Sunday, July 17, 2016

امجد سلام امجد


ہجوم سنگ انا ضبط ہیہم نے
مثال ریگ رواں برقرار رکھا ہے
میرے وجود کی وحشت نے رات بھر مجھ کو
غبار قافلہ انتظار رکھا ہے
بہ پیش خدمت چشم سراب آلودہ
ہوا نے دست طلب بار بار رکھا ہے

میں تیری یاد کے جادو میں تھا سحر مجھ کو
نہ جانے کون سی منزل پر لا کر چھوڑ گئی
کہ سانس سانس میں تیرے بدن کی خوشبو ہے
قدم قدم پر تیری آہٹوں کا ڈیرہ ہے
مگر نظر میں فقط شب زدہ سویرا ہے
تہی تہی سے مناظر ہیں، گرد گرد فضا
متاع عمر وہی خواب تیرا ہے

تیرے جمال کا پرتو تو نہیں ہے مگر پھر بھی
خیال آئینہ خانے سجائے بیٹھا ہے
جدھر بھی آنکھ اٹھاتا ہوں اک وحشت ہے
تو ہی بتا کہاں تک فریب دوں خود کو
کہ میرا عکس مرے خوف کی شہادت ہے

میرا وجود ہے اور شہر سنگ باراں ہے
بچائوں جاں کہ تعمیر قصر ذات کروں
میں اپنا ہاتھ بغل میں دبائے سوچتا ہوں 
میرے نصیب میں سورج کہاں جو بات کروں

میں وادیوں کی مسافت سے کس لئے نکلوں
سفر اک اور پہاڑوں کے پار رکھا ہے

عبید اللہ علیم


میں جسم و جاں کے تمام رشتوں سے چاہتا ہوں
نہیں سمجھتا کہ ایسا کیوں ہے 
نہ خال و خد کا جمال اس میں، نہ زندگی کا کمال کوئی
جو کوئی اُس میں ہُنر بھی ہوگا
تو مجھ کو اس کی خبر نہیں ہے 
نہ جانے پھر کیوں! 
میں وقت کے دائروں سے باہر کسی تصوّر میں اُڑ رہا ہوں
خیال میں، خواب و خلوتِ ذات و جلوتِ بزم میں شب و روز
مرا لہو اپنی گردشوں میں اسی کی تسبیح پڑھ رہا ہے 
جو میری چاہت سے بے خبر ہے 
کبھی کبھی وہ نظر چرا کر قریب سے میرے یوں بھی گزرا
کہ جیسے وہ باخبر ہے 
میری محبتوں سے 
دل و نظر کی حکایتیں سن رکھی ہیں اس نے
مری ہی صورت 
وہ وقت کے دائروں سے باہر کسی تصوّر میں اُڑ رہا ہے
خیال میں، خواب و خلوتِ ذات و جلوت ِ بزم میں شب و روز 
وہ جسم و جاں کے تمام رشتوں سے چاہتا ہے 
مگر نہیں جانتا یہ وہ بھی
کہ ایسا کیوں ہے
میں سوچتا ہوں، وہ سوچتا ہے 
کبھی ملے ہم تو آئینوں کے تمام باطن عیاں کریں گے
حقیقتوں کا سفر کریں گے