شام سمے ایک اُونچی سیڑھوں والے گھر کے آنگن میںچاند کو اُترے دیکھا ہم نے، چاند بھی کیسا؟ پورا چاندانشاء جی ان چاہنے والی، دیکھنے والی آنکھوں نےملکوں ملکوں، شہروں شہروں، کیسا کیسا دیکھا چاندہر اک چاند کی اپنی دھج تھی، ہر اک چاند کا اپنا روپلیکن ایسا روشن روشن، ہنستا باتیں کرتا چاند ؟درد کی ٹھیس بھی اٹھتی تھی، پر اتنی بھی، بھرپور کبھی؟آج سے پہلے کب اترا تھا دل میں میرے گہرا چاند !ہم نے تو قسمت کے در سے جب پائے، اندھیرے پائےیہ بھی چاند کا سپنہ ہوگا، کیسا چاند کہاں کا چاند ؟انشاء جی دنیا والوں میں بےساتھی بے دوست رہےجیسے تاروں کے جھرمٹ میں تنہا چاند، اکیلا چاندان کا دامن اس دولت سے خالی کا خالی ہی رہاورنہ تھے دنیا میں کتنے چاندی چاند اور سونا چاندجگ کے چاروں کوٹ میں گھوما، سیلانی حیران ہوااس بستی کے اس کوچے کے اس آنگن میں ایسا چاند ؟آنکھوں میں بھی، چتون میں بھی، چاندہی چاند جھلکتے ہیںچاند ہی ٹیکا، چاند ہی جھومر، چہرہ چاند اور ماتھا چاندایک یہ چاندنگر کا باسی، جس سے دور رہا سنجوگورنہ اس دنیا میں سب نے چاہا چاند اور پایا چاندامبر نے دھرتی پر پھینکی نور کی چھینٹ اداس اداسآج کی شب تو آندھی شب تھی، آج کدھر سے نکلا چاندانشاء جی یہ اور نگر ہے، اس بستی کی رِیت یہی ہےسب کی اپنی اپنی آنکھیں، سب کا اپنا اپنا چانداپنا سینے کے مطلع پر جو بھی چمکا وہ چاند ہواجس نے مَن کے اندھیارے میں آن کیا اُجیارا چاندچنچل مسکاتی مسکاتی گوری کا مُکھڑا مہتابپت جھڑ کے پیڑوں میں اٹکا، پیلا سا اِک پتہ چانددکھ کا دریا، سُکھ کا ساگر، اس کے دم سے دیکھ لئےہم کو اپنے ساتھ ہی لے کر ڈوبا اور اُبھرا چاندروشنیوں کی پیلی کرنیں، پورب پچھم پھیل گئیںتو نے کس شے کےدھوکے میں پتھر پہ دے ٹپکا چاندہم نے تو دونوں کو دیکھا، دونوں ہی بےدرد کٹھوردھرتی والا، امبر والا، پہلا چاند اور دوجا چاندچاند کسی کا ہو نہیں سکتا، چاند کسی کا ہوتا ہے ؟چاند کی خاطر زِد نہیں کرتے، اے میرے اچھے انشاء چاند
No comments:
Post a Comment