Tuesday, December 29, 2015

ایک کمنٹ

اچھا ہوا یہاں بھی نظر دوڑا لی۔ورنہ نظر ثانی کے بعد اس تحریر کی دلکشی میں جو اضافہ ہوا ہے اسے پڑھنے سے محروم رہ جاتا۔
سچ کہوں تو اس کو پڑھنے کے بعد ایک نئی سحرش سے تعارف ہوا ہے۔۔۔۔۔۔۔ایک نئے جذبے سے ملاقات ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک لاابالی، لاپروہ، بے تعلق سی لڑکی سے ناز ک سی، حساس لڑکی میں تبدیلی۔۔۔ ۔۔۔جو تصورات کے شیش محل کے زندگی کے ٹھوس حقائق سے ٹکڑا کر بکھڑنے سے ڈر رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو اپنے سپنوں کے موتی محل کے چور چور ہونے سے ڈر رہی ہو۔جو اس ڈر سے سہمی ہو کہیں اس کے حسیں سپنوں کا سحر ٹوٹ نہ جائے۔۔۔۔ کہیں اس کی بسائی جنت تحلیل نہ ہوجائے
بہت ہی سادہ سے جملوں کے سہارے اپنے اضطراب اور وارفتگی کو جس انداز سے کاغذ پر سمویا ہے اس کی دلفریب مہک قاری کو دیر تک اپنے حصار میں رکھتی ہے۔اپنے تخیل کی کھڑکی سے جس منظرسے متعارف کروایا ہے وہ قابل تعریف ہی نہیں قابل ستائش بھی ہے۔ایک تخیل پرست لڑکی جو اپنے تصورات سے محبت کرتی ہے۔جو اپنے کردار کے تعاقب میں پاتال سے موتی چن کے لانے کیلئے بھی تیار ہے۔
کوئی مانے یا نہ مانے ناسٹیلجیا انسانی احساسات اور جذبات کا ایک لطیف پہلو ہے۔جن تعلقات مین قلبی لگاؤ ہو ان کی یادوں کا ذہنوں پر جنبش دینا کوئی غیر فطری امر نہیں ہوتا۔کچھ لوگوں کے نزدیک ناسٹیلجیا خود اذیتی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں یہ غیر ارادی تسکین کے جذبے کا نام ہے۔انسان جب تنہا ہوتا ہے تو بے شک دلیر بھی ہو اور مستقل مزاج بھی۔۔۔۔ لیکن کسی کے ساتھ کا احساس آپ کو خود اعتمادی دیتا ہے۔۔۔۔بیتابانہ، پرجوش سیمابی خواہشوں کو جنم دیتا ہے۔۔۔۔عظم اور استقلال کے بلند مینار کھڑ ا کرتا ہے۔۔۔۔یہ غیر فطری ہر گز نہیں ہے۔۔۔یہ تو سچی لگن کا پھل ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔کل کی جھجک،حالات کی مجبوریاں، اخلاقی تقاضے اپنی جگہ لیکن آج ان کا ساتھ امتیاز بن جاتا ہے ۔۔۔فخر کا احساس ہوتا ہے۔۔۔ناسٹیلجیا تب جنم لیتا ہے جب انسان کو اپنے فریب کے حلقوں اور یقین کے طلسم کے ٹوٹنے کے خدشات باقی نہیں رہتے۔۔۔۔جب ذہن انسانی خدوخال سے متاثر نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔جب چہرے کی شگفتگی اور پژمردگی کا اندازہ آنکھوں کے بدلتے زاویوں سے نہیں ہوتا۔۔۔ جب آنکھ روح میں جھانکنا سیکھ لیتی ہے۔۔۔تب محبت کی صدائے بازگشت یقیناً سنائی دیتی ہے
انسان جب کبھی تنہائیوں کا شکار ہوجاتا ہے تو دنیا پھیکی اور بے رنگ ہوجاتی ہے۔پھولوں سے مہک اڑ جاتی ہے، بلبل گیت کی بجائے نوحے گانا شروع ہوجاتے ہیں۔۔۔۔ لیکن جب حیات کی نبض رکنا شروع جاتی ہے تو پھر وہ تعلق ، وہ سہارے، وہ محبتیں ، وہ قرب سارے، جو کہیں لاشعور کی جھلکیاں ہوتے ہیں، خیالوں کا حصہ ہوتے ہیں وہ آکر زندگی میں ایک ہلچل مچاتے ہیں ۔ایک تڑپ ایک مسرت لاتے ہیں۔جن کے خیال سے ہی روح میں ایک گدگدی کا احساس ہوتا ہے لبوں پر فردوسی مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ ہو سکتا ہے کسی کے نزدیک یہ مجروح صداقت کی مسکراہٹ ہوتی ہے۔ لیکن یہ مسکراہٹ الہامی ہوتی ہے۔جو جینے کے تقاضے مہیاکرتا ہے۔۔۔
لکھتی رہیں۔۔قلم رواں ہے۔۔ اب موضوعات کا چنائو شروع کریں