Tuesday, April 15, 2014

مسکرایئے

میاں بیوی کے جھگڑے۔۔۔۔ شادی کے مسائل۔۔۔۔ دوسری شادی ۔۔۔ بس کچھ ہٹ کر بھی بات کی جائے ۔ چلیں.. ذہن کو ریلیکس کریں اور کچھ بچپن کی یادیں تازہ کریں اور کٹھے میٹھے لطیفے سنیں۔ کھلکھلایئے۔۔ مسکرائیے۔۔، ہنسنا منع ہے۔۔۔، لطائف۔۔، ہا ہا ہی ہی ہو ہو۔۔۔
ایک بچے نے پیپر پر سو سو کر دیا،مس نے پوچھا یہ کیا کر دیا؟؟؟ بچے نے جواب دیا مما نے کہا تھا جو پہلے آتا ہو وہی کروں۔۔۔۔

ایک بچے نے ایک آدمی سے وقت پوچھا ، تو اس نے بتایا کہ سوا تین بجے ہیں ۔ بچے کچھ کنفیوز ہوکر بولا کہ صبح سے جس سے بھی وقت پوچھتا ہوں مختلف ہی بتا تا ہے۔۔۔۔
ایک بچہ اپنے باپ سے کہنے لگا میں دادی سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ باپ حیران ہوکر بولا لیکن یہ کیسے ممکن ہے وہ تو میری امی ہے۔۔بچہ کہنے لگااس میں کیا پریشانی والی بات کیاہے ؟آپ نے بھی تو میری امی سے شادی کی ہوئی ہے۔
ایک بچہ اور بچی سکول میں بریک کے دوران اکٹھے بیٹھے تھے۔ بچی کہنے لگی کیا  ہماری شادی ہوسکتی ہے؟ بچے نے بڑی معصومیت سے جواب دیا۔مجھے مشکل نظر آتا ہے۔ ہمارے خاندان میں صرف رشتہ داروں سے شادی ہوسکتی ہے جیسے امی کی ابو سے، بھائی کی بھابھی سے، چچا کی چچی سے، تایا کی تائی سے۔۔۔
ایک لڑکا اور لڑکی کافی عرصے سے چھپ چھپ کر مل رہے تھے۔ ایک دن لڑکی کہنے لگی میں تنگ آگئی ہوں کیوں نہ ہم شادی کر لیں۔ لڑکے نے خوش ہوکر کہا۔ میرا بھی یہی خیال ہے لیکن ہم سے شادی کرے گا کون؟
ایک دن بیوی نے نے شوہر سے پوچھا کہ کیا آپ مجھ سے پیار نہیں کرتے؟ شوہر نے جواب دیا کیوں نہیں جان۔ بیوی کہنے لگی لیکن آپ کو میری ذرا پرواہ نہیں ہے؟ شوہر نے جواب دیا کیا تم نے کہاوت سنی نہیں ہے کہ پیار کرنے والے کسی کی پروا نہیں کرتے۔
ایک آدمی کو کو دل کا دورہ پڑا ۔ ہسپتال میں ایک دوست تیمارداری کرنے آیا تو کہنے لگا تم تو ہٹے کٹے تھے یہ دل کا مرض کیسے لگ گیا ۔ وہ آدمی کہنے لگا میں اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا ہوں۔ پہلے اس کا نام بادلوں پر لکھا تو ہوا ان کو لے اڑی پھر میں نے اس کا نام درختوں کے پتوں پر لکھا لیکن وہ پتے بھی خشک ہوگئے ۔ پھر میں نے اس کا نام پانی پر لکھا موجیںا سے پہا لے گئیں۔ میں نے اس کانام اپنے دل پر لکھ لیا بس پھر کیا تھا کہ دل کا دورہ پر گیا۔۔۔۔۔
ایک قیدی جیل سے فرار ہوگیا ۔لیکن دوسرے دن ہی واپس جیل میں آگیا۔ جیلر نے وجہ پوچھی تو کہنے لگا۔ کل جب میں جیل سے فرار ہوا تو سارا دن خود کو چھپاتا رھا۔ رات کو جب مجھے یقین ہوگیا کہ میری تلاش رک گئی ہے تو میں اپنے گھر پہنچا تو میری بیوی کہنے لگی کہ خبروں میں تو آیا تھا تم آج صبح سے فرار ہو یہ  سارا  دن کس کے پاس
گزار کر آئے ہو۔ بس میں نے سوچا گھر سے جیل ہی بہتر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک صاحب نے شادی کی پچاسویں سالگرہ منائی تو ایک آدمی نے کامیاب ازدواجی زندگی کا راز ہوچھا تو کہنے لگے بس شادی والے دن ایک بزرگ کی بات پلے باندھ لی تھی، اس لئے۔۔۔ آدمی نے حیرت پوچھا بزرگ نے کیا نصیحت کی تھی ،ان صاحب نے جواب دیا بزرگ نے فرمایا تھا جب بھی بیوی کی کسی بات پر غصہ آئے تو گھر سے باہر نکل جانا۔۔اس آدمی نے کہا تو پھر؟ وہ صاحب بولے بس پھر کیا،  پچاس سال سڑکوں پر ہی گزر گئے ہیں

 بس بس کیا کروں قلم بہکنے لگا ہے ۔بس۔۔ بہت مسکرا لیا ۔۔۔کہیں مسکراہٹیں  سنجیدگی میں نہ بدل جائیں ۔۔ اور  پھر اعتراض اٹھنے لگیں گے
میم سین

No comments:

Post a Comment