میں گیان ، دھیان کا بندہ تو نہیں ہوں۔لیکن میں وجدانی طور پر ڈاکٹر صاحب کے درد کو محسوس کر سکتا ہوں۔جن سینوں میں ارمان ہوں، ولولے اور تمنائیں ہوں وہ رسمی اور دنیاوی بیماریوں سے دور ہوتے ہیں۔ ان کے جسم کبھی کرب کا شکار نہیں ہوتی۔ وہ ہمیشہ روح کے گھائو کا شکار ہوتے ہیں۔ شدت جذبات کے احساس سے دور رہیں گے تو ایک نئی صبح سے ہمکنار ہو جائیں گے سر درد تو کیا ان کی روح بھی توانا ہوجائے گی :) چلیں جی ڈاکٹر صاحب کسی بن میں دو دن بسرام کریں ۔۔۔۔سر درد انشاللہ فشوں۔۔۔۔ بن میں جانے کو جی نہ چاہے تو ایک آدھ دن کیلئے ہمیں رونق بخش دیں
دماغ جسم کا ایک عضو ہے۔ اسے بھی دوسرے اعضا کی طرح آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔مجھے لگتا ہے زیادہ استعمال کی وجہ سے لیکٹیک ایسڈ جمع ہوگیا ہے :) آپ کے اندر جو کشمکش ہے، جو الجھنیں ہیں ان کا ردعمل کہیں نہ کہیں تو نکلنا ہے۔ کب تک قلم آپ کے اندر طغیانیوں کے دبائو کو کم کرتا رہے گا۔جب زندگی کے بوجھ کا احساس کریں گے اوراحساس کو محسوسات میں ڈھالیں گے تو سر درد تو دور کی بات ہے ، راکھ کی طرح سلگھنا بھی شروع کرسکتے ہے۔جو شخص خود محبت کی فراوانی لئے ہوئے ہو، جو زندگی کے مفہوم کے انکشافات کا سامنا کرنے کیلئلے ہر دم تیار رہتا ہو۔ اس کیلئے سر درد کوئی معنی نہیں رکھتا۔کسی کے ہونٹوں کی مسکان دل میں گلاب کھلا دے گی،کسی کی متبسم آنکھیں سر درد ہٹا دیں گی :) میری مانیں چند دن کیلئے حد سے بڑھے احساس کو کچھ لمحوں کا سکون دے دیں۔ میری مانیں تو کچھ آرام کریں۔کچھ دیر انسان کے بنے اس سماج سے دور رہ کر دیکھیں۔
دماغ جسم کا ایک عضو ہے۔ اسے بھی دوسرے اعضا کی طرح آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔مجھے لگتا ہے زیادہ استعمال کی وجہ سے لیکٹیک ایسڈ جمع ہوگیا ہے :) آپ کے اندر جو کشمکش ہے، جو الجھنیں ہیں ان کا ردعمل کہیں نہ کہیں تو نکلنا ہے۔ کب تک قلم آپ کے اندر طغیانیوں کے دبائو کو کم کرتا رہے گا۔جب زندگی کے بوجھ کا احساس کریں گے اوراحساس کو محسوسات میں ڈھالیں گے تو سر درد تو دور کی بات ہے ، راکھ کی طرح سلگھنا بھی شروع کرسکتے ہے۔جو شخص خود محبت کی فراوانی لئے ہوئے ہو، جو زندگی کے مفہوم کے انکشافات کا سامنا کرنے کیلئلے ہر دم تیار رہتا ہو۔ اس کیلئے سر درد کوئی معنی نہیں رکھتا۔کسی کے ہونٹوں کی مسکان دل میں گلاب کھلا دے گی،کسی کی متبسم آنکھیں سر درد ہٹا دیں گی :) میری مانیں چند دن کیلئے حد سے بڑھے احساس کو کچھ لمحوں کا سکون دے دیں۔ میری مانیں تو کچھ آرام کریں۔کچھ دیر انسان کے بنے اس سماج سے دور رہ کر دیکھیں۔
No comments:
Post a Comment