Sunday, November 9, 2014

غزل

ﺑﺎﺕ ﻧﮑﻠﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺩُﻭﺭ ﺗَﻠَﮏ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ
ﻟﻮﮒ ﺑﮯ ﻭﺟﮧ ﺍُﺩﺍﺳﯽ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ﮔﮯ
ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺗُﻢ ﺍﺗﻨﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﮞ ﮐﯿﻮﮞ
ﮨﻮ؟
ﺍُﻧﮕﻠﯿﺎﮞ ﺍُﭨﮭﯿﮟ ﮔﯽ ﺳُﻮﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﯽ
ﻃﺮﻑ!
ﺍِﮎ ﻧﻈﺮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﮔُﺰﺭﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﮐﯽ
ﻃﺮﻑ!
ﭼُﻮﮌﯾﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﺌﯽ ﻃﻨﺰ ﮐﺌﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ
ﮐﺎﻧﭙﺘﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﭘﮧ ﺑﮭﯽ ﻓﻘﺮﮮ ﮐﺴﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ
ﻟﻮﮒ ﻇﺎﻟِﻢ ﮨﯿﮟ ﮨﺮ ﺍِﮎ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﻃﻌﻨﮧ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ
ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﺫِﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ
ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺫﺭﺍ ﺳﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﺛﺮ ﻣﺖ ﻟﯿﻨﺎ
ﻭﺭﻧﮧ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﮧ ﺗﺎﺛُّﺮ ﺳﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ
ﭼﺎﮨﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺍُﻥ ﺳﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺍُﻥ ﺳﮯ
ﺑﺎﺕ ﻧﮑﻠﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺩُﻭﺭ ﺗَﻠَﮏ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ

Thursday, November 6, 2014

میاں داد خان سیّاح

قیس جنگل میں اکیلا ہے ،،،مجھے جانے دو !
خوب گذرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو !
جاں بَلَب دیکھ کے مجھ کو مسیحا نے کہا !
لا دوا درد ہے یہ، ،،،،،کیا کروں مر جانے دو !
لال ڈورے تری آنکھوں میں جو دیکھے تو کھُلا !
مئے گُل رنگ سے لبریز ہیں ،،،،،،،پیمانے دو !
ٹھہرو! تیوری کو چڑھائے ہوئے جاتے ہو کدھر !
دل کا صدقہ تو ابھی سر سے اتر جانے دو !
منع کیوں کرتے ہو عشقِ بُتِ شیریں لب سے !
کیا مزے کا ہے یہ غم دوستو ،، غم کھانے دو !
ہم بھی منزل پہ پہنچ جائیں گے مرتے کھپتے !
قافلہ یاروں کا جاتا ہے اگر ،،،،،،،،،،، جانے دو !
شمع و پروانہ نہ محفل میں ہوں باہم زنہار !
شمع رُو نے مجھے بھیجے ہیں یہ پروانے دو !
ایک ،،،،عالم نظر آئے گا گرفتار تمھیں !
اپنے گیسوئے رسا تا بہ کمر جانے دو !
سخت جانی سے میں عاری ہوں نہایت ارے تُرک !
پڑ گئے ہیں تری شمشیر میں ،،،،،،،، دندانے دو !
ہمدمو دیکھو، ،، الجھتی ہے طبیعت ہر بار !
پھر یہ کہتے ہیں کہ مرتا ہے تو مر جانے دو !
حشر میں ،، پیشِ خدا فیصلہ اس کا ہو گا !
زندگی میں مجھے اس گبر کو ترسانے دو !
گر محبت ہے تو وہ مجھ سے پھرے گا نہ کبھی !
غم نہیں ہے مجھے ،،،،،،،غمّاز کو بھڑکانے دو !
جوشِ بارش ہے ابھی تھمتے ہو کیا ارے اشکو !
دامنِ کوہ و بیاباں کو تو ،،،،،،،،،،، بھر جانے دو !
واعظوں کو ،،،،،،،،، نہ کرے منع نصیحت سے کوئی !
میں نہ سمجھوں گا کسی طرح سے سمجھانے دو !
رنج دیتا ہے جو وہ پاس نہ جاؤ سیّاحؔ !
مانو کہنے کو مرے دُور کرو جانے دو !

(ساغر صدیقی)

غزل
یقین کر کہ یہ کہنہ نظام بدلے گا
مرا شعور مزاج عوام بدلے گا
یہ کہہ رہی ہیں فضائیں بہار ہستی کی
نیا طریق قفس اور دام بدلے گا
نفس نفس میں شرارے سے کروٹیں لیں گے
دلوں میں جذبہء محشر خرام بدلے گا
مروتوں کے جنازے اٹھائے جائیں گے
سنا ہے ذوق سلام و پیام بدلے گا
دل و نظر کو عطا ہوں گی مستیاں ساغر
یہ بزم ساقی یہ بادہ یہ جام بدلے گا

Wednesday, October 22, 2014

شکیل بدایونی


مرے ہم نفس، مرے ہم نوا، مجھے دوست بن کے دغا نہ دے
میں ہوں دردِ عشق سے جاں بلب مجھے زندگی کی دُعا نہ دے
میں غمِ جہاں سے نڈھال ہوں کہ سراپا حزن و ملال ہوں
جو لکھے ہیں میرے نصیب میں وہ الم کسی کو خُدا نہ دے
نہ یہ زندگی مری زندگی، نہ یہ داستاں مری داستاں
میں خیال و وہم سے دور ہوں، مجھے آج کوئی صدا نہ دے
مرے گھر سے دور ہیں راحتیں، مجھے ڈھونڈتی ہیں مصیبتیں
مجھ خوف یہ کہ مرا پتہ کوئی گردشوں کو بتا نہ دے
مجھے چھوڑ دے مرے حال پر، ترا کیا بھروسہ اے چارہ گر
یہ تری نوازشِ مختصر ، مرا درد اور بڑھا نہ دے
مرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں
مجھے خوف آتشِ گُل سے ہے کہیں یہ چمن کو جلا نہ دے
درِ یار پہ بڑی دھوم ہے ، وہی عاشقوں کا ہجوم ہے
ابھی نیند آئی ہے حُسن کو کوئی شور کر کے جگا نہ دے
مرے داغِ دل سے ہے روشنی یہی روشنی مری زندگی
مجھے ڈر ہے اے مرے چارہ گر یہ چراغ تُو ہی بُجھا نہ دے
وہ اُٹھے ہیں لے کے خم و سبو، ارے اے شکیل کہاں ہے تُو
ترا جام لینے کو بزم میں ، کوئی اور ہاتھ بڑھا نہ دے

Monday, October 20, 2014

aik nazam

کتاب سادہ رہے گی کب تک؟
کبھی تو آغاز باب ہو گا۔۔۔
جنہوں نے بستی اجاڑ ڈالی،
کبھی تو انکا حساب ہوگا۔۔۔۔
سحر کی خوشیاں منانے والو۔۔
سحر کے تیور بتا رہے ہیں۔۔۔
ابھی تو اتنی گھٹن بڑھے گی،
کہ سانس لینا عذاب ہو گا۔۔۔۔۔
وہ دن گیا جب کہ ہر ستم کو،
ادائے محبوب سمجھ کے چپ تھے،
اٹَھے گی ہم پر جو اینٹ کوئی۔۔۔
تو پتھر اسکا جواب ہو گا۔۔۔۔۔۔
سکون صحرا میں بسنے والو۔۔
ذرا رتوں کا مزاج سمجھو۔۔
جو آج کا دن سکوں سے گزرا۔۔
تو کل کا موسم خراب ہو گا۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, September 9, 2014

امجد اسلام امجد

گِلہ ہوا سے نہیں ہے ہوا تو اندھی تھی
مگر وہ برگ کہ ٹُوٹے تو پھر ہرے نہ ہوئے
مگر وہ سر کہ جُھکے اور پھر کھڑے نہ ہوئے
مگر وہ خواب کہ بِکھرے تو بے نشاں ٹھہرے
مگر وہ ہاتھ کہ بِچھڑے تو استخواں ٹھہرے
گِلہ ہوا سے نہیں، تُندیٔ ہوا سے نہیں
ہنسی کے تیر چلاتی ہوئی فضا سے نہیں
عدُو کے سنگ سے اغیار کی جفا سے نہیں
گِلہ تو گِرتے مکانوں کے بام ودر سے ہے
گِلہ تو اپنے بِکھرتے ہوئے سفر سے ہے
ہوا کا کام تو چلنا ہے، اس کو چلنا تھا
کوئی درخت گِرے یا رہے، اُسے کیا ہے
گِلہ تو اہلِ چمن کے دل و نظر سے ہے
خزاں کی دُھول میں لِپٹے ہوئے شجر سے ہے
گِلہ سحر سے نہیں، رونقِ سحر سے ہے

مجاز

آوارہ

شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارہ پھروں
جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں
غیر کی بستی ہے کب تلک دربدر مارا پھروں
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں

جھلملاتے قمقموں کی راہ میں زنجیر سی
رات کے ہاتھوں میں دن کی موہنی تصویر سی
میرے سینے پر مگر چلتی ہوئی شمشیر سی
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں

یہ رُوپہلی چھاؤں، یہ آکاش پر تاروں کا جال
جیسے صُوفی کا تصوّر، جیسے عاشق کا خیال
آہ! لیکن کون جانے، کون سمجھے جی کا حال
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں

پھر وہ ٹُوٹا اِک ستارا، پھر وہ چُھوٹی پُھلجھڑی
جانے کس کی گود میں آئے یہ موتی کی لڑی
ہُوک سی سینے میں اُٹھی چوٹ سی دل پر پڑی
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں

رات ہنس ہنس کر یہ کہتی ہے کہ مے خانے میں چل
پھر کسی شہنازِ لالہ رُخ کے کاشانے میں چل
یہ نہیں ممکِن تو پھر اے دوست ویرانے میں چل
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں

ہر طرف بکھری ہوئی، رنگینیاں، رعنائیاں
ہر قدم پر عشرتیں لیتی ہوئی انگڑائیاں
بڑھ رہی ہیں گود پھیلائے ہوئے رُسوائیاں
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں

راستے میں رُک کے دَم لے لوں، میری عادت نہیں
لوٹ کر واپس چلا جاؤں، میری فطرت نہیں
اور کوئی ہمنوا مل جائے، یہ قسمت نہیں
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں

مُنتظر ہے ایک طُوفانِ بَلا، میرے لئے
اب بھی جانے کتنے دروازے ہیں وَا میرے لئے
پر مصیبت ہے، مرا عہدِ وفا میرے لئے
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں

جی میں آتا ہے کہ اب عہدِ وفا بھی توڑ دوں
اُن کو پا سکتا ہوں یہ آسرا بھی چھوڑ دوں
ہاں مناسب ہے یہ زنجیرِ ہوا بھی توڑ دوں
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں

اِک محل کی آڑ سے نکلا وہ پِیلا ماہتاب
جیسے مُلّا کا عمامہ، جیسے بنئے کی کتاب
جیسے مُفلس کی جوانی، جیسے بیوہ کا شباب
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں

دل میں اِک شعلہ بھڑک اُٹھا ہے، آخر کیا کروں
میرا پیمانہ چھلک اُٹھا ہے، آخر کیا کروں
زخم سینے کا مہک اُٹھا ہے، آخر کیا کروں
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں

مُفلسی اور یہ مظاہر ہیں نظر کے سامنے
سینکڑوں چنگیز و نادر ہیں نظر کے سامنے
سینکڑوں سُلطان و جابر ہیں نظر کے سامنے
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں

لے کے ہر چنگیز کے ہاتھوں سے خنجر توڑ دوں
تاج پر اُس کے دَمکتا ہے جو پتھر توڑ دوں
کوئی توڑے یا نہ توڑے، میں ہی بڑھ کر توڑ دوں
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں

بڑھ کے اِس اِندر سبھا کا ساز و ساماں پُھونک دوں
اِس کا گُلشن پُھونک دوں، اُس کا شبستاں پُھونک دوں
تختِ سُلطاں کیا میں سارا قصرِ سُلطاں پُھونک دوں
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں

جی میں آتا ہے، یہ مُردہ چاند تارے نوچ لوں
اِس کنارے نوچ لوں اور اُس کنارے نوچ لوں
ایک دو کا ذکر کیا، سارے کے سارے نوچ لوں
اے غمِ دل کیا کروں، اے وحشتِ دل کیا کروں

Sunday, August 17, 2014

انشأ اللہ خان انشا

کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے، باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
نہ چھیڑ اے نکہتِ بادِ بہاری راہ لگ اپنی
تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں، ہم بیزار بیٹھے ہیں
خیال ان کا پرے ہے عرشِ اعظم سے کہیں ساقی
غرض کچھ اور دُھن میں اس گھڑی میخوار بیٹھے ہیں
بسانِ نقش پائے رہرواں کوئے تمنّا میں
نہیں اٹھنے کی طاقت، کیا کریں، لا چار بیٹھے ہیں
یہ اپنی چال ہے افتادگی سے ان دنوں پہروں
نظر آیا جہاں پر سایۂ دیوار بیٹھے ہیں
کہیں ہیں صبر کس کو، آہ ننگ و نام کیا شے ہے
غرض رو پیٹ کر ان سب کو ہم یکبار بیٹھے ہیں
کہیں بوسہ کی مت جرأت دلا کر بیٹھیو ان سے
ابھی اس حد کو وہ کیفی نہیں، ہُشیار بیٹھے ہیں
نجیبوں کا عجب کچھ حال ہے اس دور میں یارو
جسے پوچھو یہی کہتے ہیں ہم بیکار بیٹھے ہیں
نئی یہ وضع شرمانے کی سیکھی آج ہے تم نے
ہمارے پاس صاحب ورنہ یوں سو بار بیٹھے ہیں
کہاں گردش فلک کی چین دیتی ہے سنا انشا
غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں
انشأ اللہ خان انشا

ساحر لدھیانوی

میرے خوابوں کے جھروکوں کو سجانے والی
تیرے خوابوں میں کہیں میرا گزر ھے کہ نہیں ؟؟
پوچھ کر اپنی نگاہوں سے بتا دے مجھ کو
میری راتوں کے مقدر میں سحر ھے کہ نہیں؟؟
چار دن کی یہ رفاقت جو رفاقت بھی نہیں
عمر بھر کے لیے آزار ھوئی جاتی ھے
زندگی یوں تو ھمیشہ سے پریشاں سی تھی
اب تو ھر سانس گراں بار ھوئی جاتی ھے
میری اُجڑی ھوئی نیندوں کے شبستانوں میں
تو کسی خواب کے پیکر کی طرح آئی ھے
کبھی اپنی سی ۔۔۔۔۔۔ کبھی غیر نظر آئی ھے
کبھی اخلاص کی مورت ۔۔۔۔۔۔ کبھی ہرجائی ھے
پیار پر بس تو نہیں ھے مرا لیکن پھر بھی
تو بتا دے کہ تجھے پیار کروں یا نہ کروں
تو نے خود اپنے تبسم سے جگایا ھے جنہیں
اُن تمناوں کا اظہار کروں یا نہ کروں
تو کسی اور کے دامن کی کلی ہے لیکن
میری راتیں تری خوشبو سے بسی رھتی ھیں
تو کہیں بھی ھو ترے پھول سے عارض کی قسم
تیری پلکیں مری آنکھوں پہ جھکی رھتی ھیں
تیرے ہاتھوں کی حرارت ترے سانسوں کی مہک
تیرتی رھتی ھے احساس کی پہنائی میں
ڈھونڈھتی رھتی ھیں تخیل کی بانہیں تجھ کو
سرد راتوں کی سُلگتی ھوئی تنہائی میں
تیرا اندازِ کرم ایک حقیقت ھے مگر
یہ حقیقت بھی حقیقت میں فسانہ ھی نہ ھو
تیری مانوس نگاھوں کا یہ محتاط پیام
دل کے خوں کرنے کا ایک اور بہانہ ھی نہ ھو
کون جانے میرے امروز کا فردا کیا ھے ؟؟
قربتیں بڑھ کے پشیمان بھی ھو جاتی ھیں
دل کے دامن سے لپٹتی ھوئی رنگیں نظریں
دیکھتے دیکھتے انجان بھی ھو جاتی ھیں
میری درماندہ جوانی کی تمناوں کے
مضمحل خواب کی تعبیر بتا دے مجھ کو
تیرے دامن میں گلستاں بھی ھیں ویرانے بھی
میرا حاصل مری تقدیر بتا دے مجھ کو
\"ساحر لدھیانوی\"

Monday, August 11, 2014

تبصرہ

بہت خوبصورت۔۔ جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ کہیں بھی کوئی لچک یا کمزوری نہیں دکھائی دے رہی۔ ایک مکمل افسانہ۔ منظرنگاری اور اسلوب کیلئے بھرپور داد ۔بہت ہی سادہ انداز میں کہانی کا آغاز کرنے کے بعد دھیرے دھیرے جس طرح کیفیات اور احساسات کو اور ماحول کے اتار چڑھائو کو لفظوں میں ڈھالا ہے وہ لاشعوری طور پر قاری کو متاثر کرتی ہوئی اس کے ذہن میں اترتی چلی جاتی ہے۔محبت کرنا اپنی جگہ ایک تسکین لئے ہوتی ہے لیکن محبت کو کھونا بھی اسے سدا بہار بنا دیتی ہے۔انسان اپنی خواہشات تو چھوڑ سکتا ہے لیکن اپنی محبت سے دستبرادی کیلئے وہ کبھی تیار نہیں ہوتا۔وصل کے لفظ میں ہمیشہ ایک امید ہوتی ہے، ایک تسکین ہوتی ہے لیکن ہجر ہمیشہ اذیت کا نام ہوتا ہے۔ جس کے ساتھ مایوسی اور تکلیف جڑی ہوتی ہے۔لیکن محبت کے جس موڑ پر یہ کہانی لکھی گئی ہے اس نے محبت کو بھی ایک سدا کی سہاگن بنا دیا ہے۔محبت بہت مضبوط چیز ہوتی ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا نہ سماج نہ روایات۔ نہ خاندان نہ معاشرہ۔ محبت مضبوط بناتی ہے طاقتور بناتی ہے۔نڈر اور دلیر بناتی ہے۔محبت کو دور تو کر سکتے ہو، قید بھی لیکن محبت سے دستبرادری پر مجبور نہیں۔فرقت کے صدمے ہوں یا پھر لذت الم۔ حقارت کے سبکی ہو یا پھر نظر اندازی کا غم لیکن جونہی محبت کو نمی میسر آتی ہے وہ پھر سے پنپنا شروع کردیتی ہے۔ایک نیا تعلق، ایک نیا بندھن، محبت کا نیا جنم ، محبت کا عمل تجدید۔۔۔ جس نفاست سے اختتام کیا ہے اس کے بعد اس کو ایک مکمل افسانہ قرار دیا جاسکتا ہے

Friday, May 23, 2014

(اقبال عظیم)

مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا سرِ بزم رات یہ کیا پوا
میری آنکھ کیسے چھلک گئی، مجھے رنج ہے یہ برا ہوا
میری زندگی کے چراغ کا یہ مزاج کوئی نیاء نہیں
ابھی روشنی ابھی تیرگی، نہ جلا ہوا نہ بجھا ہوا
مجھے جو بھی دشمنِ جاں ملا وہی ہختہ کارِ جفا ملا
نہ کسی کی ضرب غلط پڑی نہ کسی کا تیر خطا ہوا
مجھے آپ کیوں نہ سمجھ سکے کبھی اپنے دل سے بھی پوچھیۓ
میری داستانِ حیات کا تو ہر ورق ہے کھلا ہوا
جو نظر بچا کے گزر گئے میری سامنے سے ابھی ابھی
یہ میرے ہی شہرکے لوگ تھے، میری گھر سے گھر ہے ملا ہوا
ہمیں اس کا کوئی حق بھی نہیں کہ شریکِ بزمِ خلوص ہوں
نہ ہمارے پاس نقاب ہے نہ کچھ آستیں میں چھپا ہوا
میرے اک گوشہِ فکر میں میری زندگی سے عزیز تر
میرا اک ایسا بھی دوست ہے جو کبھی ملا نہ جدا ہوا
مجھے اک گلی میں پڑا ہوا کسی بدنصیب کا خط ملا
کہیں خونِ دل سے لکھا ہوا کہیں آنسوؤں سے مٹا ہوا
مجھے ہمسفر بھی ملا کوئی تو شکستہ حال میری طرح
کئی منزلوں کا تھکا ہوا، کہیں راستے میں لٹا ہوا
ہمیں اپنے گھر سے چلے ہؤے سرِ راہ عمر گزر گئی
کوئی جستجو کا صلہ ملا نہ سفر کا حق ادا ہوا

مسکرایئے


بیوی: (پیار سے) مجھے تم سے بہت پیار ہے
خاوند:(تھکا تھکا سا) مجھے بھی تم سے پیار ہے
بیوی: تم پریشان پریشان سے کیوں لگ رہے ہو؟
خاوند: کوئی خاص بات نہیں ، ویسے ہی موڈ کچھ آف ہے
بیوی: دوستوں کے ساتھ تو بہت خوش رہتے ہو، اور میرے ساتھ یہ ڈرامہ؟
خاوند: (پیار سے) ایسا کچھ نہیں ہے، میری جان۔بس کچھ طبیعت ٹھیک نہیں ہے
بیوی: ہاں ،ہاں۔اگر ابھی کسی دوست کافون آجائے تو تین منٹ میں ساری طبیعت ٹھیک ہوجائے گی 
خاوند: یہ دوست کہاں سے آگئے، بتایا تو ہے، بس موڈ کچھ خراب ہے
بیوی: مجھے دیکھ کر ہی موڈ آف ہوجاتا ہے، دوستوں کو مل کر تو بہت مزے کرتے ہو۔بڑی پوز بنا بنا کر تصویریں کھنچواتے ہو۔ پوز تو ایسے بنواتے ہو جیسے کسی لڑکی کو بھیجنی ہوں۔
خاوند: (پیار سے) بات کو کہاں سے کہاں لے جارہی ہو
بیوی: آج سب کچھ کلیئر ہوجانا چاہیئے۔
خاوند: (جھنجھلاہٹ میں) کیا کلیئر ہوجا چاہیئے ؟ 
بیوی: (کچھ کنفیوز ہوتے ہوئے) جب تم خود کلیر نہیں ہو، تو میں کیا کلیر کرواؤں؟
خاوند: (موڈ بہتر بناتے ہوئے) تمہیں آخر ہوا کیا ہے؟ آخر کس بات پر ناراض ہو؟ چلو بتاؤ نا
بیوی: تم سدھرنے والے نہیں ہو
خاوند: اچھا بتاؤ میں اپنے اندر کیا ٹھیک کروں؟
بیوی: بہت ہوگیا، اب اور نہیں۔۔۔
خاوند: ( پوری طرح کنفیوز) یہ تو بتا دو ہوا کیا ہے؟
بیوی: میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی۔
خاوند: یہ بات تمہارے ذہن میں کہاں سے آئی ؟
بیوی: میں میکے جارہی ہوں
خاوند: اچھا ٹھیک ہے
بیوی: ہاں ہاں تم یہی تو چاہتے ہو کہ میں میکے چلی جاؤں اور تم اپنی مرضی کر سکو
خاوند: ارے تم نے خود ہی تو بولا تھا، میں نےکیا غلط کہہ دیا؟
بیوی: اتنی بری لگتی ہوں تو بولا کیوں نہیں، میں خود ہی تمہاری زندگی سے چلی جاتی۔
خاوند: ( اپنے سر کے بال کھینچتے ہوے) مجھے میری غلطی تو بتا دو
بیوی: وقت آنے پر نمہیں سب کچھ یاد آجائے گا، جب میں تمہارے گھر سے چلی جاؤں گی
خاوند: اچھا تو میں انتظار کرتا ہوں ، صحیح وقت کے آنے کا۔۔
بیوی: تم کبھی تو سنجیدہ ہوجایا کرو
خاوند: اب کیا سیجیدہ ہونے کیلئے ہسپتال میں داخل ہوجاؤں
بیوی: میری طرف سے جہنم میں جاؤ۔۔۔
اٹھ کر کمرے سے نکل جاتی ہے
تین گھنٹے بعد
بیوی: تمہیں پتا ہے کہ میں تمہارے بغیر رہ نہیں سکتی ہوں۔مجھے تم سے بہت پیار ہے
خاوند: ( سب کچھ بھول کر ) مجھے بھی تم سے بہت پیار ہے
بیوی: یہ تم پریشان پریشان کیوں لگ رہے ہو؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

Thursday, May 22, 2014

تبصرہ

یہ عاجزی، تحمل، بردباری ہی تو جس نے ایسے شعور میں رہنے کا حوصلہ دے رکھا ہے جو ابھی اٹھارویں صدی میں جی رھا ہے۔ بات محض اپنے احساسات اور جذبات کو دوسروں تک پہنچانے کی نہیں ہے بلکہ ان مسائل کی نشاندگی کرنا ہے جس سے ہمارے پسیماندہ علاقوں میں خدمات سرانجام دینے والے افراد کو گزرنا پڑتا ہے۔ 
اور شائد اس گہری خلیج کی طرف بھی نشاندھی کرنا ہےجو ہماری عوام اور حکام بالا کے درمیان موجود ہے۔ جب تک ہمیں ہمارے مسائل سے اآگاہی نہیں ہوگی ۔اس شعور کو سمجھنے کی کوشش نہیں کریں گے جن کا ہمیں سامنا ہے۔ہم اپنے مسائل کو حل نہیں کر سکتے۔۔ہمارے لوگوں کی ذہن سازی آج بھی درباروں پر ہوتی ہے۔توہم پرستی ان کی گھٹی میں اتر ہوچکی ہے۔ ان کی تربیت جس تعلیم کے ذریئے ہورہی وہ اس قدر فرسودہ اورروایتی ہے کہ اس میں تبدیلی لائے بغیر کوئی بھی انقلابی قدم اٹھانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے
ہمارے دیہاتوں قصبوں اور گائوں یں رہنے والے ابھی جس شعور میں رہ رہے ہیں وہ اس قدر فرسودہ ہے کہ جس میں عزم واستقلال سے مزین معاشرہ تشکیل ہی نہیں دیا جاسکتا۔ جس میں آگہی کی گردان بے معنی ہے اور جس نے لوگوں کو اایسی بندھنوں میں جکڑ رکھا ہے جن کا تعلق نہ مذہب سے ہے نہ ثقافت سے اور نہ روایات سے ۔ بس کسی ویرانے میں اگی خرد رو جڑی بوٹیوں کی طرح معاشروں میں رچ بس گئی ہیں
یہ لوگوں کی سادگی کا مذاق نہیں ہے نہ ہی کم فہمی پر طنز ہے۔یہ تو دھرکتے دل کے ساتھ بڑے مہذبانہ، شاعرانہ اندازمیں معاشرے کے نامسائد حالات کی عکاسی ہے۔جس میں ہم لوگ جی رہے ہیں

مسکرایئے

ایگریکلچر یونیورسٹی کے پروفیسر نے جنگل میں ایک پرانے درخت کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے طلبا سے کہا۔۔۔ 
\"یہ دو سوسال پُرانا برگد کا درخت ہے، اگر اِس کی زبان ہوتی تو یہ نہ جانے کیا کہتا\"۔
ایک چرواہا جو وہیں قریب ہی موجود تھا، اُس نے کہا\" جناب یہ کہتا میں برگد نہیں پیپل کا درخت ہوں۔

Wednesday, May 21, 2014

تبصرہ


زندگی میں بھلا تسلی کیلئے محبت سے بڑی کوئی چیز ہوتی ہے؟ لگن سچی ہوتو سمندر بھی رستہ دے دیتے ہیں۔پہاڑ بھی اپنی چوٹیوں کو سرنگوں کر دیتے ہیں۔اب بھلا کوئ ذہن کی بجائے محض الفاظ کے سہارے جذبات سے کھیلنا چاہے تو پھر جو دل چاہے تصویر بنائے؟؟؟ اس فہم اور شعور کو کیا نام دوں جو چاہے تو مرد کو وحشی درندہ ثآبت کرے ۔چاہے تو کبھی آوارہ بھنورہ۔ ۔ دل کرے توکبھی دیوتا کی نظر سے دیکھے، من چاہے تو تکمیل کی جستجو میں اس کا تعاقب کرے۔۔۔۔۔۔
پانا اور کھونا محبت کی تسکین بنتے ہیں۔من کی یہ اڑان مرد بھی چاہتا ہے اور عورت بھی۔ لیکن یہ جو عورت اور مرد میں جنسی تعصب کا پہلو ہے اسے پروان مت چڑھنے دیں۔ جہاں انسان کو برابری کی بنیاد پر تقسیم کیا جارھا وہاں پر خلش، کسک جیسے الفاظ جنم نہیں لیا کرتے۔ اگر ان کو پنپنے کا موقع دیا ہی گیا ہے تو پھر مورد الزام ایک فریق کو کیوں؟ اگر مرد کے پاس خوشنما اور سحر انگیز لفظؤں کا ذخیرہ ہے تو عورت بھی دلفریب ادائوں کے فطری حسن سے مالا مال ہے۔اس کی اآواز بھی تو بہت شیریں ہے۔اس کی ہنسی میں کسی اآبشار کی دلکشی دکھائی دیتی ہے۔ اور مرد ان ادائوں کو محبت سمجھ کر بندھن کے خواب دیکھنے لگتا ہے۔ اگر محض الفاظ کے طلسم کے زیراثر عورت کوئی غلط قدم اٹھا لیتی ہے تو اس کا الزام مرد کو کیوں؟؟؟
عورت کا خمیر محبت سے اٹھایا گیا ہے۔ وہ محبت کے لئے فطری طور پر مجبور ہے۔اپنے تحفظ کیلئے۔۔۔ اپنی بقا کیلئے۔۔اس محبت کیلئے وہ مجبور بھی ہے اور خوشی کی کیفیت لئے ہوئے بھی۔۔۔لیکن محبت کی اس تلاش میں وہ فریب کھائے تو اس کا الزام مرد کو کیوں؟
مرد بھی چاہتا ہے وہ ریشمی بندھن میں بندھا رہے۔ وہ بھی ازل سے ابد تک اس بندھن کو نبھانے کیلئے تگ ودو کرتا ہے۔وہ تو اس قدر معصوم ہوتا ہے کہ عورت سے اسی وارفتگی کی ہمیشہ توقع رکھتا ہے جو اس نے پہلے دن محسوس کی تھی۔ وہ ازل ابد کے معنی اسی بندھن کے ساتھ جوڑ دیتا ہے جو اس نے پہلے دن سیکھے ہوتے ہیں ۔۔۔لیکن عورت اپنی محبت مرد سے چھین کر اسے رشتوں میں تقسیم کر دیتی ہے۔ محبت کی تلاش میں ڈگمگائے ہوئے قدموں کو مرد کے نام کر دیتی ہے۔ تو مرد کس کو الزام دے؟؟؟؟
چلو یہ مان لیا کہ مرد جو ہمیشہ تسخیر کے جذبے سے مسلح رہتا ہے اور وہ عورت کو کمزور دیکھنا چاہتا ہے لیکن اس کمزوری کا احساس ایک عورت دلائے تو الزام کس کے سر؟؟؟؟

مسکرایئے

ایک صاحب نے اپنی بیوی سے شکوہ کیا کہ تمہیں ویسی روٹیاں نہیں پکانی آتیں جیسی میری امی پکاتی تھیں۔ اس پر بیوی نے جواب دیا اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہیں ویسا اآٹا گوندھنا نہیں اآتا جیسا تمہارے ابا گوندھا کرتے تھے

Tuesday, May 20, 2014

ایک تبصرہ

یہ عاجزی، تحمل، بردباری ہی تو جس نے ایسے شعور میں رہنے کا حوصلہ دے رکھا ہے جو ابھی اٹھارویں صدی میں جی رھا ہے۔ بات محض اپنے احساسات اور جذبات کو دوسروں تک پہنچانے کی نہیں ہے بلکہ ان مسائل کی نشاندگی کرنا ہے جس سے ہمارے پسیماندہ علاقوں میں خدمات سرانجام دینے والے افراد کو گزرنا پڑتا ہے۔ 
اور شائد اس گہری خلیج کی طرف بھی نشاندھی کرنا ہےجو ہماری عوام اور حکام بالا کے درمیان موجود ہے۔ جب تک ہمیں ہمارے مسائل سے اآگاہی نہیں ہوگی ۔اس شعور کو سمجھنے کی کوشش نہیں کریں گے جن کا ہمیں سامنا ہے۔ہم اپنے مسائل کو حل نہیں کر سکتے۔۔ہمارے لوگوں کی ذہن سازی آج بھی درباروں پر ہوتی ہے۔توہم پرستی ان کی گھٹی میں اتر ہوچکی ہے۔ ان کی تربیت جس تعلیم کے ذریئے ہورہی وہ اس قدر فرسودہ اورروایتی ہے کہ اس میں تبدیلی لائے بغیر کوئی بھی انقلابی قدم اٹھانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے
ہمارے دیہاتوں قصبوں اور گائوں یں رہنے والے ابھی جس شعور میں رہ رہے ہیں وہ اس قدر فرسودہ ہے کہ جس میں عزم واستقلال سے مزین معاشرہ تشکیل ہی نہیں دیا جاسکتا۔ جس میں آگہی کی گردان بے معنی ہے اور جس نے لوگوں کو اایسی بندھنوں میں جکڑ رکھا ہے جن کا تعلق نہ مذہب سے ہے نہ ثقافت سے اور نہ روایات سے ۔ بس کسی ویرانے میں اگی خرد رو جڑی بوٹیوں کی طرح معاشروں میں رچ بس گئی ہیں
یہ لوگوں کی سادگی کا مذاق نہیں ہے نہ ہی کم فہمی پر طنز ہے۔یہ تو دھرکتے دل کے ساتھ بڑے مہذبانہ، شاعرانہ اندازمیں معاشرے کے نامسائد حالات کی عکاسی ہے۔جس میں ہم لوگ جی رہے ہیں :)

Monday, April 28, 2014

ایک شعر

جو آنا چاہو ہزار رستے، نہ آنا چاہو تو عُذر لاکھوں
مزاج برہم، طویل رستہ، برستی بارش، خراب موسم

Wednesday, April 16, 2014

محسن نقوی

وہ اجنبی ا اجنبی سے چہرے وہ خواب خیمے رواں دواں سے
بسے ھوئے ھیں ابھی نظر میں سبھی مناظر دھواں دھواں سے
یہ سنگ ریزے عداوتوں کے وہ آبگینےسخاوتوں کے
دل ِ مسافر قبول کر لے ملا ھے جو کچھ جہاں جہاں سے
مری محبت کے واہموں سے پرے تھا تیرا وجود ورنہ
جہاں جہاں تیرا عکس ٹھہرا میں ھو کے آیا وہاں وہاں سے
تو ھم نفس ھے نہ ہمسفر ھے کسے خبر ھے کہ تو کدھر ھے
میں دستکیں دے کے پوچھ بیٹھا مکین مکیں سے مکاں مکاں سے
ابھی محبت کا اسم اعظم لبوں پہ رہنے دے جان محسن
ابھی ھے چاہت نئی نئی سی ابھی ھیں جذبے جواں جواں سے

ایک نظم

کبھی یاد آئو تو اس طرح
کہ لہو کی ساری تمازتیں
تمہیں دھوپ دھوپ سمیٹ لیں
تمہیں رنگ رنگ نکھار دیں
تمہیں حرف حرف میں سوچ لیں
تمہیں دیکھنے کا جو شوق ہو
تو دیار ہجر کی تیرگی
کو مِہ کی نوک سے نوچ لیں
کبھی یاد آئو تو اس طرح
کہ دل منظر میں اتر سکو
کبھی کھل سکو شب وصل میں
کبھی خون دل میں سنور سکو
سر رہگذر جو ملو کبھی
نہ ٹھہر سکو‘ نہ گر سکو
میرا درد پھر سے غزل بنے
کبھی گنگنائو تو اس طرح
میرے زخم پھر سے گلاب ہوں
کبھی مسکرائو تو اس طرح
میری دھڑکنیں بھی لرز اٹھیں
کبھی چوٹ کھائو تو اس طرح
کبھی یاد آئو تو اس طرح
کبھی یاد آئو تو اس طرح…!

Tuesday, April 15, 2014

کمنٹ

یہ واقعہ ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کے نمائندے نے سنایا تھا کہ بھکر کے علاقے میں ایک کوئیک کے ہاں ایبٹ کمپنی کی ایک گولی ایریبرون بہت لکھی جارہی تھی ۔ایریبرون کے بارے میں بتاتا چلوں ایک انٹی بائیاٹک ہے اور عام طور پر گلے کی خرابی کھانسی وغیرہ میں استعمال کی جاتی ہے۔۔۔ کمپنی کی نئی انتظامیہ تعینات ہوئی تو انہیں تجسس ہوا کہ ایک بار اس پریکٹشنر سے ملیں تو سہی جو پورے علاقے میں سب سے زیادہ سیل دے رھا ہے۔۔ دور دراز کے ایک گائوں میں جب اسے ملنے پہنچے تو وہاں مریضوں کا ایک جم غفیر تھا۔ جب اسے بتایا گیا کہ دوائیوں کی کمپنی سے آئے ہیں تو اس نے بھرپور استقبال کیا۔ کمپنی کے سینئر نے اپنے روایئتی انداز میں اپنی سیل مزید بڑھانے کیلئے بتایا کہ اس گولی کا استعمال کان کی انفیکشن اور جلد پر پھوڑوں اور پیشاب کی نالی میں انفیکشن کیلئے بھی کیا جاسکتاہے۔۔۔ یہ سن کر کوئیک نے بڑی حیرت سے پوچھا تو کیا یہ طاقت کی گولی نہیں ہے ؟؟؟؟؟؟ْْ

کمنٹس


کمنٹس کرنے والے تمام احباب اپنی ازدواجی حیثیت سے ضرور آگاہ کریں تاکہ کمنٹس کے وزن کا اندازہ ہوسکے۔ چونکہ رضوان بھائی کی طرف سے پیش کی گئی حدیث سے اختلاف کرنا ممکن نہیں اس لئے اپنی ذاتی رائے پیش کرنا شائد ممکن نہیں رھا۔۔
ویسے پوسٹ بالا کنوارگان کیلئے بہت سنجیدگی کی حامل ہے لیکن شدگان کیلئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا کہتے ہیں اپنے نسیم بھائی؟؟
زندگی مختصر نہ سہی لیکن اتنی طویل بھی نہیں کہ ہمسفر کیلئے صرف شریک حیات پر ہی انحصار کیا جائے۔سفر کی کلفتوں کے احساس کو رد کرنے کیلئے کیا ہاتھ تھامنا ضروری ہے؟ کیا احساس محبت کافی نہیں ؟ کیا صرف شریک حیات کے انتخاب کی لاٹری پر ساری زندگی کا انحصار ایک درست فیصلہ ہوگا۔؟ بات شعور کی ہے۔ انتخاب کی ہے۔ پسند نا پسند کی نہیں قسمت کے فیصلوں کی ہے۔
حسیب بھائی کی باتیں محظ لفظوں کی موسیقی ہے۔ جو شائد کسی کی فریاد بن کر نکلے تو کسی کی آہ کی بنیاد بنیں۔ ہم اپنی کیفیات اور احساسات کو دھیرے دھیرے لاشعوری طور پر اپنے ذہن میں ڈال دیتے ہیں۔۔ اور پھر ان احساسات کو لفظوں میں پرو کر ان کو ضروریات کا نام دے دیتے ہیں۔ یہ ضرورتیں مصنوعی نہیں ہیں ، جبلی ہیں لیکن ان کے استدال نرالے ہیں، انوکھے ہیں 
یہ سب فرسودہ بندشیں ہیں۔ بہت معذرت کے ساتھ لیکن زندگی گزارنے کیلئے ہمسفر کی ضرورت کا یہ فلسفہ محدودیت کا احساس پیدا کرتا ہے۔ زندگی مختصر سہی لیکن بہت وسیع ہے۔ وہ بے کنارہ آسمانوں کے نیچے تاحد نظع پھیلی ہوئی ہے۔ اسے محض ایک شریک حیات کے ساتھ نتھی کر دینا کہاں کا انصاف ہے۔ ؟؟؟
ہم ایک مصنوعی معاشرے میں جی رہے ہیں۔ جہاں کی اقدار بھی مصنوعی ، معاشرت بھی۔۔۔۔ کسی کے دلی احساسات کی جھلک کو پہچاننا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ہر ذہن کا شعور وہ نہیں ہوتا جو آپ کا اپنا ہو۔ ترجیحات وہ نہیں ہوتیں ہیں جو آپ کی اپنی ہوں۔سب مشاہدے اور مطالعے کے بھی قائل نہیں ہوتے۔ سب زندگی کے تجربوں سے مسلح بھی نہیں ہوتے۔کہیں سسکتے ارمان ہوتے ہیں تو کہیں عزتوں کے نگہان درکار ہوتے ہیں۔کہیں مرعوبیت درکار ہوتی ہے تو کہیں عظمت کا سکہ بٹھانے کا داعی۔۔کہیں انوکھے جذبے تو کہیں الگ طرح کے احساسات۔ کہیں کوئی فرشتہ بننے کی کوشش میں نظر آئے گا تو کہیں کوئی گریز لہجوں میں پیش ہوگا۔ یہ سب فطری تقاضے ہیں۔ محض جواز ۔۔۔محض جواز۔۔۔ 
ایک جوا ہے لگ گیا تو کسی کو یاد بھی نہیں ہوگا دھوکہ کہاں سے شروع ہوتا ہے۔ اعلی و ارفع جذبے یاد رہیں گے۔ اور جو ہار گئے تو کہاں کی تمازت کہاں کا انتخاب۔۔۔۔ بس پھر فیس بک کو ٹشو پیپر کے طور پر استعمال کیا جائے گا 
یہ سب نصیب کی باتیں ہیں۔ اور ہماری کوششیں اٹکل پچو۔
جب تمنائیں جوان ہوتی ہیں تو وہ خوہشوں کو اکساتی ہیں۔ انقلاب کا رستہ دکھاتی ہیں لیکن جب وقت کی گرمی کچھ اثر دکھاتی ہے تو یہ خواہشیں اوجھل ہوجاتی ہیں ۔انقلاب اپنا رنگ بدل لیتا ہے۔ جو اجکل کی ضرورتیں دکھائی دیتی ہیں کل وہ محض دل کو بہلانے کے کھلونے قرار پائیں گے۔ میری باتوں سے اختلاف ہوگا۔ بہت سے ان کو بے پر کی چھوڑی ہوئی باتیں قرار دیں گے۔ لیکن میں فطری تقاضوں کا انکاری نہیں لیکن محدودیت کا قائل بھی نہیں ہوں۔ 
۔جہاں سب کچھ نصیب نے اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہو وہاں کے طلسم کدے کی کنجی ڈھونڈنے کی جستجوکیسی؟

مسکرایئے

میاں بیوی کے جھگڑے۔۔۔۔ شادی کے مسائل۔۔۔۔ دوسری شادی ۔۔۔ بس کچھ ہٹ کر بھی بات کی جائے ۔ چلیں.. ذہن کو ریلیکس کریں اور کچھ بچپن کی یادیں تازہ کریں اور کٹھے میٹھے لطیفے سنیں۔ کھلکھلایئے۔۔ مسکرائیے۔۔، ہنسنا منع ہے۔۔۔، لطائف۔۔، ہا ہا ہی ہی ہو ہو۔۔۔
ایک بچے نے پیپر پر سو سو کر دیا،مس نے پوچھا یہ کیا کر دیا؟؟؟ بچے نے جواب دیا مما نے کہا تھا جو پہلے آتا ہو وہی کروں۔۔۔۔

ایک بچے نے ایک آدمی سے وقت پوچھا ، تو اس نے بتایا کہ سوا تین بجے ہیں ۔ بچے کچھ کنفیوز ہوکر بولا کہ صبح سے جس سے بھی وقت پوچھتا ہوں مختلف ہی بتا تا ہے۔۔۔۔
ایک بچہ اپنے باپ سے کہنے لگا میں دادی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ باپ حیران ہوکر بولا لیکن یہ کیسے ممکن ہے وہ تو میری امی ہے۔۔بچہ کہنے لگااس میں کیا پریشانی والی بات کیاہے ؟آپ نے بھی تو میری امی سے شادی کی ہوئی ہے۔
ایک بچہ اور بچی سکول میں بریک کے دوران اکٹھے بیٹھے تھے۔ بچی کہنے لگی کیا  ہماری شادی ہوسکتی ہے؟ بچے نے بڑی معصومیت سے جواب دیا۔مجھے مشکل نظر آتا ہے۔ ہمارے خاندان میں صرف رشتہ داروں سے شادی ہوسکتی ہے جیسے امی کی ابو سے، بھائی کی بھابھی سے، چچا کی چچی سے، تایا کی تائی سے۔۔۔
ایک لڑکا اور لڑکی کافی عرصے سے چھپ چھپ کر مل رہے تھے۔ ایک دن لڑکی کہنے لگی میں تنگ آگئی ہوں کیوں نہ ہم شادی کر لیں۔ لڑکے نے خوش ہوکر کہا۔ میرا بھی یہی خیال ہے لیکن ہم سے شادی کرے گا کون؟
ایک دن بیوی نے نے شوہر سے پوچھا کہ کیا آپ مجھ سے پیار نہیں کرتے؟ شوہر نے جواب دیا کیوں نہیں جان۔ بیوی کہنے لگی لیکن آپ کو میری ذرا پرواہ نہیں ہے؟ شوہر نے جواب دیا کیا تم نے کہاوت سنی نہیں ہے کہ پیار کرنے والے کسی کی پروا نہیں کرتے۔
ایک آدمی کو کو دل کا دورہ پڑا ۔ ہسپتال میں ایک دوست تیمارداری کرنے آیا تو کہنے لگا تم تو ہٹے کٹے تھے یہ دل کا مرض کیسے لگ گیا ۔ وہ آدمی کہنے لگا میں اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا ہوں۔ پہلے اس کا نام بادلوں پر لکھا تو ہوا ان کو لے اڑی پھر میں نے اس کا نام درختوں کے پتوں پر لکھا لیکن وہ پتے بھی خشک ہوگئے ۔ پھر میں نے اس کا نام پانی پر لکھا موجیںا سے پہا لے گئیں۔ میں نے اس کانام اپنے دل پر لکھ لیا بس پھر کیا تھا کہ دل کا دورہ پر گیا۔۔۔۔۔
ایک قیدی جیل سے فرار ہوگیا ۔لیکن دوسرے دن ہی واپس جیل میں آگیا۔ جیلر نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا۔ کل جب میں جیل سے فرار ہوا تو سارا دن خود کو چھپاتا رھا۔ رات کو جب مجھے یقین ہوگیا کہ میری تلاش رک گئی ہے تو میں اپنے گھر پہنچا تو میری بیوی کہنے لگی کہ خبروں میں تو آیا تھا تم آج صبح سے فرار ہو یہ  سارا  دن کس کے پاس
گزار کر آئے ہو۔ بس میں نے سوچا گھر سے جیل ہی بہتر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک صاحب نے شادی کی پچاسویں سالگرہ منائی تو ایک آدمی نے کامیاب ازدواجی زندگی کا راز ہوچھا تو کہنے لگے بس شادی والے دن ایک بزرگ کی بات پلے باندھ لی تھی، اس لئے۔۔۔ آدمی نے حیرت پوچھا بزرگ نے کیا نصیحت کی تھی ،ان صاحب نے جواب دیا بزرگ نے فرمایا تھا جب بھی بیوی کی کسی بات پر غصہ آئے تو گھر سے باہر نکل جانا۔۔اس آدمی نے کہا تو پھر؟ وہ صاحب بولے بس پھر کیا،  پچاس سال سڑکوں پر ہی گزر گئے ہیں

 بس بس کیا کروں قلم بہکنے لگا ہے ۔بس۔۔ بہت مسکرا لیا ۔۔۔کہیں مسکراہٹیں  سنجیدگی میں نہ بدل جائیں ۔۔ اور  پھر اعتراض اٹھنے لگیں گے
میم سین

Friday, April 11, 2014

کمنٹس




  • مرد کی طبیعت میں احساس کمتری ہوتا ہے اور وہ اسی کمی کو بیویوں پر تنقید اور طنز کے ساتھ پورا کرتے ہیں۔ مرد ناشکرا ہوتا ہے اور جلد باز بھی ۔ بیوی کے کھانے میں ایک بار نمک تیز ہوجائے تو مرد اس بات کو ایک ماہ تک نہیں بھولتا لیکن اگر مرد سے کپڑے دھوتے ہوئی کوئی کپڑا خراب ہوجائے تو بیویاں اگلے دن ہی اس سانحے کو بازار جا کر بھلا دیتی ہیں۔ مارک ٹوین سے جب کسی نے پوچھا کہ لگتا ہے کہ آپ کی شادی ہوگئی ہے تو تو مارک نے حیرت سے پوچھا کیسے جانا ؟؟؟؟ آپ کے رفو شدہ جرابوں سے ۔۔۔ مارک نے ہنس کر کہا کہ ہاں میری بیوی نے مجھے سب سے پہلے موزے رفو کرنا ہی سکھائے تھے۔۔۔۔کچھ ایسا ہی واقعہ ریڈیو پاکستان کے ایک سینئر پرڈیوسر کا ہے۔جن کے دوستوں نے جب ان کی بیوی کی تعریف ی کہ چلو شادی کا ایک فائدہ ہوا کہ اب آپ وقت پر دفتر آجاتے ہیں تو پرڈیوسر نے جواب دیا ہاں پہلے ہوٹل پر رش کی وجہ لیٹ ہوجاتا تھا لیکن اب میری بیوی نے مجھے ناشتہ بنانا جو سکھا دیا ہے۔۔۔۔ ۔ابھی کل کی بات ہے ستیانہ روڈ پر ایک خاتون گاڑی کو بیک گیئر میں پھنسا کر اپنے بیچھے ساری ٹریفک کوبند کر رکھا تھا۔ وہ تو اللہ بھلا کرے ٹریفک وارڈن کا جس نے خاتون کو پہلے گیئر کا بتا کر گاڑی کو نکالا ورنہ رات سڑک پر گزر جانا تھی۔ میں نے جی بھر کر اس خاتون کو کوسا کیونکہ وہ میری بیوی نہیں تھی ۔ کیونکہ میں نے آئندہ سے بیویوں پر تنقید کرنا چھوڑ دی ہے

Monday, March 31, 2014

ہنسیئے

ایک آدمی نے اپنی ساس سے شکائیت لگائی کہ میں آپ کی بیٹی میں ایک ہزار خامیاں ڈھونڈ سکتا ہوں۔ساس نے تحمل سے اس کی بات سنی اور آہ بھر کے کہا تم سہی کہتے ہو تبھی تو اسے کوئی اچھا رشتہ نہیں ملا

Smile

Dear wife, if I am smiling while reading text messages on cell, does not mean I have a girl friend.

نریش کمار شاد

سوچتے سوچتے پھر مجھ کو خیال آتا ہے
وہ میرے رنج ومصائب کا مداواتو نہ تھی
رنگ افشاں تھی مرے دل کے خلاؤں میں مگر
ایک عورت تھی علاجِ غم دنیا تو نہ تھی
میرے ادراک کے ناسور تو رستے رستے
میری ہو کر بھی سہی میرے لئے کیا کر لیتی
حسرت ویاس کی گمبھیر اندھیرے میں بھلا
ایک نازک سی کرن ساتھ کہاں تک دیتی
اس کو رہنا تھا زرو سیم کے ایوانوں میں
رہ بھی جاتی میرے ساتھ تو رہتی کب تک
ایک مغرور سہو کار کی پیاری بیٹی
بھوک اور پیاس کی تکلیف کو سہتی کب تک
ایک شاعر کی تمناؤں کو دھو کہ دے کر
اس نے توڑی ہےاگر پیار بھرے گیت کی لے
اس پہ افسوس ہےکیوں،اس پہ تعجب کیسا
یہ محبت بھی تو احساس کا ایک دھو کہ ہے
پھر بھی انجانے میں جب شہر کی راہوں میں کبھی
دیکھ لیتا ہوں دوشیزہ جمالوں کے ہجوم
روح پر پھیلنے لگتا ہےاداسی کا ہجوم
ذہن میں رینگنے لگتے ہیں خیالوں کے ہجوم
سوچتے سوچتے پھر مجھ کو خیال آتا ہے
وہ مرے رنج ومصائب کا مداوا تو نہ تھی
رنگ افشاں تھی مرے دل کے خیالوں میں مگر
ایک عورت تھی علاج غم دنیا تو نہ تھی

Sunday, March 30, 2014

مجاز

اب میرے پاس تم آئی ہو، تو کیا آئی ہو
میں نے مانا کہ تم اک پیکر_ رعنائی ہو
چمن_ دہر میں روح_ چمن آرائی ہو
طلعت_ مہر ہو، فردوس کی برنائی ہو
بنت_ مہتاب ہو، گردوں سے اتر آئی ہو
مجھ سے ملنے میں اب اندیشۂ_ رسوائی ہے
میں نے خود اپنے کئے کی یہ سزا پائی ہے
خاک میں، آہ، ملائی ہے جوانی میں نے
شعلہ زاروں میں جلائی ہے جوانی میں نے
شہر_ خوباں میں گنوائی ہے جوانی میں نے
خواب گاہوں میں گنوائی ہے جوانی میں نے
حسن نے جب بھی عنائت کی نظر ڈالی ہے
میرے پیمان_ محبت نے سپر ڈالی ہے
ان دنوں مجھ پہ قیامت کا جنوں طاری تھا
سر پہ سرشاری و عشرت کا جنوں طاری تھا
مہ پاروں سے محبت کا جنوں طاری تھا
شہر یاروں سے رقابت کا جنوں طاری تھا
بستر_ مخمل و سنجاب تھی دنیا میری
ایک رنگین و حسیں خواب تھی دنیا میری
کیا سنو گی میری مجروع جوانی کی پکار
میری فریاد جگر دوز میرا نالۂ_ زار
شدت_ کرب میں ڈوبی ہوئی میری گفتار
میں کہ خود اپنے مزاق طرب آگیں کا شکار
وہ گداز دل_ مرحوم کہاں سے لاؤں؟
اب وہ جزبۂ_ معصوم کہاں سے لاؤں؟
اب میرے پاس تم آئی ہو، تو کیا آئی ہو؟

first

ایک صاحب کو آپریشن کے بعد وارڈ میں شفٹ کیا گیا تو ایک نرس بار بار اسے چیک کرنے آرہی تھی۔ پاس بیٹھے بیٹے نے پوچھا سسٹر سب خیریت تو ہے؟ نرس نے جواب دیا باقی تو سب ٹھیک ہے لیکن بلڈ پریشر پورا نہیں ہورھا، بہت کم ہے۔ بیٹا لاپرواہی سے بولا آپ اس کی فکر نہ کریں۔امی کچھ دیر میں پہنچنے والی ہیں