ایک شہری بابو اپنی چم چم کرتی کار اور چھم چھم کرتی بیگم کے ساتھ ایک دیہاتی سڑک پر خراماں خراماں اور آس پاس کے نظاروں سے لطف اندوز ہوتا جارہا تھاکہ اچانک پکی سڑک ختم ہوگئ اور کچی سڑک کا ایک ٹوٹا آگیا، اس کچی سڑک پر بے پناہ کیچڑ تھا، اور کار کیچڑ میں پھنس، شہری بابو نے بہت زور لگایا لیکن کار اندر دھنستی چلی گئ۔۔ اتنے میں ایک دیہاتی کسان اپنے ایک گدھے کے ساتھ ادھر سے گذرا، شہری بابو نے اس سے مدد مانگی۔ کسان نے کہا کہ وہ مدد تو کر دے گا، لیکن اس کیلیئے وہ پانچ سو روپے لے گا۔ بابو نے کہا کہ ٹھیک ہے، یہ لو پیسہ۔
کسان نے رسہ ڈال کے گدھے کو جوتا، خود بھی زور لگایا اور پل میں کار کو کیچڑ سے نکال دیا۔ کسان نے کہا کہ آج یہ دسویں کار ہے جس کو ہم نے دھکا لگایا ہے۔ بابو بولا کہ سارا دن تو تم نے دھکا لگانے میں گذار دیا، کھیتی باڑی کب کرتے ہو؟ رات کو ہل چلاتے ہوگے؟
کسان بولا کہ نہیں جناب، رات کو میں ہل نہیں چلاتا، رات کو تو میں سڑک کے اس کچے ٹکڑے کو پانی لگاتا ہوں
No comments:
Post a Comment