سارا ادب کلاسکی نہیں ہوتا،ہر تحریر انمول جذبے لئے نہیں ہوتی، معصوم رویوں کی عکاس نہیں ہوتی، ہر تحریر پیغمبرانہ اقوال کے ساتھ مزین نہین ہوتی،لیکن کیا کریں احساسات اور جذبات کا ۔۔جو تکمیل خواہش کو کبھی رد نہین کرتیں،ہمیشہ اکساتی ہیں ۔ہمارے مطالعے اور مشاہدے ہمیں تجربات سے مسلح کر دیتے ہیں اگر ہم وہ بوجھ قلم اور کاغذ کی صورت میں نہ اتاریں تو وہ مصنوعی اجنبیت پیدا کردیتا ہے۔وہ اجنبیت جو ہماری ذات میں ایک خلا پیدا کردیتی ہے۔ اسلئے کسی کلاسکی ادب کے جنم کا انتظار کئے بغیر ہی قلم رواں رکھتے ہیں۔
Iqbal Hasan آپ کے قلم کے ایک خاص تاثر نے میرے قلم اورکہانی کے درمیان ایک ایک خاص رشتہ قائم کردیا ہے آپ کے چند جملوں نے میرے
میرا خیال تھا افسانے کی طوالت انسانی المیوں اور رویوں کو اجاگر کرنے میں مدد دے گی جس کے بنیادی کردار کو حقائق سے گریزاں ایک رومانوی رنگ دے کر کہانی کو مضبوط کرنے کی کوشش کی تھی ۔جو کلائمکس میں اصل مقصدیت کو اجاگر کرنے کیلئے ضروری تھا ۔کہاں تک کامیاب رہا، کچھ کہہ نہیں سکتا کیونکہ یہ افسانہ اس وقت منظر عام پر آیا جب افسانوں کی تعداد اپنی خطرناک حد کو عبور کرچکی تھی اور سینئر ممبر بیچارے اپنے تاثرات دے دے کر تھک چکے تھے :) بنیادی طور پر میں ایک افسانہ نگار نہیں ہوں ۔لیکن افسانہ لکھنے کی یہ میری پہلی کوشش تھی اور مجموعی طور پر اب تک لکھے گئے چند افسانوں میں سے ایک، اگر کمی اور کوتاہیوں کو اجاگر کیا جاتا تو مجھے زیادہ بہتر رہنمائی میسر آجاتی، انسانی زندگی ہمیشہ ارتقا کی جانب گامزن ہوتی ہے میرے قلم نے جو آج لکھا ہے وہ شائد کل میں رد کردوں ، اور جو آج لکھنا چاہ رہا ہوں وہ کل کو اپنا اثر کھو دے۔ انسان آخر انسان ہے اس کی سوچ کبھی حتمی نہیں ہوسکتی لیکن ارتقا کا سفر اگر رہنمائی میں گزارا جائے تو کم وقت میں وہ منزلیں طے پا جاتی ہیں جن سے خودآگہی کے خوف سے وہ ہمیشہ گریزاں رہتا ہے ۔ ان تمام ممبران کا شکریہ جنہوں نے قیمتی وقت میں سے کچھ لمحے نکال کر اپنی رائے سے آگاہ کیا
میرا خیال تھا افسانے کی طوالت انسانی المیوں اور رویوں کو اجاگر کرنے میں مدد دے گی جس کے بنیادی کردار کو حقائق سے گریزاں ایک رومانوی رنگ دے کر کہانی کو مضبوط کرنے کی کوشش کی تھی ۔جو کلائمکس میں اصل مقصدیت کو اجاگر کرنے کیلئے ضروری تھا ۔کہاں تک کامیاب رہا، کچھ کہہ نہیں سکتا کیونکہ یہ افسانہ اس وقت منظر عام پر آیا جب افسانوں کی تعداد اپنی خطرناک حد کو عبور کرچکی تھی اور سینئر ممبر بیچارے اپنے تاثرات دے دے کر تھک چکے تھے :) بنیادی طور پر میں ایک افسانہ نگار نہیں ہوں ۔لیکن افسانہ لکھنے کی یہ میری پہلی کوشش تھی اور مجموعی طور پر اب تک لکھے گئے چند افسانوں میں سے ایک، اگر کمی اور کوتاہیوں کو اجاگر کیا جاتا تو مجھے زیادہ بہتر رہنمائی میسر آجاتی، انسانی زندگی ہمیشہ ارتقا کی جانب گامزن ہوتی ہے میرے قلم نے جو آج لکھا ہے وہ شائد کل میں رد کردوں ، اور جو آج لکھنا چاہ رہا ہوں وہ کل کو اپنا اثر کھو دے۔ انسان آخر انسان ہے اس کی سوچ کبھی حتمی نہیں ہوسکتی لیکن ارتقا کا سفر اگر رہنمائی میں گزارا جائے تو کم وقت میں وہ منزلیں طے پا جاتی ہیں جن سے خودآگہی کے خوف سے وہ ہمیشہ گریزاں رہتا ہے ۔ ان تمام ممبران کا شکریہ جنہوں نے قیمتی وقت میں سے کچھ لمحے نکال کر اپنی رائے سے آگاہ کیا
No comments:
Post a Comment