Wednesday, June 17, 2015

تبصرہ

معلوم تھا چورنگی کی چھلنی میں سے گزرتے گزرتے اس شعر نے کہیں نہ کہیں پھنس جانا ہے۔ اس لئے شاعر کا موقف اس شعر کے بارے میں جاننے کیلئے عمل کرکے عدم کو حاضر کیا گیا لیکن عمل میں کوئی غلطی رہ جانے کی وجہ سے دو روحیں حاضر ہو گئیں۔ اس زمانے میں شناختی کارڈ کا ابھی اجرا نہیں ہوا تھا ۔ اصل یا نقل کا تعین کرنا مشکل تھا اس لئے دونوں کو اصل سمجھتے ہوئے اس شعر کا پس منظر جاننے کی کوشش کی۔۔۔۔ پہلی روح کا موئوقف تھا کہ ساری عمر رب کی ذات سے بے گانہ رہے ۔ جب اس ذات کی محبت کا جذبہ دل میں بیدار ہوا تو محبت کے اظہار کیلئے کوئی رستہ معلوم نہیں تھا ۔بھارتی فلمیں اور سٹار پلس کے ڈرامے دیکھ دیکھ کر ذہن میں خدا کی عبادت کا طریقہ یہی سمجھ میں آیا کہ ایک بت اپنے لئے بنوا لوں اور اس کی عبادت شروع کر دوں۔۔ دوسری روح کو حاضر ہونے کا کہا تو اور اس سے پس منظر جاننے کی کوشش کی تو اس نے بتایا ۔ بھئی بات سادہ سی ہے ہمیں خدا سے محبت کا دعوی تو ہے لیکن مسجد کا مطابہ کیا تھا کہ مسجد میں بیٹھ کر رب سے ہمکلام ہوسکوں گا لیکن شعر میں لفظ مسجد شعر کا وزن خراب کر رہا تھا۔ لفظ بت بھی عبادت کے معنوں میں آتا ہے اور چونکہ صوفیا کرام کے نزدیک ایسی ترکیب کا استعمال غیر مقبول نہیں ہے۔ اس لئے میں نے بلا ججھک استعمال کر ڈالا

No comments:

Post a Comment