ابھی ابھی سبز کھیتوں پر
جو دور تک مست آرزوؤں کی موج بن کر لہک رہی ہیںسیاہ بادل جھکے ہوئے تھے
اور اب، حسین دھوپ میں نہاتی فضائیں زلفیں چھٹک رہی ہیں
طویل پٹڑی کے ساتھ رقصاں
مہیب پیڑوں کے گونچتے جُھنڈ!
دراز سایوں سے بچتی راہیں
کہ جن کی موہوم سرحدوں پر
نکل کے گاڑی کی کھڑکیوں سے،
تری نگاہیں مری نگاہیں
الگ الگ آکے تھم گئی ہیں
مجید امجد
No comments:
Post a Comment