مسلم لیگ ں کا موجودہ صورتحال پر تلملانا بالکل جائز ہے اور شائد حق بھی ہے۔ پانچ سال پہلے جب پہلی ساڈی تے اگلی واری تھہاڈی کا معاہدہ ہوا تھا ۔ اس پر عمل درآمد کیلئے کون کون سے طعنے نہین سہے تھے۔ ریمنڈ ڈیوڈ کیس سے لیکر ڈرون حملوں تک، رینٹل پاور کے ایشوز سے لیکر مالیاتی سکینڈلز تک، سلالہ کا مسئلہ ہو یا کیری لوگر بل کا تنازعہ، لوڈشیڈنگ کا ڈرامہ رچایا گیا ہو یا نئے صوبوں کا قیام۔۔۔۔۔۔کون کون سے طعنے نہیں سنے۔۔۔۔۔دل کے اٹیک کا بھی ڈرامہ کیا تو کبھی مکمل چیک اپ کی بہانے ملک سے دور رہے۔ چار سال بیماریوں کا ڈرامہ رچاتے رچاتے جب معاہدے کے دوسرے حصے پر عمل درآمد کا وقت آیا تو بلے کو میدان میں دھکیل دیا۔۔۔۔ ہو ماہ لندن اور زیورخ کے ڈاکٹروں کے مکلمل آرام کی نصیحت بھی اب نظر انداز کر دی ہے؟؟؟۔ جو ا نیس سو ستانوے کے الیکشن کے رزلٹ کے خواب تھے ان پر پہڑے بٹھا دیئے ہیں۔۔۔ اب پانچ سال تک طعنے سننے کے بعد اور تھکا دینے والی ادا کاری کے بعد بھی حق دار کو حق نہ ملے تو تلملانا تو بنتا ہے۔ ۔۔۔ اب آپ زرداری کو الزام دیں یا عمران کو ؟ اسٹیبلشمنٹ کو بلیم دیں یا طالبا ن کو۔۔۔ مجھے آپ سے ہمدردی ہے۔۔۔ پانچ سال کے صبر کا پھل اتنا کڑوہ اور اتنا مشکل، اب
مینگنیاں ڈال کر دودھ مل بھی گیا تو حکومت کا کیا مزہ۔۔ ایک بار تو تڑاہ نکل گیا ہے نا
No comments:
Post a Comment