Friday, April 11, 2014

کمنٹس




  • مرد کی طبیعت میں احساس کمتری ہوتا ہے اور وہ اسی کمی کو بیویوں پر تنقید اور طنز کے ساتھ پورا کرتے ہیں۔ مرد ناشکرا ہوتا ہے اور جلد باز بھی ۔ بیوی کے کھانے میں ایک بار نمک تیز ہوجائے تو مرد اس بات کو ایک ماہ تک نہیں بھولتا لیکن اگر مرد سے کپڑے دھوتے ہوئی کوئی کپڑا خراب ہوجائے تو بیویاں اگلے دن ہی اس سانحے کو بازار جا کر بھلا دیتی ہیں۔ مارک ٹوین سے جب کسی نے پوچھا کہ لگتا ہے کہ آپ کی شادی ہوگئی ہے تو تو مارک نے حیرت سے پوچھا کیسے جانا ؟؟؟؟ آپ کے رفو شدہ جرابوں سے ۔۔۔ مارک نے ہنس کر کہا کہ ہاں میری بیوی نے مجھے سب سے پہلے موزے رفو کرنا ہی سکھائے تھے۔۔۔۔کچھ ایسا ہی واقعہ ریڈیو پاکستان کے ایک سینئر پرڈیوسر کا ہے۔جن کے دوستوں نے جب ان کی بیوی کی تعریف ی کہ چلو شادی کا ایک فائدہ ہوا کہ اب آپ وقت پر دفتر آجاتے ہیں تو پرڈیوسر نے جواب دیا ہاں پہلے ہوٹل پر رش کی وجہ لیٹ ہوجاتا تھا لیکن اب میری بیوی نے مجھے ناشتہ بنانا جو سکھا دیا ہے۔۔۔۔ ۔ابھی کل کی بات ہے ستیانہ روڈ پر ایک خاتون گاڑی کو بیک گیئر میں پھنسا کر اپنے بیچھے ساری ٹریفک کوبند کر رکھا تھا۔ وہ تو اللہ بھلا کرے ٹریفک وارڈن کا جس نے خاتون کو پہلے گیئر کا بتا کر گاڑی کو نکالا ورنہ رات سڑک پر گزر جانا تھی۔ میں نے جی بھر کر اس خاتون کو کوسا کیونکہ وہ میری بیوی نہیں تھی ۔ کیونکہ میں نے آئندہ سے بیویوں پر تنقید کرنا چھوڑ دی ہے

No comments:

Post a Comment