کسی بھی تحریر کی کامیابی کا انحصار اگر یہ قرار دیا جائے کہ پڑھنے کے بعد قاری اس کے حصار میں آجاتا ہے اور اگر یہ معیار درست ہے تو ایک بہترین تحریر ہے۔
میں اسے خودآگہی کا ایک اٹل قدم کہوں گا جس سے مصنف نے روشناس کروایا ہے۔ خودآگہی ایک تلخ حقیقت ہوتی ہے لیکن یہ ایک ایسی نعمت ہے جس سے بہت کم لوگ فیض یاب ہوتے ہیں۔ تحریر کی بہترین خوبی یہ ہے کہ اس میں نہ تو کوئی دوسرا آدمی نظر آتا ہے اور نہ ہی تیسرا اآدمی ۔ یہاں صرف قاری اور قاری کے احساسات کا تحریر کے ساتھ ایک رشتہ نظر آتا ہے۔
زندگی کی ایک انتہا ہوتی ہے، جس کے پیچھے سب گامزن ہوتے ہیں۔وہ تسکین کا ایک مقام ہے جسے کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ سعادتوں کا مقام ہوگا، مسرتوں کی عطا ہوگی، وہ انتہا بے حد حسین ہوگی۔ لیکن حقیقت کچھ اور اور ہوتی ہے۔ زندگی کی اس انتہا کی حقیقت کی بازگشت بارھا ہمیں سنائی دیتی ہے۔اپنے وجودکا بارھا احساس دلاتی ہے ۔لیکن ہر بار تھپکی دے کر سلا دیتے ہیں۔مجبوریوں کا عذر سامنے رکھ کر اسے رکھ کر بھول جاتے ہیں اور ذہن کے کسی گوشے میں گم کر بیٹھتے ہیں۔لیکن اس تحریر کا کمال یہ کہ سچائی کا زہر سینوں میں اتار کر، مصنف قاری سے اس حقیقت کو منوا لیتا ہے
No comments:
Post a Comment