Tuesday, September 9, 2014

امجد اسلام امجد

گِلہ ہوا سے نہیں ہے ہوا تو اندھی تھی
مگر وہ برگ کہ ٹُوٹے تو پھر ہرے نہ ہوئے
مگر وہ سر کہ جُھکے اور پھر کھڑے نہ ہوئے
مگر وہ خواب کہ بِکھرے تو بے نشاں ٹھہرے
مگر وہ ہاتھ کہ بِچھڑے تو استخواں ٹھہرے
گِلہ ہوا سے نہیں، تُندیٔ ہوا سے نہیں
ہنسی کے تیر چلاتی ہوئی فضا سے نہیں
عدُو کے سنگ سے اغیار کی جفا سے نہیں
گِلہ تو گِرتے مکانوں کے بام ودر سے ہے
گِلہ تو اپنے بِکھرتے ہوئے سفر سے ہے
ہوا کا کام تو چلنا ہے، اس کو چلنا تھا
کوئی درخت گِرے یا رہے، اُسے کیا ہے
گِلہ تو اہلِ چمن کے دل و نظر سے ہے
خزاں کی دُھول میں لِپٹے ہوئے شجر سے ہے
گِلہ سحر سے نہیں، رونقِ سحر سے ہے

No comments:

Post a Comment