کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
بہت آگے گئے، باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
نہ چھیڑ اے نکہتِ بادِ بہاری راہ لگ اپنی
تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں، ہم بیزار بیٹھے ہیں
خیال ان کا پرے ہے عرشِ اعظم سے کہیں ساقی
غرض کچھ اور دُھن میں اس گھڑی میخوار بیٹھے ہیں
بسانِ نقش پائے رہرواں کوئے تمنّا میں
نہیں اٹھنے کی طاقت، کیا کریں، لا چار بیٹھے ہیں
یہ اپنی چال ہے افتادگی سے ان دنوں پہروں
نظر آیا جہاں پر سایۂ دیوار بیٹھے ہیں
کہیں ہیں صبر کس کو، آہ ننگ و نام کیا شے ہے
غرض رو پیٹ کر ان سب کو ہم یکبار بیٹھے ہیں
کہیں بوسہ کی مت جرأت دلا کر بیٹھیو ان سے
ابھی اس حد کو وہ کیفی نہیں، ہُشیار بیٹھے ہیں
نجیبوں کا عجب کچھ حال ہے اس دور میں یارو
جسے پوچھو یہی کہتے ہیں ہم بیکار بیٹھے ہیں
نئی یہ وضع شرمانے کی سیکھی آج ہے تم نے
ہمارے پاس صاحب ورنہ یوں سو بار بیٹھے ہیں
کہاں گردش فلک کی چین دیتی ہے سنا انشا
غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں
انشأ اللہ خان انشا
بہت آگے گئے، باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں
نہ چھیڑ اے نکہتِ بادِ بہاری راہ لگ اپنی
تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں، ہم بیزار بیٹھے ہیں
خیال ان کا پرے ہے عرشِ اعظم سے کہیں ساقی
غرض کچھ اور دُھن میں اس گھڑی میخوار بیٹھے ہیں
بسانِ نقش پائے رہرواں کوئے تمنّا میں
نہیں اٹھنے کی طاقت، کیا کریں، لا چار بیٹھے ہیں
یہ اپنی چال ہے افتادگی سے ان دنوں پہروں
نظر آیا جہاں پر سایۂ دیوار بیٹھے ہیں
کہیں ہیں صبر کس کو، آہ ننگ و نام کیا شے ہے
غرض رو پیٹ کر ان سب کو ہم یکبار بیٹھے ہیں
کہیں بوسہ کی مت جرأت دلا کر بیٹھیو ان سے
ابھی اس حد کو وہ کیفی نہیں، ہُشیار بیٹھے ہیں
نجیبوں کا عجب کچھ حال ہے اس دور میں یارو
جسے پوچھو یہی کہتے ہیں ہم بیکار بیٹھے ہیں
نئی یہ وضع شرمانے کی سیکھی آج ہے تم نے
ہمارے پاس صاحب ورنہ یوں سو بار بیٹھے ہیں
کہاں گردش فلک کی چین دیتی ہے سنا انشا
غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں
انشأ اللہ خان انشا
No comments:
Post a Comment