Tuesday, January 30, 2018

احمد راہی


دوست مایوس نہ ہو
سلسلے بنتے بگڑتے ہی رہے ہیں آخر
تیری پلکوں پہ سر اشکوں کے ستارے کیسے
تجھ کو غم ہے تیری محبوب تجھے مل نہ سکی
اور جو زیست تراشی تھی ترے خوابوں نے
آج وہ ٹھوس حقائق میں کہیں کھو گئی
تجھ کو معلوم ہے میں نے بھی محبت کی تھی
اور انجام محبت بھی ہے معلوم تجھ کو
انگنت لوگ زمانے میں رہے ہیں ناکام
تیری ناکامی نئی بات نہیں دوست مرے
کس نے پائی ہے بھلا زیست کی تلخی سے نجات
چار وناچار یہ زہر اب سبھی پیتے ہیں
جاں سپاری کے فر یبندہ فسانے پہ نہ جا
کون مرتا ہے محبت میں سبھی جیتے ہیں
وقت ہر زخم کو ، ہر غم کو مٹا دیتا ہے 
وقت کے ساتھ یہ صدمہ بھی گزر جائیگا
اور جو باتیں دہرائی ہیں میں نے اس وقت 
تو بھی اک روز انہی باتوں کو دہرائے گا
دوست مایوس نہ ہو!
سلسلے بنتے بگڑتے ہی ریے ہیں آخر

نامعلوم


میں نے چاہا اسے بھول جاؤں 
فراموش کر دوں وہ سب روزو شب
اس کو دیکھوں تو یوں کہ واقف نہیں
میں بھی اب اس کی طرح  کسی اور کو ساتھ لے کر چلو
ہر گھڑی خوش رہوں مسکراتا پھروں بے وجہ بلا سبب 
جب ہوا کے قدم مثل مے نوش
بے ڈھب سے پڑنے لگیں
چاندنی کھڑکیوں سے پکاڑے اگر
نگائیں چمکنے لگیں
آہٹیں کانوں میں سرگوشیاں کرکے چلنے لگیں
دست موسم کی ایجاد سے پیرہن
زرد پتے بدلنے لگیں
بخت خوابیدہ گلناز آنکھیں ملنے لگے
کاش یوں ہو
تب اس کو دیکھوں
تو وہ اجنبی سا لگے
اس کی آہٹ پر خواہشوں کے گل نہ کھلیں اور وہ پکاڑے اگر
تو اس کی آواز پر کان تک نہ دھروں
عہد رفتہ کی ہر آواز کو بھول کر
آنے والی رتوں کا سواگت کروں
اس کے چہرے کو چہروں کے اندھیروں میں اس طرح گم کروں
 نہ وہ آنکھیں رہیں نہ وہ گیسو نہ وہ رت
میں نے چاہا اسے بھول جاؤں 
فراموش کردوں سب مگر۔۔۔۔۔۔

Thursday, January 25, 2018

ادریس اآزاد


پھر اگلے دن جو سرخی شوکت ِ اخبار تھی، میں تھا

وہاں کچھ لوگ تھے، الزام تھے، باقی اندھیرا ہے
بس اتنا یاد ہے جلاد تھا، تلوار تھی، میں تھا

جہاں تصویر بنوانے کی خاطر لوگ آتے تھے
وہاں پس منظرِ تصویر جو دیوار تھی میں تھا

میں اپنا سر نہ کرتا پیش اجرت میں تو کیا کرتا؟
تمہاری بات تھی، وہ بھی سرِ بازار تھی، میں تھا

یہ ویراں سرخ سیّارے، انہیں دیکھوں تو لگتا ہے
تری دنیا میں جو چہکار تھی، مہکار تھی میں تھا

خفا مت ہو! مرے بدلے وہاں گلدان رکھ دینا
ترے کمرے کی چیزوں میں جو شئے بیکار تھی، میں تھا

تمہارے خط جو میں نے خود کو ڈالے تھے نہیں پہنچے
تو انجانے میں جس کے پیار سے دوچار تھی میں تھا

مرے کھلیان تھے، دہقان تھے، تقدیر تھی، تو تھا
ترا زندان تھا زنجیر تھی، جھنکار تھی ، میں تھا