Wednesday, June 17, 2015

ایک سوچ


یہاں سے پہلا المیہ شروع ہوتا ہے۔ ہم تعلیم کا نام تو لینے ہیں اور اس کی افادیت اور اہمیت سے بھی آگاہ ہوجاتے ہیں اور اس کے فروغ کیلئے راضی بھی ہو جاتے ہیں اور دوسروں کو کر بھی لیتے ہیں ۔ لیکن کیا ہمارا نظام تعلیم، تعلیم کے ساتھ تربیت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس نے پمارے نظام تعلیم پر ہمیشہ بیسیوں انگلیاں کھڑی کر رکھی ہیں ۔۔ ہمارے تعلیمی ادارے تو اس شعور کو بھی چھین رہے ہیں جو وہ گھر سے لیکر آتے ہیں

ڈاکٹر محسن کی رائے کو آگے بڑھاتے ہوئے کہوں گا ، مسئلہ تو شروع ہی تب سے ہوتا ہے جب ہم نے عورت کو اس کے حقوق سے آگاہی دلائی۔ جب تک ہاتھ پکڑ کر جوڑے بنائے جانے کا رواج تھا تب تک تو ہمیں ڈپٹی نذیر احمد کی باتوں پر یقین کرلینے سے مسائل کا حل مل جاتا تھا۔ لیکن مسئلہ شروع ہی اکسویں صدی کے شعور سے ہوتا ہے۔ وہ شعور جو دراصل tame کئے بغیر مغرب سے لا کر ہمیں سکھا دیا گیا۔ اور ہم نے اندھی تقلید میں اس ادھورے شعور کو معاشرے پر نافذ بھی کر دیا۔ ہم بیسویں صدی کے شعور کو لیکر اکسویں صدی کی عورت کے ساتھ چل نہیں سکتے۔ لیکن اس عورت کو بھی اپنے حقوق کے ساتھ اپنے فرائض کے بارے میں سوچنا ہوگا۔۔۔۔

جہاں تک مذہب کی بات ہے تو پھر ہمیں اسے پورا موقع دینا ہوگا، محض اپنی خواہشوں کے ساتھ اس اپنی مرضی میں ڈھالنے سے مسائل الجھیں گے۔ ہاں مذہب ایک حل ہے

No comments:

Post a Comment