میں نے اس شخص کی آنکھوں میں فروزاں دیکھی
اس کے نکھرے ہوئی باطن کی چمک
اس کی تحریر کی خوشبو میں گُلفشاں دیکھی
اس کے مہکے ہوئے لہجے کی کھنک
اس کے کردار پردے میں نمایاں دیکھی
عظمتِ آدمِ خاکی کی جھلک
اس نے بتلایا مجھے !
کیسے فنکار کا فن
اس کے احساس کی قوّت سے جنم لیتا ہے
اس نے سکھلایا مجھے
کس طرح کوئی زمانے کو مسرّت دے کر
اپنے حصّے میں الم لیتا ہے
آسماں کون سے لوگوں کے قدم لیتا ہے !!
No comments:
Post a Comment