Wednesday, March 18, 2015

انور مسعود


وہ جو دودھ شہد کی کھیر تھی
وہ جو نرم مثلِ حریر تھی
وہ جو آملے کا اچار تھا
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا

تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو


جو ہرن کے سیخ کباب تھے
وہ جو آپ اپنا جواب تھے
وہ جو کوئٹے کا انار تھا
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا

تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو


وہ جو سیب زینتِ باغ تھے
وہ جو شاخ شاخ چراغ تھے
وہ جو آلوؤں کو بخار تھا
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا

تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو


وہ رقیب کے جو بغیر تھی
وہ جو چاند رات کی سیر تھی
وہ جو عہدِ فصلِ بہار تھا
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا

مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا
تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

Tuesday, March 10, 2015

امجد اسلام امجد

اگر کبھی میری یاد آئے
توچاند راتوں کی نرم دلگیر روشنی میں
کِسی ستارے کو دیکھ لینا
اگر وہ نخلِ فلک سے اُڑ کر تمھارے قدموں میں آگرے تو
یہ جان لینا، وہ استعارہ تھا میرے دل کا،
اگر نہ آئے۔۔۔۔
مگر یہ ممکن ہی کس طرح ہے کہ تم کسی پر نگاہ ڈالو
تو اُس کی دیوارِ جاں نہ ٹوٹے
وہ اپنی ہستی نہ بُھول جائے!
اگر کبھی میری یاد آئے
گریز کرتی ہَوا کی لہروں پہ ہاتھ رکھنا
مَیں خوشبوؤں میں تمھیں ملوں گا۔
مجھے گلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنا
مَیں اوس قطروں کے آئینوں میں تمھیں مِلوں گا۔
اگر ستاروں میں‌، اوس قطروں میں، خوشبوؤں میں، نہ پاؤ مجھ کو
تو اپنے قدموں میں دیکھ لینا
مَیں گَرد ہوتی مسافتوں میں تمھیں مِلوں گا۔
کہیں ہی روشن چراغ دیکھو تو جان لینا
کہ ہر پتنگے کے ساتھ مَیں بھی بِکھر چُکا ہوں
تم اپنے ہاتھوں سے اِن پتنگوں کی خاک دریا میں ڈال دینا
مَیں خاک بن کر سمندروں میں سفر کروں گا۔
کِسی نہ دیکھے ہُوئے جزیرے پہ رُک کے تم کو صدائیں دُوں گا
سمندروں کے سَفر پہ نکلو تو اُس جزیرے پہ بھی اُترنا۔