Tuesday, June 21, 2022

 ابھی ابھی سبز کھیتوں پر

جو دور تک مست آرزوؤں کی موج بن کر لہک رہی ہیں
سیاہ بادل جھکے ہوئے تھے
اور اب، حسین دھوپ میں نہاتی فضائیں زلفیں چھٹک رہی ہیں

طویل پٹڑی کے ساتھ رقصاں
مہیب پیڑوں کے گونچتے جُھنڈ!
دراز سایوں سے بچتی راہیں
کہ جن کی موہوم سرحدوں پر
نکل کے گاڑی کی کھڑکیوں سے،
تری نگاہیں مری نگاہیں
الگ الگ آکے تھم گئی ہیں

مجید امجد

No comments:

Post a Comment