہوتی ہے۔ زندگی کی اس انتہا کی حقیقت کی بازگشت بارھا ہمیں سنائی دیتی ہے۔اپنے وجودکا بارھا احساس دلاتی ہے ۔لیکن ہر بار تھپکی دے کر سلا دیتے ہیں۔مجبوریوں کا عذر سامنے رکھ کر اسے رکھ کر بھول جاتے ہیں اور ذہن کے کسی گوشے میں گم کر بیٹھتے ہیں۔لیکن اس تحریر کا کمال یہ کہ سچائی کا زہر سینوں میں اتار کر، مصنف قاری سے اس حقیقت کو منوا لیتا ہے

مثبت سوچ

بہت خوبصورت تحریر ہے..لیکن خواتین نے جس قدر اپنا کردار دوسرے شعبوں میں ادا کیا ہے میرے خیال میں اردو ادب ان سے ابھی بہت کچھ مطالبہ کرتا ہے...لیکن اچھی بات یہ ہے کہ تخلیق کا یہ عمل جو کچھ عرصہ قبل روبہ زوال دکھائی دے رھا تھا، الیکٹرانک میڈیا کی ترقی کے ساتھ کافی حرکت میں نظر آرھا ہے.نوجوان طبقہ نہ صرف دلچسپی دکھا رھا ہے بلکہ اپنا حصہ بھی ڈال رھا ہے..اور نوجوان طبقے کے فعال کردار نے ایک جدت دی ہے اور نئی جہتوں سے روشناس کروا رھا ہے..اور امید ہے آنے والے دنوں میں ہم ادب کی کئی نئی صنفوں سے روشناس ہونگے...تمام ممبران کو اس مضمون کو پڑھنے کی دعوت دونگا..کہ اس میں بہت سی حوصلہ افزا پہلوئوں کی نشاندھی کی گئی ہے جو شائد اکثر لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہوں

کمنٹ

بہت خوبصورت، میری طرف سے بھی داد سمیٹ لیں۔ افسانہ معاشرے کا عکاس ہے تو کیا انگریزی کے الفاظ اس مین ہضم نہیں ہونے چاہیئں ؟ حقیقی زندگی کو جب آپ قلم سے کاغذ پر منتقل کررہے ہیں تو اسے فطرت کے قریب ہونا چاہیئے اور آج ہم جس معاشرے مین رہ رہے ہیں اس کی عکاسی کسی سٹوڈیو میں کریں گے تو وہ کیسے اپنا مفہوم ادا کر پائے گا؟ ہر دور کا ایک فہم اور شعور ہوتا ہے اشفاق احمد کا فسانہ ایک ڈرائنگ روم میں یا کسی ڈرامائی انداز میں بیان کیا جاسکتا تھا تھا لیکن آج اسے حقیقت سے قریب تر رکھنے کی ضرورت ہے،آج کا افسانہ تیزی سے ارتقا پذیر ہے اور آج افسانے کی اقدار تبدیل ہوچکی ہیں احساسات کے کئی نئے اور لطیف پہلو سامنے آچکے ہیں۔اس لئے میرے خیال میں ایسی کنکریوں کو ہضم کرنے کی ضرورت ہے

کونج تبصرہ


سارا ادب کلاسکی نہیں ہوتا،ہر تحریر انمول جذبے لئے نہیں ہوتی، معصوم رویوں کی عکاس نہیں ہوتی، ہر تحریر پیغمبرانہ اقوال کے ساتھ مزین نہین ہوتی،لیکن کیا کریں احساسات اور جذبات کا ۔۔جو تکمیل خواہش کو کبھی رد نہین کرتیں،ہمیشہ اکساتی ہیں ۔ہمارے مطالعے اور مشاہدے ہمیں تجربات سے مسلح کر دیتے ہیں اگر ہم وہ بوجھ قلم اور کاغذ کی صورت میں نہ اتاریں تو وہ مصنوعی اجنبیت پیدا کردیتا ہے۔وہ اجنبیت جو ہماری ذات میں ایک خلا پیدا کردیتی ہے۔ اسلئے کسی کلاسکی ادب کے جنم کا انتظار کئے بغیر ہی قلم رواں رکھتے ہیں۔

Iqbal Hasan آپ کے قلم کے ایک خاص تاثر نے میرے قلم اورکہانی کے درمیان ایک ایک خاص رشتہ قائم کردیا ہے آپ کے چند جملوں نے میرے

میرا خیال تھا افسانے کی طوالت انسانی المیوں اور رویوں کو اجاگر کرنے میں مدد دے گی جس کے بنیادی کردار کو حقائق سے گریزاں ایک رومانوی رنگ دے کر کہانی کو مضبوط کرنے کی کوشش کی تھی ۔جو کلائمکس میں اصل مقصدیت کو اجاگر کرنے کیلئے ضروری تھا ۔کہاں تک کامیاب رہا، کچھ کہہ نہیں سکتا کیونکہ یہ افسانہ اس وقت منظر عام پر آیا جب افسانوں کی تعداد اپنی خطرناک حد کو عبور کرچکی تھی اور سینئر ممبر بیچارے اپنے تاثرات دے دے کر تھک چکے تھے :) بنیادی طور پر میں ایک افسانہ نگار نہیں ہوں ۔لیکن افسانہ لکھنے کی یہ میری پہلی کوشش تھی اور مجموعی طور پر اب تک لکھے گئے چند افسانوں میں سے ایک، اگر کمی اور کوتاہیوں کو اجاگر کیا جاتا تو مجھے زیادہ بہتر رہنمائی میسر آجاتی، انسانی زندگی ہمیشہ ارتقا کی جانب گامزن ہوتی ہے میرے قلم نے جو آج لکھا ہے وہ شائد کل میں رد کردوں ، اور جو آج لکھنا چاہ رہا ہوں وہ کل کو اپنا اثر کھو دے۔ انسان آخر انسان ہے اس کی سوچ کبھی حتمی نہیں ہوسکتی لیکن ارتقا کا سفر اگر رہنمائی میں گزارا جائے تو کم وقت میں وہ منزلیں طے پا جاتی ہیں جن سے خودآگہی کے خوف سے وہ ہمیشہ گریزاں رہتا ہے ۔ ان تمام ممبران کا شکریہ جنہوں نے قیمتی وقت میں سے کچھ لمحے نکال کر اپنی رائے سے آگاہ کیا

محبت


قطرے سے گہر بننے کا سفر کتنا ہے؟ ہونے یا نہ ہونے کا ۔ محبت ہارتی نہیں ہے ۔کبھی بھی نہیں ۔
محبت وہ اعتماد لے کر آتی ہے جو ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ایک تسکین اور آسودگی لاتی ہے۔انسانی احساسات کا ایک ایسا لطیف پہلو بیدار کرتی ہے۔جو لافانی جذبے لئے ہوتا ہے۔محبت شکست یا کامیابی کا نام نہیں ہے ۔نہ ہی کسی احساس برتری یا غیر ارادی تسکین کا نام۔لیکن ۔لیکن ۔ زندگی کی قدریں اگر کوئی پابندیاں عائد کرے تو تو وہ قبول کرنا چاہیئں۔۔

ایک شادی


کمنٹس کرنے والے تمام احباب اپنی ازدواجی حیثیت سے ضرور آگاہ کریں تاکہ کمنٹس کے وزن کا اندازہ ہوسکے۔ :) چونکہ رضوان بھائی کی طرف سے پیش کی گئی حدیث سے اختلاف کرنا ممکن نہیں اس لئے اپنی ذاتی رائے پیش کرنا شائد ممکن نہیں رھا۔۔
ویسے پوسٹ بالا کنوارگان کیلئے بہت سنجیدگی کی حامل ہے لیکن شدگان کیلئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا کہتے ہیں اپنے نسیم بھائی؟؟
زندگی مختصر نہ سہی لیکن اتنی طویل بھی نہیں کہ ہمسفر کیلئے صرف شریک حیات پر ہی انحصار کیا جائے۔سفر کی کلفتوں کے احساس کو رد کرنے کیلئے کیا ہاتھ تھامنا ضروری ہے؟ کیا احساس محبت کافی نہیں ؟ کیا صرف شریک حیات کے انتخاب کی لاٹری پر ساری زندگی کا انحصار ایک درست فیصلہ ہوگا۔؟ بات شعور کی ہے۔ انتخاب کی ہے۔ پسند نا پسند کی نہیں قسمت کے فیصلوں کی ہے۔
حسیب بھائی کی باتیں محظ لفظوں کی موسیقی ہے۔ جو شائد کسی کی فریاد بن کر نکلے تو کسی کی آہ کی بنیاد بنیں۔ ہم اپنی کیفیات اور احساسات کو دھیرے دھیرے لاشعوری طور پر اپنے ذہن میں ڈال دیتے ہیں۔۔ اور پھر ان احساسات کو لفظوں میں پرو کر ان کو ضروریات کا نام دے دیتے ہیں۔ یہ ضرورتیں مصنوعی نہیں ہیں ، جبلی ہیں لیکن ان کے استدال نرالے ہیں، انوکھے ہیں 
یہ سب فرسودہ بندشیں ہیں۔ بہت معذرت کے ساتھ لیکن زندگی گزارنے کیلئے ہمسفر کی ضرورت کا یہ فلسفہ محدودیت کا احساس پیدا کرتا ہے۔ زندگی مختصر سہی لیکن بہت وسیع ہے۔ وہ بے کنارہ آسمانوں کے نیچے تاحد نظع پھیلی ہوئی ہے۔ اسے محض ایک شریک حیات کے ساتھ نتھی کر دینا کہاں کا انصاف ہے۔ ؟؟؟
ہم ایک مصنوعی معاشرے میں جی رہے ہیں۔ جہاں کی اقدار بھی مصنوعی ، معاشرت بھی۔۔۔۔ کسی کے دلی احساسات کی جھلک کو پہچاننا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ہر ذہن کا شعور وہ نہیں ہوتا جو آپ کا اپنا ہو۔ ترجیحات وہ نہیں ہوتیں ہیں جو آپ کی اپنی ہوں۔سب مشاہدے اور مطالعے کے بھی قائل نہیں ہوتے۔ سب زندگی کے تجربوں سے مسلح بھی نہیں ہوتے۔کہیں سسکتے ارمان ہوتے ہیں تو کہیں عزتوں کے نگہان درکار ہوتے ہیں۔کہیں مرعوبیت درکار ہوتی ہے تو کہیں عظمت کا سکہ بٹھانے کا داعی۔۔کہیں انوکھے جذبے تو کہیں الگ طرح کے احساسات۔ کہیں کوئی فرشتہ بننے کی کوشش میں نظر آئے گا تو کہیں کوئی گریز لہجوں میں پیش ہوگا۔ یہ سب فطری تقاضے ہیں۔ محض جواز ۔۔۔محض جواز۔۔۔ 
ایک جوا ہے لگ گیا تو کسی کو یاد بھی نہیں ہوگا دھوکہ کہاں سے شروع ہوتا ہے۔ اعلی و ارفع جذبے یاد رہیں گے۔ اور جو ہار گئے تو کہاں کی تمازت کہاں کا انتخاب۔۔۔۔ بس پھر فیس بک کو ٹشو پیپر کے طور پر استعمال کیا جائے گا :)
یہ سب نصیب کی باتیں ہیں۔ اور ہماری کوششیں اٹکل پچو۔
جب تمنائیں جوان ہوتی ہیں تو وہ خوہشوں کو اکساتی ہیں۔ انقلاب کا رستہ دکھاتی ہیں لیکن جب وقت کی گرمی کچھ اثر دکھاتی ہے تو یہ خواہشیں اوجھل ہوجاتی ہیں ۔انقلاب اپنا رنگ بدل لیتا ہے۔ جو اجکل کی ضرورتیں دکھائی دیتی ہیں کل وہ محض دل کو بہلانے کے کھلونے قرار پائیں گے۔ میری باتوں سے اختلاف ہوگا۔ بہت سے ان کو بے پر کی چھوڑی ہوئی باتیں قرار دیں گے۔ لیکن میں فطری تقاضوں کا انکاری نہیں لیکن محدودیت کا قائل بھی نہیں ہوں۔ 
۔جہاں سب کچھ نصیب نے اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہو وہاں کے طلسم کدے کی کنجی ڈھونڈنے کی جستجو کیسی؟؟؟ْْ

قصہ

 ایک واقعہ یاد آگیا ہے
یہ واقعہ ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کے نمائندے نے سنایا تھا کہ بھکر کے علاقے میں ایک کوئیک کے ہاں ایبٹ کمپنی کی ایک گولی ایریبرون بہت لکھی جارہی تھی ۔ایریبرون کے بارے میں بتاتا چلوں ایک انٹی بائیاٹک ہے اور عام طور پر گلے کی خرابی کھانسی وغیرہ میں استعمال کی جاتی ہے۔۔۔ کمپنی کی نئی انتظامیہ تعینات ہوئی تو انہیں تجسس ہوا کہ ایک بار اس پریکٹشنر سے ملیں تو سہی جو پورے علاقے میں سب سے زیادہ سیل دے رھا ہے۔۔ دور دراز کے ایک گائوں میں جب اسے ملنے پہنچے تو وہاں مریضوں کا ایک جم غفیر تھا۔ جب اسے بتایا گیا کہ دوائیوں کی کمپنی سے آئے ہیں تو اس نے بھرپور استقبال کیا۔ کمپنی کے سینئر نے اپنے روایئتی انداز میں اپنی سیل مزید بڑھانے کیلئے بتایا کہ اس گولی کا استعمال کان کی انفیکشن اور جلد پر پھوڑوں اور پیشاب کی نالی میں انفیکشن کیلئے بھی کیا جاسکتاہے۔۔۔ یہ سن کر کوئیک نے بڑی حیرت سے پوچھا تو کیا یہ طاقت کی گولی نہیں ہے ؟؟؟؟؟؟ْْ

تبصرہ


جب کوئی شوہروں کا مقدمہ لڑتا ہے تو ہمیں اندلس کا آخری حکمران یاد آجاتا ہے جس نے دو معاہدے کئے تھے ایک جو عیسائیوں کے ساتھ ہواتھا اور دوسرا جو مسلمانوں کو دکھایا گیا تھا۔ ویسے یاد تو پرویز مشرف آنا چاہیئے تھا۔ دھیان تو بھارت میں پاکساتان کا پانی کا مقدمہ لڑنے والے جماعت علی شاہ کی طرف بھی گیا تھا لیکن بس چھوڑیں۔۔۔۔۔۔اعتبار اس قدر کھو چکے ہیں کہ اب کوئی ہمدردی بھی جتائے تو یوں لگتا ہے طنز کر رہا ہے۔ :)
ویسے شوہروں کی اہمیت اجاگر کرنے کی بجائے کاکروچ کی اہمیت بیان کی جاتی تو بہتوں کا بھلا ہوجاتا :)
اگر ہمدردی کا ہی احسان جتانا ہو تو ایسے کمزور پہلوئوں سے آگاہ کیا جائے جن کی وجہ سے بیویاں خود کو کمزور محسوس کرتی ہوں۔ :)

مجھے بس اپنے دل کی گواہی پر اعتبار ہے
دل دیوانہ ہے۔لاکھ سمجھائو، اب نہیں مانے گا

نامعلوم


میں نے اس شخص کی آنکھوں میں فروزاں دیکھی
اس کے نکھرے ہوئی باطن کی چمک
اس کی تحریر کی خوشبو میں گُلفشاں دیکھی
اس کے مہکے ہوئے لہجے کی کھنک
اس کے کردار پردے میں نمایاں دیکھی
عظمتِ آدمِ خاکی کی جھلک
اس نے بتلایا مجھے ! 
کیسے فنکار کا فن 
اس کے احساس کی قوّت سے جنم لیتا ہے
اس نے سکھلایا مجھے 
کس طرح کوئی زمانے کو مسرّت دے کر
اپنے حصّے میں الم لیتا ہے
آسماں کون سے لوگوں کے قدم لیتا ہے !!

ووٹ


ووٹ ایک قومی امانت ہے۔ اس کا درست استعمال ہر پاکستانی کا فرض ہے ۔ جب تک آپ اپنے ووٹ کی طاقت کو بروئے کار نہیں لائیں گے ملک میں تبدیلی نہیں آئی گی۔اگر آپ نے اپنی اس مقدس ذمہ داری کا خیال نہیں رکھا تو پھر آپ کا ملکی سیاست پر تنقید اور زرداری کو برا بھلا کہنے کا حق ہی نہیں بنتا۔ میری باتیں سن کر حاجی احسان اللہ نے پوچھا۔ میں نے انیس سو دو کے الیکشن میں ووٹ پیپلز پارٹی کو دیا لیکن وہ پیٹریاٹ میں شامل ہوگیا۔انیس سو آٹھ میں میرا امیدوار ق لیگ سے تعلق رکھتا تھا اور جیتنے کے بعد وہ نون لیگ میں شامل ہوگیا۔ آپ ووٹ کے تقدس کی بات کرتے ہیں لیکن میرے ووٹ کے نظریات کی حفاظت کون کرے گا۔ ؟؟؟؟؟ اس بار نون کا امیدوار پچھلی بار قاف کے پلییٹ فارم سے لڑا تھا۔ پیپلز پارٹی کا امیدوار آزاد تھا۔ تحریک انصاف کے متوقع امیدوار بھی قاف اور نون کی طرف سے الیکشن لڑ چکے ہیں۔ کیا اب بھی ووٹ میں طاقت باقی ہے؟
اور میں نے اس وقت سے سیاسی بحث سے خود کو الگ کر رکھا ہے۔ کیا کسی کے پاس ان سوالوں کا جواب ہے