Wednesday, April 20, 2016

جنگل کی شہزادی (جوش ملیح آبادی)


پیوست ہے جو دل میں، وہ تیر کھینچتا ہوں​ 
اک ریل کے سفر کی تصویر کھینچتا ہوں​ 
​گاڑی میں گنگناتا مسرور جا رہا تھا​ 
اجمیر کی طرف سے جے پور جا رہا تھا​ 
​تیزی سے جنگلوں میں یوں ریل جا رہی تھی​ 
لیلیٰ ستار اپنا گویا بجا رہی تھی​ 
​خورشید چھپ رہا تھا رنگیں پہاڑیوں میں​ 
طاؤس پر سمیٹے بیٹھے تھے جھاڑیوں میں​ 
​کچھ دُور پر تھا پانی، موجیں رکی ہوئی تھیں​ 
تالاب کے کنارے شاخیں جھکی ہوئی تھیں​ 
​لہروں میں کوئی جیسے دل کو ڈبو رہا تھا​ 
میں سو رہا ہوں، ایسا محسوس ہو رہا تھا​ 
​اک موجِ کیف پرور دل سے گزر رہی تھی​ 
ہر چیز دلبری سے یوں رقص کر رہی تھی​ 
​تھیں رخصتی کرن سے سب وادیاں سنہری​ 
ناگاہ چلتے چلتے جنگل میں ریل ٹھہری​ 
​کانٹوں پہ خوبصورت اک بانسری پڑی ہے​ 
دیکھا کہ ایک لڑکی میدان میں کھڑی ہے​ 
​زاہد فریب، گل رخ، کافر، دراز مژگاں​ 
سیمیں بدن، پری رخ، نوخیز، حشر ساماں​ 
​خوش چشم، خوبصورت، خوش وضع، ماہ پیکر​ 
نازک بدن، شکر لب، شیریں ادا، فسوں گر​ 
​کافر ادا، شگفتہ، گل پیرہن، سمن بُو​ 
سروِ چمن، سہی قد، رنگیں جمال، خوش رو​ 
​گیسو کمند، مہ وش، کافور فام، قاتل​ 
نظارہ سوز، دلکش، سرمست، شمعِ محفل​ 
​ابرو ہلال، مے گوں، جاں بخش، روح پرور​ 
نسریں بدن، پری رخ، سیمیں عذار، دلبر​ 
​آہو نگاہ، نورس، گلگوں، بہشت سیما​ 
یاقوت لب، صدف گوں، شیریں، بلند بالا​ 
​غارت گرِ تحمل، دل سوز، دشمنِ جاں​ 
پروردۂ مناظر، دوشیزۂ بیاباں​ 
​گلشن فروغ، کمسن، مخمور، ماہ پارا​ 
"دلبر کہ در کفِ اُو موم است سنگِ خارا"​ 
​ہر بات ایک افسوں ہر سانس ایک جادو​ 
قدسی فریب مژگاں، یزداں شکار گیسو​ 
​صحرا کی زیب و زینت، فطرت کی نورِ دیدہ​ 
برسات کے ملائم تاروں کی آفریدہ​ 
​چہرے پہ رنگِ تمکیں، آنکھوں میں بے قراری​ 
ایمائے سینہ کوبی، فرمانِ بادہ خواری​ 
​لوہا تپانے والی جلووں کی ضوفشانی​ 
سکّے بٹھانی والی اٹھتی ہوئی جوانی​ 
​ڈوبے ہوئے سب اعضا حُسنِ مناسبت میں​ 
پالی ہوئی گلوں کے آغوشِ تربیت میں​ 
​حُسنِ ازل ہے غلطاں شاداب پنکھڑی میں​ 
یا جان پڑ گئی ہے جنگل کی تازگی میں​ 
​حوریں ہزار دل سے قربان ہو گئی ہیں​ 
رنگینیاں سمٹ کر 'انسان' ہو گئی ہیں​ 
​چینِ ستمگری سے ناآشنا جبیں ہے​ 
میں کون ہوں؟ یہ اُس کو معلوم ہی نہیں ہے​ 
​ہر چیز پر نگاہیں حیرت سے ڈالتی ہے​ 
رہ رہ کے اڑنے والی چادر سنبھالتی ہے​ 
​آنچل سنبھالنے میں یوں بل سے کھا رہی ہے​ 
گویا ٹھہر ٹھہر کر انگڑائی آ رہی ہے​ 
​کچھ دیر تک تو میں نے اُس کو بغور دیکھا​ 
غش کھا رہی تھی عقبیٰ، چکرا رہی تھی دنیا​ 
​گاڑی سے پھر اتر کر اُس کے قریب آیا​ 
طوفانِ بے خودی میں پھر یہ زباں سے نکلا​ 
​اے درسِ آدمیّت، اے شاعری کی جنت​ 
اے صانعِ ازل کی نازک ترین صنعت​ 
​اے روحِ صنفِ نازک، اے شمعِ بزمِ عالم​ 
اے صبحِ روئے خنداں، اے شامِ زلفِ برہم​ 
​اے تُو کہ تیری نازک ہستی میں کام آئی​ 
قدرت کی انتہائی تخئیلِ دلربائی​ 
​بستی میں تُو جو آئے، اک حشر سا بپا ہو​ 
آبادیوں میں ہلچل، شہروں میں غلغلہ ہو​ 
​رندانِ بادہ کش کے ہاتوں سے جام چھوٹیں​ 
تسبیحِ شیخ الجھے، توبہ کے عزم ٹوٹیں​ 
​نظروں سے اتِّقا کے رسم و رواج اتریں​ 
زہّاد کے عمامے، شاہوں کے تاج اتریں​ 
​آنکھیں ہوں اشک افشاں، نالے شرر فشاں ہوں​ 
کیا کیا نہ شاعروں کے ملبوس دھجیاں ہوں​ 
شہروں کے مہ وشوں پر اک آسمان ٹوٹے​ 
پروردۂ تمدن عشووں کی نبض چھوٹے​ 
​اس سادگی کے آگے نکلیں دلوں سے آہیں​ 
جھک جائیں دلبروں کی خود ساختہ نگاہیں​ 
​تیری ادا کے آگے شرما کے منہ چھپائیں​ 
ناپے ہوئے کرشمے، تولی ہوئی ادائیں​ 
​تیری نظر کی رَو سے ہو جائیں خستہ و گم​ 
مشق و مزاولت کے پالے ہوئے تبسم​ 
​امن و اماں کے رخ کو بے آب و رنگ کر دے​ 
دنیا کو حسن تیرا میدانِ جنگ کر دے​ 
​کتنی ہی قسمتوں کے بدلے فلک نوشتے​ 
خوں اور دوستی کے کٹ جائیں کتنے رشتے​ 
​تصنیف ہوں ہزاروں چبھتے ہوئے فسانے​ 
اِن انکھڑیوں کی زد پر کانپیں شراب خانے​ 
​تیرے پجاریوں میں میرا بھی نام ہوتا​ 
اے کاش جنگلوں میں میرا قیام ہوتا​ 
​یہ بَن، یہ گل، یہ چشمے، مجھ سے قریب ہوتے​ 
شاعر کے زیرِ فرماں یہ سب رقیب ہوتے​ 
​کیوں، میری گفتگو سے حیرت فروش کیوں ہے؟​ 
اے زمزموں کی دیوی اتنی خموش کیوں ہے؟​ 
​بجنے لگیں وفا کی محفل میں شادیانے​ 
ہاں دے لبوں کو جنبش، اے سرمدی ترانے​ 
​یوں چپ ہے، مجھ سے گویا کچھ کام ہی نہیں ہے​ 
یہ وہ ادا ہے جس کا کچھ نام ہی نہیں ہے​ 
​سننا تھا یہ کہ ظالم اِس طرح مسکرائی​ 
فریاد کی نظر نے، ارماں نے دی دُہائی​ 
​عشوہ، جبیں پہ لے کر دل کی امنگ آیا​ 
چہرے پہ خون دوڑا، آنکھوں میں رنگ آیا​ 
​شرما کے آنکھ اٹھائی، زلفوں پہ ہات پھیرا​ 
اتنے میں رفتہ رفتہ چھانے لگا اندھیرا​ 
​چمکا دیا حیا نے ہر نقشِ دلبری کو​ 
دانتوں میں یوں دبایا چاندی کی آرسی کو​ 
​سُن کر مری مچلتی آنکھوں کی داستانیں​ 
اُس کی نگاہ میں بھی غلطاں ہوئی زبانیں​ 
​شرما کے پھر دوبارہ زلفوں پہ ہات پھیرا​ 
دیکھا تو چھا چکا تھا میدان پر اندھیرا​ 
​کچھ جسم کو چُرایا، کچھ سانس کو سنبھالا​ 
کاندھے پہ نرم آنچل انگڑائی لے کے ڈالا​ 
​تاریک کر کے، میری آنکھوں میں اک زمانہ​ 
جنگل سے سر جھکا کر ہونے لگی روانہ​ 
​ہونے لگی روانہ، ارماں نے سر جھکایا​ 
دل کی مثال کانپا رہ رہ کے بن کا سایا​ 
​بے ہوش ہو چلا میں، سینے سے آہ نکلی​ 
اتنے میں رات لے کر قندیلِ ماہ نکلی​ 
​مڑ کر جو میں نے دیکھا، امید مر چکی تھی​ 
پٹری چمک رہی تھی، گاڑی گزر چکی تھی​