Wednesday, June 17, 2015

کمنٹ

بہت خوبصورت، میری طرف سے بھی داد سمیٹ لیں۔ افسانہ معاشرے کا عکاس ہے تو کیا انگریزی کے الفاظ اس مین ہضم نہیں ہونے چاہیئں ؟ حقیقی زندگی کو جب آپ قلم سے کاغذ پر منتقل کررہے ہیں تو اسے فطرت کے قریب ہونا چاہیئے اور آج ہم جس معاشرے مین رہ رہے ہیں اس کی عکاسی کسی سٹوڈیو میں کریں گے تو وہ کیسے اپنا مفہوم ادا کر پائے گا؟ ہر دور کا ایک فہم اور شعور ہوتا ہے اشفاق احمد کا فسانہ ایک ڈرائنگ روم میں یا کسی ڈرامائی انداز میں بیان کیا جاسکتا تھا تھا لیکن آج اسے حقیقت سے قریب تر رکھنے کی ضرورت ہے،آج کا افسانہ تیزی سے ارتقا پذیر ہے اور آج افسانے کی اقدار تبدیل ہوچکی ہیں احساسات کے کئی نئے اور لطیف پہلو سامنے آچکے ہیں۔اس لئے میرے خیال میں ایسی کنکریوں کو ہضم کرنے کی ضرورت ہے

No comments:

Post a Comment