Tuesday, June 21, 2022

 جو دن کبھی نہیں بیتا وہ دن کب آئے گا

انہی دنوں میں اس اِک دن کو کون دیکھے گا

میں روز ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے
میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا

ہزار چہرے خود آرا ہیں کون جھانکے گا
مرے نہ ہونے کی ہونی کو کون دیکھے گا

تڑخ کے گرد کی تہ سے اگر کچھ پھول
کھلے بھی، کوئی تو دیکھے گا کون دیکھے گا

(مجید امجد)

No comments:

Post a Comment