Monday, August 11, 2014

تبصرہ

بہت خوبصورت۔۔ جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ کہیں بھی کوئی لچک یا کمزوری نہیں دکھائی دے رہی۔ ایک مکمل افسانہ۔ منظرنگاری اور اسلوب کیلئے بھرپور داد ۔بہت ہی سادہ انداز میں کہانی کا آغاز کرنے کے بعد دھیرے دھیرے جس طرح کیفیات اور احساسات کو اور ماحول کے اتار چڑھائو کو لفظوں میں ڈھالا ہے وہ لاشعوری طور پر قاری کو متاثر کرتی ہوئی اس کے ذہن میں اترتی چلی جاتی ہے۔محبت کرنا اپنی جگہ ایک تسکین لئے ہوتی ہے لیکن محبت کو کھونا بھی اسے سدا بہار بنا دیتی ہے۔انسان اپنی خواہشات تو چھوڑ سکتا ہے لیکن اپنی محبت سے دستبرادی کیلئے وہ کبھی تیار نہیں ہوتا۔وصل کے لفظ میں ہمیشہ ایک امید ہوتی ہے، ایک تسکین ہوتی ہے لیکن ہجر ہمیشہ اذیت کا نام ہوتا ہے۔ جس کے ساتھ مایوسی اور تکلیف جڑی ہوتی ہے۔لیکن محبت کے جس موڑ پر یہ کہانی لکھی گئی ہے اس نے محبت کو بھی ایک سدا کی سہاگن بنا دیا ہے۔محبت بہت مضبوط چیز ہوتی ہے اسے کوئی نہیں روک سکتا نہ سماج نہ روایات۔ نہ خاندان نہ معاشرہ۔ محبت مضبوط بناتی ہے طاقتور بناتی ہے۔نڈر اور دلیر بناتی ہے۔محبت کو دور تو کر سکتے ہو، قید بھی لیکن محبت سے دستبرادری پر مجبور نہیں۔فرقت کے صدمے ہوں یا پھر لذت الم۔ حقارت کے سبکی ہو یا پھر نظر اندازی کا غم لیکن جونہی محبت کو نمی میسر آتی ہے وہ پھر سے پنپنا شروع کردیتی ہے۔ایک نیا تعلق، ایک نیا بندھن، محبت کا نیا جنم ، محبت کا عمل تجدید۔۔۔ جس نفاست سے اختتام کیا ہے اس کے بعد اس کو ایک مکمل افسانہ قرار دیا جاسکتا ہے

No comments:

Post a Comment