کمنٹس کرنے والے تمام احباب اپنی ازدواجی حیثیت سے ضرور آگاہ کریں تاکہ کمنٹس کے وزن کا اندازہ ہوسکے۔ چونکہ رضوان بھائی کی طرف سے پیش کی گئی حدیث سے اختلاف کرنا ممکن نہیں اس لئے اپنی ذاتی رائے پیش کرنا شائد ممکن نہیں رھا۔۔
ویسے پوسٹ بالا کنوارگان کیلئے بہت سنجیدگی کی حامل ہے لیکن شدگان کیلئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا کہتے ہیں اپنے نسیم بھائی؟؟
زندگی مختصر نہ سہی لیکن اتنی طویل بھی نہیں کہ ہمسفر کیلئے صرف شریک حیات پر ہی انحصار کیا جائے۔سفر کی کلفتوں کے احساس کو رد کرنے کیلئے کیا ہاتھ تھامنا ضروری ہے؟ کیا احساس محبت کافی نہیں ؟ کیا صرف شریک حیات کے انتخاب کی لاٹری پر ساری زندگی کا انحصار ایک درست فیصلہ ہوگا۔؟ بات شعور کی ہے۔ انتخاب کی ہے۔ پسند نا پسند کی نہیں قسمت کے فیصلوں کی ہے۔
حسیب بھائی کی باتیں محظ لفظوں کی موسیقی ہے۔ جو شائد کسی کی فریاد بن کر نکلے تو کسی کی آہ کی بنیاد بنیں۔ ہم اپنی کیفیات اور احساسات کو دھیرے دھیرے لاشعوری طور پر اپنے ذہن میں ڈال دیتے ہیں۔۔ اور پھر ان احساسات کو لفظوں میں پرو کر ان کو ضروریات کا نام دے دیتے ہیں۔ یہ ضرورتیں مصنوعی نہیں ہیں ، جبلی ہیں لیکن ان کے استدال نرالے ہیں، انوکھے ہیں
یہ سب فرسودہ بندشیں ہیں۔ بہت معذرت کے ساتھ لیکن زندگی گزارنے کیلئے ہمسفر کی ضرورت کا یہ فلسفہ محدودیت کا احساس پیدا کرتا ہے۔ زندگی مختصر سہی لیکن بہت وسیع ہے۔ وہ بے کنارہ آسمانوں کے نیچے تاحد نظع پھیلی ہوئی ہے۔ اسے محض ایک شریک حیات کے ساتھ نتھی کر دینا کہاں کا انصاف ہے۔ ؟؟؟
ہم ایک مصنوعی معاشرے میں جی رہے ہیں۔ جہاں کی اقدار بھی مصنوعی ، معاشرت بھی۔۔۔۔ کسی کے دلی احساسات کی جھلک کو پہچاننا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ہر ذہن کا شعور وہ نہیں ہوتا جو آپ کا اپنا ہو۔ ترجیحات وہ نہیں ہوتیں ہیں جو آپ کی اپنی ہوں۔سب مشاہدے اور مطالعے کے بھی قائل نہیں ہوتے۔ سب زندگی کے تجربوں سے مسلح بھی نہیں ہوتے۔کہیں سسکتے ارمان ہوتے ہیں تو کہیں عزتوں کے نگہان درکار ہوتے ہیں۔کہیں مرعوبیت درکار ہوتی ہے تو کہیں عظمت کا سکہ بٹھانے کا داعی۔۔کہیں انوکھے جذبے تو کہیں الگ طرح کے احساسات۔ کہیں کوئی فرشتہ بننے کی کوشش میں نظر آئے گا تو کہیں کوئی گریز لہجوں میں پیش ہوگا۔ یہ سب فطری تقاضے ہیں۔ محض جواز ۔۔۔محض جواز۔۔۔
ایک جوا ہے لگ گیا تو کسی کو یاد بھی نہیں ہوگا دھوکہ کہاں سے شروع ہوتا ہے۔ اعلی و ارفع جذبے یاد رہیں گے۔ اور جو ہار گئے تو کہاں کی تمازت کہاں کا انتخاب۔۔۔۔ بس پھر فیس بک کو ٹشو پیپر کے طور پر استعمال کیا جائے گا
یہ سب نصیب کی باتیں ہیں۔ اور ہماری کوششیں اٹکل پچو۔
جب تمنائیں جوان ہوتی ہیں تو وہ خوہشوں کو اکساتی ہیں۔ انقلاب کا رستہ دکھاتی ہیں لیکن جب وقت کی گرمی کچھ اثر دکھاتی ہے تو یہ خواہشیں اوجھل ہوجاتی ہیں ۔انقلاب اپنا رنگ بدل لیتا ہے۔ جو اجکل کی ضرورتیں دکھائی دیتی ہیں کل وہ محض دل کو بہلانے کے کھلونے قرار پائیں گے۔ میری باتوں سے اختلاف ہوگا۔ بہت سے ان کو بے پر کی چھوڑی ہوئی باتیں قرار دیں گے۔ لیکن میں فطری تقاضوں کا انکاری نہیں لیکن محدودیت کا قائل بھی نہیں ہوں۔
۔جہاں سب کچھ نصیب نے اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہو وہاں کے طلسم کدے کی کنجی ڈھونڈنے کی جستجوکیسی؟
No comments:
Post a Comment