جو دن کبھی نہیں بیتا وہ دن کب آئے گا
انہی دنوں میں اس اِک دن کو کون دیکھے گامیں روز ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے
میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا
ہزار چہرے خود آرا ہیں کون جھانکے گا
مرے نہ ہونے کی ہونی کو کون دیکھے گا
تڑخ کے گرد کی تہ سے اگر کچھ پھول
کھلے بھی، کوئی تو دیکھے گا کون دیکھے گا
(مجید امجد)
No comments:
Post a Comment