Rethink
Wednesday, June 17, 2015
شاعر
سسکیاں سی اٹھتی ہیں
خوف کا ماتم ہے
موت بھی رقصاں ہے
ہر شخص خون میں نہایا ہے
نہ کوئی آس نہ کنارہ ہے
پھولوں نے بھی شعلے اگلے ہیں
پتے ہیں نہ کلیاں نہ کوئی ستارہ ہے
اک بے روح سمندر ہے
اور خوف کا سہارا ہے
No comments:
Post a Comment
Newer Post
Older Post
Home
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment