Monday, June 22, 2015

نامعلوم


اب کیا لکھیں ہم کاغذ پر، اب لکھنے کو کیا باقی ھے
اک دل تھا سو وہ ٹوٹ گیا، اب لٹنے کو کیا باقی ہے
ریت کے ذروں پر ہم نے اک نقش بنایا تھا
پھر ان ریت کے ذروں‌کو ہم نے دل میں‌سجایا تھا
وہ ریت تو کب کی بکھر گئی وہ نقش کہاں اب باقی ہے
اب کیا لکھیں ہم کاغذ پر، اب لکھنے کو کیا باقی ہے

No comments:

Post a Comment