Monday, March 31, 2014

نریش کمار شاد

سوچتے سوچتے پھر مجھ کو خیال آتا ہے
وہ میرے رنج ومصائب کا مداواتو نہ تھی
رنگ افشاں تھی مرے دل کے خلاؤں میں مگر
ایک عورت تھی علاجِ غم دنیا تو نہ تھی
میرے ادراک کے ناسور تو رستے رستے
میری ہو کر بھی سہی میرے لئے کیا کر لیتی
حسرت ویاس کی گمبھیر اندھیرے میں بھلا
ایک نازک سی کرن ساتھ کہاں تک دیتی
اس کو رہنا تھا زرو سیم کے ایوانوں میں
رہ بھی جاتی میرے ساتھ تو رہتی کب تک
ایک مغرور سہو کار کی پیاری بیٹی
بھوک اور پیاس کی تکلیف کو سہتی کب تک
ایک شاعر کی تمناؤں کو دھو کہ دے کر
اس نے توڑی ہےاگر پیار بھرے گیت کی لے
اس پہ افسوس ہےکیوں،اس پہ تعجب کیسا
یہ محبت بھی تو احساس کا ایک دھو کہ ہے
پھر بھی انجانے میں جب شہر کی راہوں میں کبھی
دیکھ لیتا ہوں دوشیزہ جمالوں کے ہجوم
روح پر پھیلنے لگتا ہےاداسی کا ہجوم
ذہن میں رینگنے لگتے ہیں خیالوں کے ہجوم
سوچتے سوچتے پھر مجھ کو خیال آتا ہے
وہ مرے رنج ومصائب کا مداوا تو نہ تھی
رنگ افشاں تھی مرے دل کے خیالوں میں مگر
ایک عورت تھی علاج غم دنیا تو نہ تھی

No comments:

Post a Comment