Monday, March 31, 2014

ہنسیئے

ایک آدمی نے اپنی ساس سے شکائیت لگائی کہ میں آپ کی بیٹی میں ایک ہزار خامیاں ڈھونڈ سکتا ہوں۔ساس نے تحمل سے اس کی بات سنی اور آہ بھر کے کہا تم سہی کہتے ہو تبھی تو اسے کوئی اچھا رشتہ نہیں ملا

Smile

Dear wife, if I am smiling while reading text messages on cell, does not mean I have a girl friend.

نریش کمار شاد

سوچتے سوچتے پھر مجھ کو خیال آتا ہے
وہ میرے رنج ومصائب کا مداواتو نہ تھی
رنگ افشاں تھی مرے دل کے خلاؤں میں مگر
ایک عورت تھی علاجِ غم دنیا تو نہ تھی
میرے ادراک کے ناسور تو رستے رستے
میری ہو کر بھی سہی میرے لئے کیا کر لیتی
حسرت ویاس کی گمبھیر اندھیرے میں بھلا
ایک نازک سی کرن ساتھ کہاں تک دیتی
اس کو رہنا تھا زرو سیم کے ایوانوں میں
رہ بھی جاتی میرے ساتھ تو رہتی کب تک
ایک مغرور سہو کار کی پیاری بیٹی
بھوک اور پیاس کی تکلیف کو سہتی کب تک
ایک شاعر کی تمناؤں کو دھو کہ دے کر
اس نے توڑی ہےاگر پیار بھرے گیت کی لے
اس پہ افسوس ہےکیوں،اس پہ تعجب کیسا
یہ محبت بھی تو احساس کا ایک دھو کہ ہے
پھر بھی انجانے میں جب شہر کی راہوں میں کبھی
دیکھ لیتا ہوں دوشیزہ جمالوں کے ہجوم
روح پر پھیلنے لگتا ہےاداسی کا ہجوم
ذہن میں رینگنے لگتے ہیں خیالوں کے ہجوم
سوچتے سوچتے پھر مجھ کو خیال آتا ہے
وہ مرے رنج ومصائب کا مداوا تو نہ تھی
رنگ افشاں تھی مرے دل کے خیالوں میں مگر
ایک عورت تھی علاج غم دنیا تو نہ تھی

Sunday, March 30, 2014

مجاز

اب میرے پاس تم آئی ہو، تو کیا آئی ہو
میں نے مانا کہ تم اک پیکر_ رعنائی ہو
چمن_ دہر میں روح_ چمن آرائی ہو
طلعت_ مہر ہو، فردوس کی برنائی ہو
بنت_ مہتاب ہو، گردوں سے اتر آئی ہو
مجھ سے ملنے میں اب اندیشۂ_ رسوائی ہے
میں نے خود اپنے کئے کی یہ سزا پائی ہے
خاک میں، آہ، ملائی ہے جوانی میں نے
شعلہ زاروں میں جلائی ہے جوانی میں نے
شہر_ خوباں میں گنوائی ہے جوانی میں نے
خواب گاہوں میں گنوائی ہے جوانی میں نے
حسن نے جب بھی عنائت کی نظر ڈالی ہے
میرے پیمان_ محبت نے سپر ڈالی ہے
ان دنوں مجھ پہ قیامت کا جنوں طاری تھا
سر پہ سرشاری و عشرت کا جنوں طاری تھا
مہ پاروں سے محبت کا جنوں طاری تھا
شہر یاروں سے رقابت کا جنوں طاری تھا
بستر_ مخمل و سنجاب تھی دنیا میری
ایک رنگین و حسیں خواب تھی دنیا میری
کیا سنو گی میری مجروع جوانی کی پکار
میری فریاد جگر دوز میرا نالۂ_ زار
شدت_ کرب میں ڈوبی ہوئی میری گفتار
میں کہ خود اپنے مزاق طرب آگیں کا شکار
وہ گداز دل_ مرحوم کہاں سے لاؤں؟
اب وہ جزبۂ_ معصوم کہاں سے لاؤں؟
اب میرے پاس تم آئی ہو، تو کیا آئی ہو؟

first

ایک صاحب کو آپریشن کے بعد وارڈ میں شفٹ کیا گیا تو ایک نرس بار بار اسے چیک کرنے آرہی تھی۔ پاس بیٹھے بیٹے نے پوچھا سسٹر سب خیریت تو ہے؟ نرس نے جواب دیا باقی تو سب ٹھیک ہے لیکن بلڈ پریشر پورا نہیں ہورھا، بہت کم ہے۔ بیٹا لاپرواہی سے بولا آپ اس کی فکر نہ کریں۔امی کچھ دیر میں پہنچنے والی ہیں