Tuesday, January 30, 2018

احمد راہی


دوست مایوس نہ ہو
سلسلے بنتے بگڑتے ہی رہے ہیں آخر
تیری پلکوں پہ سر اشکوں کے ستارے کیسے
تجھ کو غم ہے تیری محبوب تجھے مل نہ سکی
اور جو زیست تراشی تھی ترے خوابوں نے
آج وہ ٹھوس حقائق میں کہیں کھو گئی
تجھ کو معلوم ہے میں نے بھی محبت کی تھی
اور انجام محبت بھی ہے معلوم تجھ کو
انگنت لوگ زمانے میں رہے ہیں ناکام
تیری ناکامی نئی بات نہیں دوست مرے
کس نے پائی ہے بھلا زیست کی تلخی سے نجات
چار وناچار یہ زہر اب سبھی پیتے ہیں
جاں سپاری کے فر یبندہ فسانے پہ نہ جا
کون مرتا ہے محبت میں سبھی جیتے ہیں
وقت ہر زخم کو ، ہر غم کو مٹا دیتا ہے 
وقت کے ساتھ یہ صدمہ بھی گزر جائیگا
اور جو باتیں دہرائی ہیں میں نے اس وقت 
تو بھی اک روز انہی باتوں کو دہرائے گا
دوست مایوس نہ ہو!
سلسلے بنتے بگڑتے ہی ریے ہیں آخر

1 comment:

  1. کیا بات ہے ، 1980 میں پڑھی تھی، اور 2019 میں اپنے بیٹے کو سنای

    ReplyDelete