Tuesday, January 30, 2018

نامعلوم


میں نے چاہا اسے بھول جاؤں 
فراموش کر دوں وہ سب روزو شب
اس کو دیکھوں تو یوں کہ واقف نہیں
میں بھی اب اس کی طرح  کسی اور کو ساتھ لے کر چلو
ہر گھڑی خوش رہوں مسکراتا پھروں بے وجہ بلا سبب 
جب ہوا کے قدم مثل مے نوش
بے ڈھب سے پڑنے لگیں
چاندنی کھڑکیوں سے پکاڑے اگر
نگائیں چمکنے لگیں
آہٹیں کانوں میں سرگوشیاں کرکے چلنے لگیں
دست موسم کی ایجاد سے پیرہن
زرد پتے بدلنے لگیں
بخت خوابیدہ گلناز آنکھیں ملنے لگے
کاش یوں ہو
تب اس کو دیکھوں
تو وہ اجنبی سا لگے
اس کی آہٹ پر خواہشوں کے گل نہ کھلیں اور وہ پکاڑے اگر
تو اس کی آواز پر کان تک نہ دھروں
عہد رفتہ کی ہر آواز کو بھول کر
آنے والی رتوں کا سواگت کروں
اس کے چہرے کو چہروں کے اندھیروں میں اس طرح گم کروں
 نہ وہ آنکھیں رہیں نہ وہ گیسو نہ وہ رت
میں نے چاہا اسے بھول جاؤں 
فراموش کردوں سب مگر۔۔۔۔۔۔

No comments:

Post a Comment