دوست مایوس نہ ہو
سلسلے بنتے بگڑتے ہی رہے ہیں آخر
تیری پلکوں پہ سر اشکوں کے ستارے کیسے
تجھ کو غم ہے تیری محبوب تجھے مل نہ سکی
اور جو زیست تراشی تھی ترے خوابوں نے
آج وہ ٹھوس حقائق میں کہیں کھو گئی
تجھ کو معلوم ہے میں نے بھی محبت کی تھی
اور انجام محبت بھی ہے معلوم تجھ کو
انگنت لوگ زمانے میں رہے ہیں ناکام
تیری ناکامی نئی بات نہیں دوست مرے
کس نے پائی ہے بھلا زیست کی تلخی سے نجات
چار وناچار یہ زہر اب سبھی پیتے ہیں
جاں سپاری کے فر یبندہ فسانے پہ نہ جا
کون مرتا ہے محبت میں سبھی جیتے ہیں
وقت ہر زخم کو ، ہر غم کو مٹا دیتا ہے
وقت کے ساتھ یہ صدمہ بھی گزر جائیگا
اور جو باتیں دہرائی ہیں میں نے اس وقت
تو بھی اک روز انہی باتوں کو دہرائے گا
دوست مایوس نہ ہو!
سلسلے بنتے بگڑتے ہی ریے ہیں آخر
سلسلے بنتے بگڑتے ہی رہے ہیں آخر
تیری پلکوں پہ سر اشکوں کے ستارے کیسے
تجھ کو غم ہے تیری محبوب تجھے مل نہ سکی
اور جو زیست تراشی تھی ترے خوابوں نے
آج وہ ٹھوس حقائق میں کہیں کھو گئی
تجھ کو معلوم ہے میں نے بھی محبت کی تھی
اور انجام محبت بھی ہے معلوم تجھ کو
انگنت لوگ زمانے میں رہے ہیں ناکام
تیری ناکامی نئی بات نہیں دوست مرے
کس نے پائی ہے بھلا زیست کی تلخی سے نجات
چار وناچار یہ زہر اب سبھی پیتے ہیں
جاں سپاری کے فر یبندہ فسانے پہ نہ جا
کون مرتا ہے محبت میں سبھی جیتے ہیں
وقت ہر زخم کو ، ہر غم کو مٹا دیتا ہے
وقت کے ساتھ یہ صدمہ بھی گزر جائیگا
اور جو باتیں دہرائی ہیں میں نے اس وقت
تو بھی اک روز انہی باتوں کو دہرائے گا
دوست مایوس نہ ہو!
سلسلے بنتے بگڑتے ہی ریے ہیں آخر
کیا بات ہے ، 1980 میں پڑھی تھی، اور 2019 میں اپنے بیٹے کو سنای
ReplyDelete