میں نے چاہا اسے بھول جاؤں
فراموش کر دوں وہ سب روزو شب
اس کو دیکھوں تو یوں کہ واقف نہیں
میں بھی اب اس کی طرح کسی اور کو ساتھ لے کر چلو
ہر گھڑی خوش رہوں مسکراتا پھروں بے وجہ بلا سبب
ہر گھڑی خوش رہوں مسکراتا پھروں بے وجہ بلا سبب
جب ہوا کے قدم مثل مے نوش
بے ڈھب سے پڑنے لگیں
چاندنی کھڑکیوں سے پکاڑے اگر
نگائیں چمکنے لگیں
آہٹیں کانوں میں سرگوشیاں کرکے چلنے لگیں
دست موسم کی ایجاد سے پیرہن
زرد پتے بدلنے لگیں
بخت خوابیدہ گلناز آنکھیں ملنے لگے
کاش یوں ہو
تب اس کو دیکھوں
تو وہ اجنبی سا لگے
اس کی آہٹ پر خواہشوں کے گل نہ کھلیں اور وہ پکاڑے اگر
تو اس کی آواز پر کان تک نہ دھروں
عہد رفتہ کی ہر آواز کو بھول کر
آنے والی رتوں کا سواگت کروں
اس کے چہرے کو چہروں کے اندھیروں میں اس طرح گم کروں
نہ وہ آنکھیں رہیں نہ وہ گیسو نہ وہ رت
نہ وہ آنکھیں رہیں نہ وہ گیسو نہ وہ رت
میں نے چاہا اسے بھول جاؤں
فراموش کردوں سب مگر۔۔۔۔۔۔
No comments:
Post a Comment